سنن أبي داود حدیث نمبر: 2102
Sunan Abi Dawud 2102
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
27: باب فِي الأَكْفَاءِ
باب: میاں بیوی کے کفو ہونے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا هِنْدٍ حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَافُوخِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا بَنِي بَيَاضَةَ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ"، وَقَالَ: " وَإِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوُونَ بِهِ خَيْرٌ، فَالْحِجَامَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوہند نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چندیا میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: ”بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو ۱؎“، اور فرمایا: ”تین چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں کسی چیز میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانا ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2102]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفو میں اعتبار دین کا ہو گا نہ کہ نسب اور پیشہ وغیرہ کا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15019)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب 20 (3476)، مسند احمد (2/342، 423) (حسن)