بَابُ: مَا جَاءَ فِي رُؤْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا بیان
کتاب #56 • کل احادیث: 11
|
شیطان میری شکل و صورت اختیار کر کے خواب میں نہیں آ سکتا
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي»
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل و صورت میں متمثل نہیں ہو سکتا۔“ [شمائل ترمذي/حدیث: 407]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : (سنن ترمذي: 2276)، سنن ابن ماجه (3900) اس روایت کی سند سفیان ثوری اور ابواسحاق السبیعی کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن صحیح بخاری (6993) اور صحیح مسلم (2266) وغیرہما میں اس کے صحیح شواہد ہیں، جن کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے۔ واللہ اعلم
|
|
|
ابلیس لعین میری شکل و صورت میں متشکل نہیں ہو سکتا
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حُصَينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَصَوَّرُ» أَوْ قَالَ: «لَا يَتَشَبَّهُ بِي»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے بلاشبہ مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری شکل و صورت میں متشکل نہیں ہو سکتا۔“ (راوی کو شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «يتصوّر» کہا یا «يتّشبّه» کا لفظ استعمال کیا)۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 408]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : مسند احمد (410/2، 469) عن محمد بن جعفر به، صحيح بخاري (110)، صحيح مسلم (3) من حديث ابي حصين به.
|
|
|
جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي» قَالَ أَبُو عِيسَى: " وَأَبُو مَالِكٍ هَذَا هُوَ: سَعْدُ بْنُ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ، وَطَارِقُ بْنُ أَشْيَمَ هُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ"
سیدنا ابومالک اشجعی اپنے والد (سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا ہے۔“ امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابومالک سے مراد سعد بن طارق بن اشیم ہیں سیدنا طارق بن اشیم رضی اللہ عنہ صحابی رسول تھے جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چند احادیث روایت کی ہیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 409]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : مسند احمد (472/3، 394/6) یہ حدیث اگر خلف بن خلیفہ کے اختلاط سے پہلے کی ہو تو حسن لذاتہ ہے اور اگر بعد والی ہے تو شواہد کے ساتھ صحیح ہے۔
|
|
|
خلف بن خلیفہ رحمہ اللہ تابعی ہیں
|
|
|
سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُجْرٍ يَقُولُ: قَالَ خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ: «رَأَيْتُ عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ صَغِيرٌ»
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے علی بن حجر سے سنا وہ فرماتے تھے خلف بن خلیفہ نے فرمایا: میں نے صحابی رسول سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کو دیکھا میں اس وقت چھوٹی عمر کا بچہ تھا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 410]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : اس روایت کی سند خلف بن خلیفہ تک صحیح ہے اور وہ صدوق حسن الحدیث تھے۔ نیز دیکھئے حدیث سابق: 409
|
|
|
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُنِي» قَالَ أَبِي: فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: قَدْ رَأَيْتُهُ، فَذَكَرْتُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ فَقُلْتُ: شَبَّهْتُهُ بِهِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «إِنَّهُ كَانَ يُشْبِهُهُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے ہی دیکھا ہے، کیونکہ شیطان میری شکل و صورت اختیار نہیں کر سکتا۔“ راوی کلیب کہتے ہیں میں نے یہ حدیث عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بیان کی اور کہا کہ میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے، پھر میں نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ذکر کیا کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مشابہ پایا ہے تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تصدیق کی کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ واقعی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہیں۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 411]
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : مسند احمد (342/2)
|
|
|
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک خواب دیکھنے والے نے بیان کیا
