سنن أبي داود حدیث نمبر: 3407
Sunan Abi Dawud 3407
کتاب #23: کتاب: خرید و فروخت کے احکام و مسائل
34: باب فِي الْمُخَابَرَةِ
باب: مخابرہ (یعنی مزارعت) کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُخَابَرَةِ، قُلْتُ: وَمَا الْمُخَابَرَةُ؟، قَالَ: أَنْ تَأْخُذَ الْأَرْضَ بِنِصْفٍ، أَوْ ثُلُثٍ، أَوْ رُبْعٍ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے روکا ہے، میں نے پوچھا: مخابرہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: مخابرہ یہ ہے کہ تم زمین کو آدھی یا تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر لو ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 3407]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد بٹائی کی وہ صورتیں ہیں جن میں فریقین کے اندر اختلاف پیدا ہونے کے اسباب ہوتے ہیں کیوں کہ بٹائی آپ سے صحیح احادیث سے ثابت ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3699)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/187) (صحیح)