بَابُ مَا جَاءَ فِي لِبَاسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کا بیان
|
5: بَابُ مَا جَاءَ فِي كُحْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قمیص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھی
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمِيصُ»
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: کپڑوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قمیص بہت پسند تھی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 56]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج:
حسن : (سنن ترمذي: 1764)، ديكهئيے حديث 57
|
|
|
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهُ الْقَمِيصُ» قَالَ: " هَكَذَا قَالَ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، فِي حَدِيثِهِ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي تُمَيْلَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ زِيَادِ بْنِ أَيُّوبَ، وَأَبُو تُمَيْلَةَ يَزِيدُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَنْ أَمِّهِ وَهُوَ أَصَحُّ"
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے محبوب لباس قمیص پہننا تھا۔ امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ «عبداللہ بن بریدہ عن ام سلمہ» والی سند سے «عبداللہ بن بریدہ عن امہ عن ام سلمہ» والی سند زیادہ صحیح ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 57]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده حسن
تخریج:
سنده حسن : (سنن ترمذي:1763)، سنن ابي داؤد (4026)، المستدرك للحاكم (192/4 ح 7404 ووقع فى المطبوع تصحيف) وصححه الحاكم ووافقه الذهبي . SB فائدہ: EB ام بریدہ رحمہا اللہ کی حدیث کو حاکم اور ذہبی کا صحیح قرار دینا، ان کی طرف سے ام بریدہ کی توثیق ہے۔
|
|
|
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کی آستین مبارک
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ بُدَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ الْعُقَيْلِيَّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: «كَانَ كُمُّ قَمِيصِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الرُّسْغِ»
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کی آستین کلائی تک ہوتی تھی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 58]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده حسن
تخریج:
سنده حسن : (سنن ترمذي: 1765، وقال:هذا حديث حسن غريب)، (سنن ابي داود: 4027) SB فائدہ: EB اس حدیث کے راوی شہر بن حوشب رحمہ اللہ جمہور محدثین کے نزدیک موثق ہونے کی وجہ سے حسن الحدیث تھے۔ دیکھئیے مقالات الحدیث (ص350)
|
|
|
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کے بٹن
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُشَيْرٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ لِنُبَايِعَهُ، وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقٌ، أَوْ قَالَ: زِرُّ قَمِيصِهِ مُطْلَقٌ، قَالَ: فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ فَمَسَسْتُ الْخَاتَمَ
سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے باپ قرہ بن ایاس سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیعت کے لیے مزینہ قبیلے کے ایک گروہ کے ساتھ آیا (میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص مبارک کھلی ہوئی تھی یا فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کا بٹن کھلا ہوا تھا تو میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیص کے گریبان میں داخل کیا تو میں نے مہر نبوت کو چھو لیا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 59]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ابي داود: 4082)، (سنن ابن ماجه: 3578)، صحيح ابن حبان (الاحسان: 5428، دوسر انسخه: 5452)
|
|
|
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قطری کپڑا پہننا
