سنن أبي داود حدیث نمبر: 2156
Sunan Abi Dawud 2156
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
45: باب فِي وَطْءِ السَّبَايَا
باب: قیدی لونڈیوں سے جماع کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا، فَقَالَ: " لَعَلَّ صَاحِبَهَا أَلَمَّ بِهَا"، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ: " لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ، وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ".
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے“، لوگوں نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو جائے، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2156]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1441)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/النکاح 23 (1441)، (تحفة الأشراف: 10924)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/195، 6/446)، سنن الدارمی/السیر 38 (2521) (صحیح)