سنن أبي داود حدیث نمبر: 3647
Sunan Abi Dawud 3647
کتاب #26: کتاب: علم کے مسائل
3: باب فِي كِتَابَةِ الْعِلْمِ
باب: علم کے لکھنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، قَالَ: دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ حَدِيثٍ، فَأَمَرَ إِنْسَانًا يَكْتُبُهُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَنَا أَنْ لَا نَكْتُبَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ، فَمَحَاهُ".
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے ایک حدیث کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے ایک شخص کو اس حدیث کے لکھنے کا حکم دیا، تو زید رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کی حدیثوں میں سے کچھ نہ لکھیں تو انہوں نے اسے مٹا دیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3647]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ ممانعت پہلے تھی جب احادیث کے قرآن کے ساتھ خلط ملط ہوجانے کا اندیشہ تھا، بعد میں کتابت حدیث کی اجازت دے دی گئی جیسا کہ پہلی روایت سے واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ المطلب لم يسمع من زيد بن ثابت رضي اللّٰه عنه (انظر جامع التحصيل ص281) ولم يلق معاوية رضي اللّٰه عنه ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3740)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/182) (ضعیف الإسناد) (اس کے راواة کثیر اور مطلب متکلم فیہ ہیں)