📖 شمائل ترمذی • فہرست کتب (Book Index) ↗

شمائل ترمذی

Shamail al-Tirmidhi (الشَّمَائِلُ الْمُحَمَّدِيَّةُ)
📁 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے میوہ جات ( تناول فرمانے ) کا بیان (بَابُ مَا جَاءَ فِي فَاكِهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) 🏷️ باب: تربوز اور تر کھجور کا اکٹھے کھانا
عربی:
اردو:
4: بَابُ مَا جَاءَ فِي فَاكِهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
تربوز اور تر کھجور کا اکٹھے کھانا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الْبِطِّيخَ بِالرُّطَبِ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تربوز تازہ کھجوروں کے ساتھ ملا کر نوش فرمایا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 199]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : (السنن الكبري للنسائي: 167/4 ح 6727) (اخلاق النبى صلى الله عليه وسلم: ص216. 217) اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے: ➊ عبداللہ بن یزید بن الصلت ضعیف (راوی) ہے۔ دیکھئیے: [تقريب التهذيب: 3705 ] ➋ محمد بن اسحاق بن یسار صدوق مدلس تھے اور یہ روایت عن سے ہے۔ حدیث سابق (197) اس کا صحیح شاہد ہے، جس کے ساتھ یہ روایت بھی صحیح یا حسن ہے۔
شمائل ترمذی • حدیث #199
197 198 199 200 201
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