سنن أبي داود حدیث نمبر: 1551
Sunan Abi Dawud 1551
کتاب #8: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
32: باب فِي الاِسْتِعَاذَةِ
باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ. ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، الْمَعْنَى عَنْ سَعْدِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ بِلَالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، عَنْ أَبِيهِ فِي حَدِيثِ أَبِي أَحْمَدَ شَكَلِ بْنِ حُمَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي دُعَاءً، قَالَ: " قُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ سَمْعِي، وَمِنْ شَرِّ بَصَرِي، وَمِنْ شَرِّ لِسَانِي، وَمِنْ شَرِّ قَلْبِي، وَمِنْ شَرِّ مَنِيِّي".
شکل بن حمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی دعا سکھا دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہو: «االلهم إني أعوذ بك من شر سمعي، ومن شر بصري، ومن شر لساني، ومن شر قلبي، ومن شر منيي» ۱؎ ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے کان کی برائی، نظر کی برائی، زبان کی برائی، دل کی برائی اور اپنی منی کی برائی سے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1551]
💡 وضاحت:
۱؎: کان کی برائی بری باتیں سننا ہے، آنکھ کی برائی بری نگاہ سے غیر عورت کو دیکھنا ہے، زبان کی برائی زبان سے کفر کے کلمے نکالنا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا، بہتان باندھنا وغیرہ وغیرہ، دل کی برائی حسد، کفر، نفاق، وغیرہ ہے، اور منی کی برائی بے محل نطفہ بہانا، مثلاً محرم یا اجنبی عورت پر یا لواطت کرنا یا کرانا وغیرہ۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن ¤ مشكوة المصابيح (2472) ¤ أخرجه الترمذي (3492 وسنده حسن)
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الدعوات 75 (3492)، سنن النسائی/الاستعاذة 3 (5446)، 9 (5457)، 10(5458)، 27 (5486)، (تحفة الأشراف:4847)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/429) (صحیح)