سنن أبي داود حدیث نمبر: 3412
Sunan Abi Dawud 3412
کتاب #23: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
35: باب فِي الْمُسَاقَاةِ
باب: مساقاۃ یعنی درختوں میں بٹائی کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ، عَنْ مِقْسَمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ زَيْدٍ، قَالَ: فَحَزَرَ النَّخْلَ، وَقَالَ: فَأَنَا أَلِي جُذَاذَ النَّخْلِ، وَأُعْطِيكُمْ نِصْفَ الَّذِي قُلْتُ.
مقسم سے (مرسلاً) روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت خیبر فتح کیا، پھر آگے انہوں نے زید کی حدیث (پچھلی حدیث) کی طرح حدیث ذکر کی اس میں ہے پھر عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کھجور کا اندازہ لگایا، (اور جب یہودیوں نے اعتراض کیا) تو آپ نے کہا: اچھا کھجوروں کے پھل میں خود توڑ لوں گا، اور جو اندازہ میں نے لگایا ہے، اس کا نصف تمہیں دے دوں گا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3412]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ انظر الحديث السابق (2410)
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: (3410)، (تحفة الأشراف: 6494) (صحیح الإسناد) (اگلی دونوں روایتوں سے تقویت پاکر یہ روایت صحیح ہے، ورنہ خود یہ مرسل روایت ہے)