سنن أبي داود حدیث نمبر: 3408
Sunan Abi Dawud 3408
کتاب #23: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
35: باب فِي الْمُسَاقَاةِ
باب: مساقاۃ یعنی درختوں میں بٹائی کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کو زمین کے کام پر اس شرط پہ لگایا کہ کھجور یا غلہ کی جو بھی پیداوار ہو گی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا تمہیں دیں گے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3408]
💡 وضاحت:
۱؎: مساقاۃ یہ ہے کہ باغ کا مالک اپنے باغ کو کسی ایسے شخص کے حوالہ کر دے جو اس کی پوری نگہداشت کرے پھر اس سے حاصل ہونے والے پھل میں دونوں برابر کے شریک ہوں، مساقاۃ مزارعت ہی کی ایک شکل ہے فرق یہ ہے کہ مساقاۃ کا تعلق درختوں سے ہے جب کہ مزارعت کا تعلق کھیتی سے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (2329) صحيح مسلم (1551)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحرث 8 (2329)، صحیح مسلم/المساقاة 1 (1551)، سنن الترمذی/الأحکام 41 (1383)، سنن ابن ماجہ/الرھون 14 (2467)، (تحفة الأشراف: 8138)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/17، 22، 37)، سنن الدارمی/البیوع 71 (2656) (صحیح)