سنن أبي داود حدیث نمبر: 3644
Sunan Abi Dawud 3644
کتاب #26: کتاب: علم کے مسائل
2: باب رِوَايَةِ حَدِيثِ أَهْلِ الْكِتَابِ
باب: اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کی باتوں کی روایت کا حکم۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي نَمْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ مُرَّ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَتَكَلَّمُ هَذِهِ الْجَنَازَةُ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّهَا تَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَدَّثَكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَلَا تُصَدِّقُوهُمْ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ، وَقُولُوا: آمَنَّا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ، فَإِنْ كَانَ بَاطِلًا لَمْ تُصَدِّقُوهُ، وَإِنْ كَانَ حَقًّا لَمْ تُكَذِّبُوهُ".
ابونملہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس ایک یہودی بھی تھا کہ اتنے میں ایک جنازہ لے جایا گیا تو یہودی نے کہا: اے محمد! کیا جنازہ بات کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بہتر جانتا ہے“ یہودی نے کہا: جنازہ بات کرتا ہے (مگر دنیا کے لوگ نہیں سنتے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو بات تم سے اہل کتاب بیان کریں نہ تو تم ان کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ یوں کہو: ہم ایمان لائے اللہ اور اس کے رسولوں پر، اگر وہ بات جھوٹ ہو گی تو تم نے اس کی تصدیق نہیں کی، اور اگر سچ ہو گی تو تم نے اس کی تکذیب نہیں کی“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3644]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ نملة بن أبي نملة مستور كما في التحرير (7189) وثقه ابن حبان وحده (485/5) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 130
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ، أبوداود، (تحفة الأشراف: 12177)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/136) (ضعیف) (اس کے راوی ابن ابی نملہ لین الحدیث ہیں)