سنن أبي داود حدیث نمبر: 2296
Sunan Abi Dawud 2296
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
40: باب مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ
باب: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا پر نکیر کرنے والوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا مَيْمُونُ بْنُ مِهْرَانَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدُفِعْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، فَقُلْتُ: " فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طُلِّقَتْ فَخَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا"، فَقَالَ سَعِيدٌ: " تِلْكَ امْرَأَةٌ فَتَنَتِ النَّاسَ، إِنَّهَا كَانَتْ لَسِنَةً فَوُضِعَتْ عَلَى يَدَيْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى".
میمون بن مہران کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو سعید بن مسیب کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو طلاق دی گئی تو وہ اپنے گھر سے چلی گئی (ایسا کیوں ہوا؟) تو سعید نے جواب دیا: اس عورت نے لوگوں کو فتنے میں مبتلا کر دیا تھا کیونکہ وہ زبان دراز تھی لہٰذا اسے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس رکھا گیا جو نابینا تھے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2296]
قال الشيخ الألباني:
صحيح مقطوع
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف ¤ السند حسن إلي سعيد بن المسيب ولكنه لم يذكر من حدثه بھذا فالخبر منقطع ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 86
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18021) (صحیح) (لیکن ابن المسیب کا یہ بیان خلاف واقعہ، یعنی، فاطمہ کی منتقلی تین طلاق کے سبب تھی)