سنن أبي داود حدیث نمبر: 2101
Sunan Abi Dawud 2101
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
26: باب فِي الثَّيِّبِ
باب: ثیبہ (غیر کنواری عورت) کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ الأَنْصَارِيَّيْنِ، عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ الْأَنْصَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ" فَرَدَّ نِكَاحَهَا".
خنسا بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور وہ ثیبہ تھیں تو انہوں نے اسے ناپسند کیا چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2101]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (5138)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 42 (5138)، الإکراہ 3 (6945)، الحیل 11 (6969)، سنن النسائی/النکاح 35 (3270)، سنن ابن ماجہ/النکاح 12 (1873)، (تحفة الأشراف: 15824)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح 14(25)، مسند احمد (6/328)، سنن الدارمی/النکاح 14 (2238) (صحیح)