سنن أبي داود حدیث نمبر: 2159
Sunan Abi Dawud 2159
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
45: باب فِي وَطْءِ السَّبَايَا
باب: قیدی لونڈیوں سے جماع کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ" حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا بِحَيْضَةٍ"، زَادَ فِيهِ: حَيْضَةٍ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ صَحِيحٌ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ، زَادَ: " وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَيْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: الْحَيْضَةُ لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ، وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ.
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: ”یہاں تک کہ وہ ایک حیض کے ذریعہ استبراء رحم کر لے“، اس میں «بحيضة» کا اضافہ ہے، اور یہ ابومعاویہ کا وہم ہے اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں صحیح ہے، اور اس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے: ”اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کے جانور پر سواری نہ کرے کہ اسے دبلا کر کے واپس دے“، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کا کپڑا نہ پہنے کہ پرانا کر کے لوٹا دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ حیض کا لفظ محفوظ نہیں ہے یہ ابومعاویہ کا وہم ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2159]
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن ¤ مشكوة المصابيح (4019) ¤ انظر الحديث السابق (2158)
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 3615) (حسن)