بَابُ مَا جَاءَ فِي كُحْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرمہ (لگانے) کا بیان
|
اثمد سرمہ کا استعمال لازم پکڑو
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اكْتَحِلُوا بِالْإِثْمِدِ فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ» وَزَعَمَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ مِنْهَا كُلَّ لَيْلَةٍ ثَلَاثَةً فِي هَذِهِ، وَثَلَاثَةً فِي هَذِهِ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: یقیناً نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اثمد سرمہ لگایا کرو، وہ بینائی کو تیز کرتا ہے اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات تین سلائی ایک آنکھ مبارک میں اور تین سلائی دوسری آنکھ مبارک میں ڈالتے تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 50]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف
تخریج:
سندہ ضعیف : (سنن ترمذي: 1757)، (سنن ابن ماجه: 3499) اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے: ➊ عباد بن منصور جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے۔ ➋ عباد بن منصور مدلس تھا۔ دیکھئیے طبقات المدلسین (121/4 طبقہ رابعہ)
|
|
|
سرمہ تین تین بار لگانا
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْهَاشِمِيُّ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، (ح) وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْتَحِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ بِالْإِثْمِدِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ» وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، فِي حَدِيثِهِ: «إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ مُكْحُلَةٌ يَكْتَحِلُ مِنْهَا عِنْدَ النَّوْمِ ثَلَاثًا فِي كُلِّ عَيْنٍ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے پہلے ہر ایک آنکھ مبارک میں اثمد سرمے کی تین سلائیاں لگایا کرتے تھے۔ اور یزید بن ہارون اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے پہلے ہر آنکھ میں تین بار سرمہ لگاتے تھے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 51]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف
تخریج:
سنده ضعيف : عباد بن منصور ضعیف مدلس راوی ہے۔ دیکھئیے: حدیث سابق: 50
|
|
|
سوتے وقت اثمد سرمہ کا استعمال
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ عِنْدَ النَّوْمِ، فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوتے وقت تم پر اثمد سرمہ لازم ہے کیونکہ یہ نظر روشن کرتا ہے اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 52]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده ضعيف
تخریج:
سنده ضعيف : اس کی سند میں محمد بن اسحاق بن یسار راوی صدوق حسن الحدیث موثق عندالجمہور اور مدلس تھے، یہ روایت عن سے ہے، لہٰذا ضعیف ہے۔ سنن ابن ماجہ (3496) میں اس کا ایک ضعیف شاہد بھی ہے۔ (انوار الصحيفه ص 503)
|
|
|
اثمد سرمے کے فوائد
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ خَيْرَ أَكْحَالِكُمُ الْإِثْمِدُ، يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے تمام سرموں سے بہترین سرمہ اثمد ہے، یہ نظر کو روشن کرتا ہے اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 53]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده حسن
تخریج:
سنده حسن : سنن ابي داود [3878]، سنن ابن ماجه [ 4061 ]، سنن النسائي [ 5116 ]
|
|
|
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالْإِثْمِدِ، فَإِنَّهُ يَجْلُو الْبَصَرَ، وَيُنْبِتُ الشَّعْرَ»
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اثمد سرمہ کو لازم پکڑو کیونکہ وہ نظر کو تیز کرتا ہے اور (پلکوں کے) بال اگاتا ہے۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 54]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده حسن
تخریج:
سنده حسن : سنن ابن ماجه [ 3495 ] نیز دیکھئیے حدیث سابق: 53
|
|
|
قمیص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت پسند تھی
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، وَأَبُو تُمَيْلَةَ، وَزَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمِيصُ»
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب کپڑوں سے زیادہ قمیص پسند تھی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 55]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج:
حسن : (سنن ترمذي: 1762، وقال:حسن غريب)، (سنن ابي داود: 4025) SB فائدہ: EB عبداللہ بن بریدہ نے یہ حدیث سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنی، بلکہ اپنی والدہ (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کی بیوی) سے سنی ہے۔ دیکھئیے حدیث 57 محمد بن حمید الرازی کی متابعت کے لیے دیکھئیے حدیث 56
|
|