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَهُوَ يَتَّكِئُ عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَلَيْهِ ثَوْبٌ قِطْرِيٌّ قَدْ تَوَشَّحَ بِهِ، فَصَلَّى بِهِمْ. وَقَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ: سَأَلَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ أَوَّلَ مَا جَلَسَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَقَالَ: لَوْ كَانَ مِنْ كِتَابِكَ، فَقُمْتُ لِأُخْرِجَ كِتَابِي فَقَبَضَ عَلَى ثَوْبِي ثُمَّ قَالَ: أَمْلِهِ عَلَيَّ؛ فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا أَلْقَاكَ، قَالَ: «فَأَمْلَيْتُهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَخْرَجْتُ كِتَابِي فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے کاشانہ اقدس سے) تشریف لائے اس حالت میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قطری کپڑا پہنے ہوئے تھے، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لپیٹے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ عبد بن حمید کہتے ہیں کہ محمد بن فضل نے فرمایا: جب میرے پاس یحییٰ بن معین آ کر بیٹھے تو آتے ہی سب سے پہلے مجھ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا۔ میں نے اس طریق سے حدیث بیان کرنی شروع کر دی کہ مجھے حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی۔ تو یحییٰ بن معین نے کہا کہ اگر آپ اپنی کتاب سے یہ حدیث پڑھتے تو بہتر تھا۔ میں (محمد بن فضل) کتاب لانے کے لیے اٹھا تو انہوں (یحییٰ بن معین) نے میرا دامن پکڑ لیا اور فرمایا: مجھے لکھوا دو، مجھے ڈر ہے کہ آپ سے پھر ملاقات نہ ہو سکے (محمد بن فضل نے) کہا کہ میں نے ان (یحییٰ بن معین) کو زبانی (یہ حدیث) لکھوا دی پھر میں وہ کتاب لے کر آیا اور اسے پڑھ کر یہ حدیث سنائی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 60]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : صحيح ابن حبان (الاحسان: 2329، دوسر انسخه: 2335) نیز دیکھئیے آنے والی حدیث: 134 اس روایت کی سند میں حسن بصری مدلس ہیں، لیکن حمید الطّویل نے ان کی متابعت کر رکھی ہے۔ [مسند احمد 239/3 ح 13510، والسند اليه صحيح ] امام ابن معین رحمہ اللہ کا اس حدیث کو فوراً لکھ لینا حدیث اور علم حدیث کے ساتھ ان کی محبت کا ثبوت ہے۔ SB تنبیہ: EB قطری ان یمنی چادروں کو کہتے ہیں جو روئی کی بنی ہوتی ہیں اور ان میں سرخ دھاریاں ہوتی ہیں۔
|
|
|
نیا کپڑا پہننے کی دعا
|
|
|
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ عِمَامَةً أَوْ قَمِيصًا أَوْ رِدَاءً، ثُمَّ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نیا کپڑا زیب تن فرماتے تو اس کو اس نام سے موسوم فرماتے، جیسے عمامہ، قمیص یا چادر، پھر (یہ دعا) پڑھتے: «اللهم لك الحمد كما كسوتنيه، اسألك خيره وخير ما صنع له، وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» ”اے اللہ! ہر قسم کی تعریف تیرے لیے ہے جس طرح تو نے مجھے یہ پہنایا ہے، میں تجھ سے اس کی خیر اور اس چیز کی خیر جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے مانگتا ہوں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کے شر اور جس چیز کے لیے بنایا گیا اس کے شر سے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 61]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي:1767، وقال: حسن غريب صحيح)، (سنن ابي داود: 4020)
|
|
|
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ الْكُوفِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْمُزَنِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
اسی طرح دوسری سند بھی آتی ہے یعنی ہشام بن یونس، قاسم بن مالک مزنی سے، وہ جریری سے، وہ ابونضرہ سے، وہ سیدنا ابوسعید خدری سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 62]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي:1767، وقال: حسن غريب صحيح)، (سنن ابي داود: 4020)
|
|
|
