📖 شمائل ترمذی • فہرست کتب (Book Index) ↗

شمائل ترمذی

Shamail al-Tirmidhi (الشَّمَائِلُ الْمُحَمَّدِيَّةُ)
📁 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خود مبارک کا بیان (بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ مِغْفَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) 🏷️ باب: فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود استعمال کیا
عربی:
اردو:
1: بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ مِغْفَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود استعمال کیا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ مِغْفَرٌ، فَقِيلَ لَهُ: هَذَا ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَقَالَ: «اقْتُلُوهُ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر خود تھا، عرض کیا گیا کہ یہ ابن خطل ہے جو کہ کعبة اللہ کے غلاف کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو قتل کر دو۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 111]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : سنن ترمذي، ح 1693، وقال:هذا حديث حسن صحيح . صحيح بخاري، ح 1846 . صحيح مسلم، ح 1357 . موطا امام مالك 423/1 ح 975، رواية ابن القاسم:2 امام ابن شہاب الزہری کے سماع کی تصریح طبقات ابن سعد (139/2۔140) وغیرہ میں موجود ہے۔ والحمد لله
شمائل ترمذی • حدیث #111
109 110 111 112 113
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