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ - وَكَانَ يَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ - قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ زَمَنَ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي، فَمَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي» ، هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَنْعَتَ هَذَا الرَّجُلَ الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّوْمِ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَنْعَتُ لَكَ رَجُلًا بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، جِسْمُهُ وَلَحْمُهُ أَسْمَرُ إِلَى الْبَيَاضِ، أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ، حَسَنُ الضَّحِكِ، جَمِيلُ دَوَائِرِ الْوَجْهِ، مَلَأَتْ لِحْيَتُهُ مَا بَيْنَ هَذِهِ إِلَى هَذِهِ، قَدْ مَلَأَتْ نَحْرَهُ - قَالَ عَوْفٌ: وَلَا أَدْرِي مَا كَانَ مَعَ هَذَا النَّعْتِ - فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَوْ رَأَيْتَهُ فِي الْيَقَظَةِ مَا اسْتَطَعْتَ أَنْ تَنْعَتَهُ فَوْقَ هَذَا قَالَ أَبُو عِيسَى: " وَيَزِيدُ الْفَارِسِيُّ هُوَ: يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ، وَهُوَ أَقْدَمُ مِنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، وَرَوَى يَزِيدُ الْفَارِسِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَحَادِيثَ، وَيَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَهُوَ يَزِيدُ بْنُ أَبَانَ الرَّقَاشِيُّ، وَهُوَ يَرْوِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَيَزِيدُ الْفَارِسِيُّ، وَيَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ كِلَاهُمَا مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، وَعَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ هُوَ: عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ"
یزید فارسی رحمہ اللہ (جو مصاحف لکھا کرتے تھے) کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، تو میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا ہے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ: "شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا، پس جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حقیقت میں مجھی کو دیکھا"۔ پھر انہوں نے پوچھا: کیا تم اس شخص کا حلیہ بیان کر سکتے ہو جسے تم نے خواب میں دیکھا؟ میں نے کہا: ہاں، درمیانہ قد، سفید مائل گندمی رنگ، سرمگیں آنکھیں، خوبصورت ہنسی، خوبصورت گول چہرہ، اور گھنی داڑھی جو سینے کو بھرے ہوئے تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تم انہیں بیداری میں بھی دیکھتے تو اس سے بہتر حلیہ بیان نہ کر سکتے۔
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده حسن
تخریج:
سنده حسن : مسند احمد (361/1 ح 3410)
|
|
|
نضر بن شمیل کا سامع یزید الفارسی سے ثابت ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَ: قَالَ عَوْفٌ الْأَعْرَابِيُّ: «أَنَا أَكْبَرُ مِنْ قَتَادَةَ»
عوف اعرابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں عمر میں قتادہ رحمہ اللہ سے بڑا ہوں۔
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : اس روایت کو امام ترمذی نے بطورِ فائدہ ذکر کیا ہے۔
|
|
|
جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے حقیقتاً مجھے ہی دیکھا
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَآنِي - يَعْنِي فِي النَّوْمِ - فَقَدْ رَأَى الْحَقَّ»
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے یقیناً حق (سچ) دیکھا"۔
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج:
صحيح : صحيح مسلم (2267) من حديث يعقوب بن ابراهيم بن سعد، صحيح بخاري (6996) من حديث ابن شهاب الزهري به.
|
|
|
مومن کے خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَخَيَّلُ بِي» وَقَالَ: «وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھی کو دیکھا، کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا"، اور فرمایا: "مومن کا سچا خواب نبوت کے چھیالیسویں حصوں میں سے ایک حصہ ہے"۔
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : صحيح بخاري (6994) عن معليٰ بن اسد به.
|
|
|
عہدۂ قضا کی آزمائش
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: «إِذَا ابْتُلِيتَ بِالْقَضَاءِ فَعَلَيْكَ بِالْأَثَرِ»
عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جب تمہیں فیصلے (قضاوت) کی آزمائش میں ڈالا جائے تو تم پر سنت اور آثارِ صحابہ کی پیروی لازم ہے"۔
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : محمد بن علی سے مراد محمد بن علی بن الحسن بن شقیق رحمہ اللہ ہیں۔
|
|
|
حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دین ہے
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْفٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: «هَذَا الْحَدِيثُ دِينٌ، فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأَخُذُونَ دِينَكُمْ»
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "یہ علم (حدیث) دین ہے، پس تم دیکھ بھال کر لو کہ تم اپنا دین کن لوگوں سے حاصل کر رہے ہو"۔
قال الشيخ زبیر علی زئی:
سنده صحيح
تخریج:
سنده صحيح : صحيح مسلم (مقدمه ح 5، ترقيم دارالسلام: 26-27)
|
|