سنن أبي داود حدیث نمبر: 2161
Sunan Abi Dawud 2161
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
46: باب فِي جَامِعِ النِّكَاحِ
باب: نکاح کے مختلف مسائل کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ، قَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا، ثُمَّ قُدِّرَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے: «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا» ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ہم کو شیطان سے بچا اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے گزند سے محفوظ رکھ“ پھر اگر اس مباشرت سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا یا شیطان اسے کبھی نقصان نہ پہنچ اس کے گا“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2161]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5165) صحيح مسلم (1434)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 8 (141)، بدء الخلق 1 (3283)، النکاح 66 (5161)، الدعوات 55 (6388)، التوحید 13 (7396)، صحیح مسلم/النکاح 18 (1434)، سنن الترمذی/النکاح 8 (1092)، سنن ابن ماجہ/النکاح 27 (1919)، (تحفة الأشراف: 6349)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/217، 220، 243، 283، 286)، سنن الدارمی/النکاح 29 (2258) (صحیح)