دھاری دار کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهُ الْحِبَرَةُ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب کپڑوں سے زیادہ دھاری دار کپڑا پہننا پسندیدہ تھا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 63]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : (سنن ترمذي: 1787، وقال: حسن صحيح غريب)، صحيح بخاري (5813)، صحيح مسلم (2079)
|
|
|
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سرخ جوڑا
|
|
|
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَرِيقِ سَاقَيْهِ» قَالَ سُفْيَانُ: أُرَاهَا حِبَرَةً
عون بن ابی حجیفہ رحمہ اللہ اپنے والد محترم (سیدنا ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ رنگ کا حلہ زیب تن کیا ہوا تھا، گویا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک پنڈلیوں کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ سفیان فرماتے ہیں: میرے خیال میں وہ یمن کی بنی ہوئی دھاری دار چادر تھی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 64]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : (سنن ترمذي: 197، وقال: حسن صحيح)، صحيح مسلم (503)، من حديث سفيان الثوري به و صرح بالسماع عنده و تابعه جماعة
|
|
|
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ أَحْسَنَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَتْ جُمَّتُهُ لَتَضْرِبُ قَرِيبًا مِنْ مَنْكِبَيْهِ»
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے انسانوں میں سے کسی ایک کو بھی سرخ جوڑے میں ملبوس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جمہ بال (زلف مبارک) کندھوں کے قریب تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 65]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : صحيح بخاري (5901) من حديث اسرائيل بن يونس، صحيح مسلم (2337) من حديث ابي اسحاق السبيعي به نیز دیکھئیے حدیث سابق: 3
|
|
|
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سبز چادریں
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ»
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار اس حالت میں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر دو سبز چادریں تھیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 66]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : (سنن ترمذي: 2812، وقال: هذا حديث حسن غريب)، (سنن ابي داود: 4206)، (سنن نسائي 185/3 ح 1573)، صحيح ابن خزيمه (انظر الاصابه 70/4)، (صحيح ابن الجارود: 770)، (صحيح ابن حبان: 1522)، (المستدرك: 607،426/2)، وصححه الحاكم ووافقه الذهبي . نیز دیکھئیے حدیث سابق: 43
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، عَنْ جَدَّتَيْهِ، دُحَيْبَةَ وَعُلَيْبَةَ، عَنْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ قَالَتْ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَسْمَالُ مُلَيَّتَيْنِ كَانَتَا بِزَعْفَرَانٍ وَقَدْ نَفَضَتْهُ» . وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ طَوِيلَةٌ
سیدہ قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا کہ آپ (کے جسم اطہر) پر دو پرانی چادریں تھیں، جن پر زعفران تھا مگر جھڑ کر اس کا معمولی نشان رہ گیا تھا۔ اور حدیث میں ایک لمبا قصہ ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 67]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف
تخریج:
سنده ضعيف : (سنن ترمذي: 2814، وقال: لانعرفه الا من حديث عبدالله بن حسان)، (سنن ابي داود: 3070) اس روایت کی سند تین وجہ سے ضعیف ہے: ➊ عبداللہ بن حسان کو سوائے قردوسی (بذاتِ خود مجہول الحال) کے کسی نے ثقہ قرار نہیں دیا، یعنی وہ مجہول الحال ہے۔ ➋ صفیہ بنت علیبہ مجہولۃ الحال ہے، اسے سوائے ابن حبان کے کسی نے ثقہ قرار نہیں دیا۔ ➌ دحیبہ بنت علیبہ بھی مجہولۃ الحال ہے، اسے سوائے ابن حبان کے کسی نے بھی ثقہ قرار نہیں دیا۔ دیکھئے: انوار الصحیفہ [ص113] اور سنن ابی داود بتحقیقی [3070] SB تنبیہ EB: لمبا قصہ سنن ابی داود وغیرہ میں موجود ہے۔
|
|
|
