سنن أبي داود حدیث نمبر: 2170
Sunan Abi Dawud 2170
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
49: باب مَا جَاءَ فِي الْعَزْلِ
باب: عزل کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي الْعَزْلَ، قَالَ: " فَلِمَ يَفْعَلُ أَحَدُكُمْ، وَلَمْ يَقُلْ: فَلَا يَفْعَلْ أَحَدُكُمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَتْ مِنْ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا". قَالَ أَبُو دَاوُد: قَزَعَةُ مَوْلَى زِيَادٍ.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل ۱؎ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟ (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ وہ ایسا نہ کرے)، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس نفس کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا ۲؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: قزعہ، زیاد کے غلام ہیں۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2170]
💡 وضاحت:
۱؎: عضو تناسل کو عورت کی شرمگاہ سے باہر نکال کر منی گرانے کا نام عزل ہے۔
۲؎: اس سے مطلقاً عزل کی کراہت ثابت ہوتی ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آزاد عورت سے بغیر اس کے اذن کے مکروہ ہے اور لونڈیوں سے بغیر اذن کے بھی درست ہے۔
۲؎: اس سے مطلقاً عزل کی کراہت ثابت ہوتی ہے اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آزاد عورت سے بغیر اس کے اذن کے مکروہ ہے اور لونڈیوں سے بغیر اذن کے بھی درست ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1438)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/ والتوحید 18 (7409)تعلیقًا، صحیح مسلم/النکاح 22 (1438)، سنن الترمذی/النکاح 40 (1138)، سنن ابن ماجہ/النکاح 30 (1926)، (تحفة الأشراف: 4141، 4280)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح 55 (3329)، موطا امام مالک/الطلاق 34 (95)، مسند احمد (3/22، 26، 47، 49، 51، 53، 59، 68)، سنن الدارمی/النکاح 36 (2269) (صحیح)