سنن أبي داود حدیث نمبر: 2842
Sunan Abi Dawud 2842
کتاب #16: کتاب: قربانی کے مسائل
21: باب فِي الْعَقِيقَةِ
باب: عقیقہ کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ أُرَاهُ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ: " لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْعُقُوقَ"، كَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ وَقَالَ: مَنْ وُلِدَ لَهُ وَلَدٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَنْسُكَ عَنْهُ فَلْيَنْسُكْ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ، وَسُئِلَ عَنِ الْفَرَعِ قَالَ: وَالْفَرَعُ حَقٌّ وَأَنْ تَتْرُكُوهُ حَتَّى يَكُونَ بَكْرًا شُغْزُبًّا ابْنَ مَخَاضٍ، أَوِ ابْنَ لَبُونٍ فَتُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً أَوْ تَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ فَيَلْزَقَ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ، وَتَكْفِئَ إِنَاءَكَ وَتُوّلِهُ نَاقَتَكَ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ «عقوق» (ماں باپ کی نافرمانی) کو پسند نہیں کرتا“ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام کو ناپسند فرمایا، اور مکروہ جانا، اور فرمایا: ”جس کے یہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اپنے بچے کی طرف سے قربانی (عقیقہ) کرنا چاہے تو لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں کرے، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «فرع» کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ” «فرع» حق ہے اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ اونٹ جوان ہو جائے، ایک برس کا یا دو برس کا، پھر اس کو بیواؤں محتاجوں کو دے دو، یا اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے دے دو، یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کو (پیدا ہوتے ہی) کاٹ ڈالو کہ گوشت اس کا بالوں سے چپکا ہو (یعنی کم ہو) اور تم اپنا برتن اوندھا رکھو، (گوشت نہ ہو گا تو پکاؤ گے کہاں سے) اور اپنی اونٹنی کو بچے کی جدائی کا غم دو“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2842]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (4156)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/العقیقة 1 (4217)، (تحفة الأشراف: 19169، 8700)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/182، 183، 194) (حسن)