سنن أبي داود حدیث نمبر: 1541
Sunan Abi Dawud 1541
کتاب #8: کتاب: وتر کے فروعی احکام و مسائل
32: باب فِي الاِسْتِعَاذَةِ
باب: (بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَعِيدٌ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ كَثِيرًا، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَضَلْعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ" وَذَكَرَ بَعْضَ مَا ذَكَرَهُ التَّيْمِيُّ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا تو میں اکثر آپ کو یہ دعا پڑھتے سنتا تھا: «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اندیشے اور غم سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے تسلط سے“ اور انہوں نے بعض ان چیزوں کا ذکر کیا جنہیں تیمی ۱؎ نے ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/حدیث: 1541]
💡 وضاحت:
۱؎: تیمی سے مراد اس سے پہلے والی حدیث کی سند کے راوی معتمر بن سلیمان تیمی ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري (6369)
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الدعوات 40 (6369)، سنن الترمذی/الدعوات 71 (3484)، سنن النسائی/الاستعاذة 7 (5455) (تحفة الأشراف: 1115)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/122، 220، 226، 240) (صحیح)