سنن أبي داود حدیث نمبر: 2298
Sunan Abi Dawud 2298
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، "وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لأَزْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240، فَنُسِخَ ذَلِكَ بِآيَةِ الْمِيرَاثِ بِمَا فُرَضَ لَهُنَّ مِنَ الرُّبُعِ وَالثُّمُنِ، وَنُسِخَ أَجَلُ الْحَوْلِ بِأَنْ جُعِلَ أَجَلُهَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کا فرمان «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» ”اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے“ (سورۃ البقرہ: ۲۴۰) میراث کی آیت نازل ہو جانے کے بعد منسوخ ہو گیا کیونکہ اس میں ان کے لیے چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کر دیا گیا ہے اسی طرح ایک سال تک نہ نکلنے کا حکم چار مہینے دس دن کی عدت کا حکم آ جانے کے بعد منسوخ ہو گیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2298]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أخرجه النسائي (3573 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن النسائی/الطلاق 69 (3573)، (تحفة الأشراف: 6250، 19114)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/التفسیر 41 (4531)، الطلاق 50(5344) (حسن)