سنن أبي داود حدیث نمبر: 2843
Sunan Abi Dawud 2843
کتاب #16: کتاب: قربانی کے مسائل
21: باب فِي الْعَقِيقَةِ
باب: عقیقہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِت، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ: كُنَّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا وُلِدَ لِأَحَدِنَا غُلامٌ ذَبَحَ شَاةً وَلَطَخَ رَأْسَهُ بِدَمِهَا، فَلَمَّا جَاءَ اللَّهُ بِالإِسْلامِ كُنَّا نَذْبَحُ شَاةً وَنَحْلِقُ رَأْسَهُ وَنُلَطِّخُهُ بِزَعْفَرَانِ.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں جب ہم میں سے کسی کے ہاں لڑکا پیدا ہوتا تو وہ ایک بکری ذبح کرتا اور اس کا خون بچے کے سر میں لگاتا، پھر جب اسلام آیا تو ہم بکری ذبح کرتے اور بچے کا سر مونڈ کر زعفران لگاتے تھے (خون لگانا موقوف ہو گیا) ۱؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2843]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث سمرہ کی حدیث نمبر (۲۸۳۷) کی ناسخ ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4158)
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1964) (حسن صحیح)