سفید کپڑا بہترین لباس ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالْبَيَاضِ مِنَ الثِّيَابِ لِيَلْبِسْهَا أَحْيَاؤُكُمْ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ، فَإِنَّهَا مِنْ خَيْرِ ثِيَابِكُمْ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ سفید کپڑوں کو اپناؤ، تم میں سے جو بقید حیات ہیں وہ بھی انہیں پہنیں، اور جو فوت ہو جائیں انہیں بھی سفید کپڑوں میں کفن دو، کیونکہ یہ تمہارے بہترین کپڑوں میں سے ہیں۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 68]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده حسن
تخریج:
سنده حسن : (سنن ترمذي: 994 وقال: حسن صحيح)، (سنن ابي داؤد: 4061)، (سنن ابن ماجه: 1472)، صحيح ابن حبان (1439-1441)، المستدرك للحاكم (354/1) وصححه ووافقه الذهبي
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَسُوا الْبَيَاضَ؛ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ»
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ سفید لباس پہنا کرو، یہ پاک اور صاف ہوتے ہیں اور اس میں اپنے فوت شدگان کو کفن دیا کرو۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 69]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف
تخریج:
سنده ضعيف : (سنن ترمذي: 2810، وقال: حسن صحيح)، (سنن ابن ماجه: 3567)، المستدرك للحاكم (185/4) وصححه على شرط الشيخين ووافقه الذهبي .! ◈ مستدرک میں سفیان ثوری کے سماع کی تصریح موجود ہے، لیکن حبیب بن ابی ثابت ثقہ مدلس تھے اور ان کے سماع کی تصریح موجود نہیں، حکم بن عتیبہ (ثقہ مدلس) نے ان کی متابعت کر رکھی ہے۔ [مسند احمد 17/5 ح 20185] لیکن حکم کے سماع کی تصریح بھی موجود نہیں، لہٰذا یہ سند ضیعف ہے۔ دوسرے یہ کہ میمون بن ابی شبیب کے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے سماع میں بھی نظر ہے۔ SB فائدہ: EB مسند احمد میں فانما اطهر و اطيب کے بغیر اس حدیث کا ایک شاہد ہے، جس کی سند صحیح ہے۔ [21/5 ح20235] سنن نسائی (5324) وغیرہ میں ایک شاہد فانما اطهر و اطيب کے الفاظ کے ساتھ ہے، لیکن اس کی سند میں سعید بن ابی عروبہ ثقہ مدلس ہیں اور سند عن سے ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس روایت کی سند ضعیف ہے اور یہ اطهر و اطيب کے الفاظ کے بغیر صحیح ہے۔
|
|
|
سیاہ بالوں والی چادر کا استعمال
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْودَ»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صبح کے وقت باہر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ بالوں والی کملی اوڑھ رکھی تھی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 70]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج:
حسن : (سنن ترمذي: 2813، وقال: حسن صحيح غريب)، صحيح مسلم (2081، دارالسلام: 5445، و ح 2424، دارالسلام: 6261)
|
|
|
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی جبہ زیب تن فرمایا
|
|
|
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ جُبَّةً رُومِيَّةً ضَيِّقَةَ الْكُمَّيْنِ"
عروہ بن مغیرہ بن شعبہ اپنے والد محترم سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رومی جبہ پہنا، جس کی دونوں آستینیں تنگ تھیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 71]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : (سنن ترمذي: 1768، وقال: هذا حديث حسن صحيح)، شرح السنة (6/12 ح 3070) والا نوار كلاهما للبغوي (755) من حديث الترمذي عن يوسف بن عيسي عن وكيع عن يونس بن ابي اسحاق عن الشعبي به . مسند احمد (255/4 ح 18239) عن وكيع عن يونس بن ابي اسحاق عن الشعبي به . SB تنبیہ: EB شمائل ترمذی میں غلطی سے يونس بن ابي اسحاق عن ابيه عن الشعبي چھپ گیا ہے، جبکہ صحیح یہ ہے کہ یہ سند يونس بن ابي اسحاق عن الشعبي يعنى عن ابيه کے بغیر ہے، جیسا کہ سنن ترمذی، شرح السنہ، الانوار اور مسند احمد میں ہے۔ یونس بن ابی اسحاق سے اسے امام وکیع بن الجراح کے علاوہ سفیان بن عیینہ [مسند حميدي بتحقيقي: 758 ] اور عیسیٰ بن یونس [ سنن ابي داؤد: 1151 ] نے بھی عن الشعبي کی سند سے روایت کیا ہے۔ یونس بن ابی اسحاق تدلیس سے بری تھے، لہٰذا یہ سند صحیح ہے اور اس کے صحیح شواہد بھی ہیں۔
|
|