شمائل ترمذی حدیث نمبر: 201
Shamail al-Tirmidhi 201
کتاب #30: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے میوہ جات ( تناول فرمانے ) کا بیان
6: بَابُ مَا جَاءَ فِي فَاكِهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحفے کے بدلے میں تحفہ دیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ، قَالَتْ: بَعَثَنِي مُعَاذُ بْنُ عَفْرَاءَ بِقِنَاعٍ مِنْ رُطَبٍ وَعَلَيْهِ أَجْرٌ مِنْ قِثَّاءِ زُغْبٍ، «وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْقِثَّاءَ، فَأَتَيْتُهُ بِهِ وَعِنْدَهُ حِلْيَةٌ قَدْ قَدِمَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَمَلَأَ يَدَهُ مِنْهَا فَأَعْطَانِيهِ»
سیدہ ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ مجھے سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ نے تازہ کھجوروں کا ایک تھال دے کر بھیجا جس میں روئی والی چھوٹی چھوٹی ککڑیاں بھی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ککڑی بڑی پسند تھی۔ میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وہ لائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین سے کچھ زیورات آئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اپنی ایک مٹھی بھر کر مجھے عنایت فرمائے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 201]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف
تخریج:
سنده ضعيف : یہ روایت کئی وجہ سے ضعیف ہے، مثلاً: ➊ محمد بن حمید الرازی ضعیف بلکہ سخت مجروح و ساقط العدالت راوی ہے۔ ➋ محمد بن اسحاق بن یسار مدلس تھے اور یہ سند عن سے ہے۔ ➌ ابراہیم بن المختار کو جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ نیز دیکھئے: حدیث: 202