سنن أبي داود حدیث نمبر: 2835
Sunan Abi Dawud 2835
کتاب #16: کتاب: قربانی کے مسائل
21: باب فِي الْعَقِيقَةِ
باب: عقیقہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا، قَالَتْ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لَا يَضُرُّكُمْ أَذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا".
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں بیٹھے رہنے دو (یعنی ان کو گھونسلوں سے اڑا کر تکلیف نہ دو)“، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے: ”لڑکے کی طرف سے (عقیقہ میں) دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اور تمہیں اس میں کچھ نقصان نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2835]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (4152) ¤ أخرجه النسائي (4222 وسنده حسن) والحميدي (346 وسنده صحيح)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/العقیقة 3 (4223، 4222)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 1 (3162)، (تحفة الأشراف: 18347)، وقد أخرجہ: دی/ الأضاحی 9 (2011) (ضعیف) (یہ حدیث ضعیف ہے،اس کی سند میں اضطراب ہے، عقیقہ سے متعلق حدیث کے لئے اوپر اور نیچے کی احادیث دیکھئے، ملاحظہ ہو: صحیح ابوداود 8/183)