سنن أبي داود حدیث نمبر: 2105
Sunan Abi Dawud 2105
کتاب #12: کتاب: نکاح کے احکام و مسائل
29: باب الصَّدَاقِ
باب: مہر کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْ صَدَاقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " ثِنْتَا عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشٌّ"، فَقُلْتُ: وَمَا نَشٌّ؟ قَالَتْ: نِصْفُ أُوقِيَّةٍ.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (کی ازواج مطہرات) کے مہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا ۱؎، میں نے کہا: نش کیا ہے؟ فرمایا: آدھا اوقیہ ۲؎۔ [سنن ابي داود/حدیث: 2105]
💡 وضاحت:
۱؎: بارہ اوقیہ کے (۴۸۰) درہم اورنش کے (۲۰) درہم، کل پانچ سو درہم ہوئے، جو وزن سے تیرہ سو پچھتر گرام (۱۳۷۵) کے مساوی ہے (یعنی ایک کیلو تین سو پچھتر گرام چاندی)۔
۲؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اس حساب سے ساڑھے بارہ اوقیہ کے کل پانچ سو درہم ہوئے۔
۲؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اس حساب سے ساڑھے بارہ اوقیہ کے کل پانچ سو درہم ہوئے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (1426)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/النکاح 13 (1426)، سنن النسائی/النکاح 66 (3349)، سنن ابن ماجہ/النکاح 17 (1886)، (تحفة الأشراف: 17739)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6 /94)، سنن الدارمی/النکاح 18 (2245) (صحیح)