سنن أبي داود حدیث نمبر: 2292
Sunan Abi Dawud 2292
کتاب #13: کتاب: طلاق کے فروعی احکام و مسائل
40: باب مَنْ أَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ
باب: فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا پر نکیر کرنے والوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقَدْ عَابَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَشَدَّ الْعَيْبِ يَعْنِي حَدِيثَ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، وَقَالَتْ: إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا، فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر سخت نکیر کرتی تھیں اور کہتی تھیں: چونکہ فاطمہ ایک ویران مکان میں رہتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں خدشہ لاحق ہوا اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (مکان بدلنے کی) رخصت دی تھی۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2292]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ أخرجه ابن ماجه (2032 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الطلاق 41 (5326)تعلیقاً، سنن ابن ماجہ/الطلاق 8 (2032)، (تحفة الأشراف: 17018) (حسن)