شمائل ترمذی حدیث نمبر: 126
Shamail al-Tirmidhi 126
کتاب #21: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کی کیفیت
1: بَابُ مَا جَاءَ فِي جِلْسَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
بیٹھنے میں انداز عاجزی
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ جَدَّتَيْهِ، عَنْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ، أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَهُوَ قَاعِدٌ الْقُرْفُصَاءَ قَالَتْ: «فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَخَشِّعَ فِي الْجِلْسَةِ أُرْعِدْتُ مِنَ الْفَرَقِ»
سیدہ قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں گوٹ مار کر بیٹھے ہوئے دیکھا، کہتی ہیں: کہ میں نے آپ کو اس خشوع والے بیٹھنے کے انداز میں دیکھا تو ڈر سے کانپنے لگی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 126]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف
تخریج:
سنده ضعيف : دیکھئیے حدیث سابق: 67، یہ اسی حدیث کا ایک ٹکڑا ہے۔ ◈ سرین کے بل بیٹھ کر دونوں رانوں کو پیٹ سے ملانا اور دونوں ہاتھوں کا پنڈلیوں کے اوپر حلقہ بنانا، عربی زبان میں قرفصاء کہلاتا ہے۔