سنن أبي داود حدیث نمبر: 2104
Sunan Abi Dawud 2104
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
28: باب فِي تَزْوِيجِ مَنْ لَمْ يُولَدْ
باب: بچے کی پیدائش سے پہلے اس کی شادی کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، أَنَّ خَالَتَهُ أَخْبَرَتْهُ، عَنِ امْرَأَةٍ، قَالَتْ: هِيَ مُصَدَّقَةٌ امْرَأَةُ صِدْقٍ، قَالَتْ: بَيْنَا أَبِي فِي غَزَاةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذْ رَمِضُوا، فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ يُعْطِينِي نَعْلَيْهِ وَأُنْكِحُهُ أَوَّلَ بِنْتٍ تُولَدُ لِي؟ فَخَلَعَ أَبِي نَعْلَيْهِ، فَأَلْقَاهُمَا إِلَيْهِ، فَوُلِدَتْ لَهُ جَارِيَةٌ فَبَلَغَتْ، وَذَكَرَ نَحْوَهُ، لَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْقَتِيرِ.
ابراہیم بن میسرہ کی روایت ہے کہ ایک عورت جو نہایت سچی تھی، کہتی ہے: میرے والد زمانہ جاہلیت میں ایک غزوہ میں تھے کہ (تپتی زمین سے) لوگوں کے پیر جلنے لگے، ایک شخص بولا: کوئی ہے جو مجھے اپنی جوتیاں دیدے؟ اس کے عوض میں پہلی لڑکی جو میرے یہاں ہو گی اس سے اس کا نکاح کر دوں گا، میرے والد نے جوتیاں نکالیں اور اس کے سامنے ڈال دیں، اس کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی اور پھر وہ بالغ ہو گئی، پھر اسی جیسا قصہ بیان کیا لیکن اس میں «قتیر» کا واقعہ مذکور نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2104]
قال الشيخ الألباني:
ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده ضعيف ¤ خالة إبراهيم بن ميسرة،لم أقف علي من وثقھا:”وھي مجهولة“ كما في التقريب (8787) ¤ انوار الصحيفه، صفحه نمبر 79
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 18091) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک مجہول راویہ ہے)