سنن أبي داود حدیث نمبر: 1550
Sunan Abi Dawud 1550
کتاب #8: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
32: باب فِي الاِسْتِعَاذَةِ
باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِ، قَالَتْ: كَانَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا عَمِلْتُ، وَمِنْ شَرِّ مَا لَمْ أَعْمَلْ".
فروہ بن نوفل اشجعی کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے بارے میں جو آپ مانگتے تھے پوچھا، انہوں نے کہا: آپ کہتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت، ومن شر ما لم أعمل» ”اے اللہ! میں ہر اس کام کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جسے میں نے کیا ہے اور ہر اس کام کے شر سے بھی جسے میں نے نہیں کیا ہے“۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1550]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم (2716)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الذکروالدعاء 18 (2716)، سنن النسائی/السہو 63 (1308)، والاستعاذة 57 (5527)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3839)، (تحفة الأشراف:17430)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/31، 100، 139، 213، 257، 278) (صحیح)