سنن أبي داود حدیث نمبر: 3645
Sunan Abi Dawud 3645
کتاب #26: کتاب: علم کے مسائل
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ خَارِجَةَ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَعَلَّمْتُ لَهُ كِتَابَ يَهُودَ، وَقَالَ: " إِنِّي وَاللَّهِ مَا آمَنُ يَهُودَ عَلَى كِتَابِي، فَتَعَلَّمْتُهُ، فَلَمْ يَمُرَّ بِي إِلَّا نِصْفُ شَهْرٍ حَتَّى حَذَقْتُهُ، فَكُنْتُ أَكْتُبُ لَهُ إِذَا كَتَبَ، وَأَقْرَأُ لَهُ إِذَا كُتِبَ إِلَيْهِ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے آپ کی خاطر یہودیوں کی تحریر سیکھ لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اللہ کی میں اپنی خط و کتابت کے سلسلہ میں یہودیوں سے مامون نہیں ہوں“ تو میں اسے سیکھنے لگا، ابھی آدھا مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ میں نے اس میں مہارت حاصل کر لی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لکھوانا ہوتا تو میں ہی لکھتا اور جب کہیں سے کوئی مکتوب آتا تو اسے میں ہی پڑھتا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3645]
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أخرجه الترمذي (2715 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ الأحکام 40 (7195 تعلیقًا)، سنن الترمذی/الاستئذان 22 (2715)، (تحفة الأشراف: 3702)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/186) (حسن صحیح)