📖 شمائل ترمذی (Shamail al-Tirmidhi) • تمام کتب ↗

بَابُ مَا جَاءَ فِي صِفَةِ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا بیان

کتاب #14 • کل احادیث: 5
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 104]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحيح : سنن ترمذي:1691، وقال: حسن غريب . سنن ابي داود، ح 2583 . سنن نسائي، ح 5376 اس روایت کی سند قتادہ (مدلس) کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سنن نسائی میں اس کا ایک صحیح شاہد ہے۔ [ج 8 ص 219 ح 5375 وسنده صحيح و صححه ابن الملقن فى تحفة المحتاج 147/1 ح 19]
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: «كَانَتْ قَبِيعَةُ سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ»
سعید بن ابی الحسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 105]
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج: صحیح : سنن ابي داود، ح 2584 اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے: ➊ قتادہ مدلس کا عنعنہ ہے۔ ➋ تابعی کا ارسال ہے یعنی یہ روایت منقطع ہے۔ اس کا صحیح شاہد سابقہ حدیث (104) کے تحت گزر چکا ہے، جس کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے۔
تلوار پر سونا اور چاندی لگانا
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا طَالِبُ بْنُ حُجَيْرٍ، عَنْ هُودٍ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى سَيْفِهِ ذَهَبٌ وَفِضَّةٌ» قَالَ طَالِبٌ: فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْفِضَّةِ فَقَالَ: «كَانَتْ قَبِيعَةُ السَّيْفِ فِضَّةً»
ہود بن عبداللہ بن سعید اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر سونا اور چاندی لگی ہوئی تھی۔ طالب (ہود کے شاگرد، طالب بن حجیر) نے کہا تو میں نے ان سے چاندی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا دستہ چاندی کا تھا۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 106]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : سنن ترمذي، ح 1690، وقال: غريب . المعجم الكبير للطبراني 345/20 . 347ح 812 اس روایت کے راوی ھود بن عبد اللہ بن سعد کی توثیق صراحتاً سوائے ابن حبان کے کسی سے ثابت نہیں، اور سنن ترمذی کے نسخوں میں اختلاف ہے۔ بعض میں ”حسن غریب“ لکھا ہوا ہے اور بعض میں صرف ”غریب“ لکھا ہوا ہے۔ سنن ترمذی کے قدیم قلمی نسخے میں صاف طور پر هذا حديث غريب لکھا ہوا ہے۔ (ص118 ب سطر4) امام مزی وغیرہ کے نسخوں میں بھی صرف ”غريب“ ہے۔ لہٰذا ترمذی کی طرف توثیق کی نسبت مشکوک ہوئی اور ذہبی کے کلام میں تعارض ہے، لہٰذا یہ کلام ساقط ہے۔ ھود بن عبداللہ کا مجہول ہونا ہی راجح معلوم ہوتا ہے، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔ والله اعلم
تلوار بنانے میں بھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اتباع رسول کی
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ الْبَغْدَادِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: «صَنَعْتُ سَيْفِي عَلَى سَيْفِ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، وَزَعَمَ سَمُرَةُ أَنَّهُ صَنَعَ سَيْفَهُ عَلَى سَيْفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ حَنَفِيًّا»
امام بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی تلوار سمرہ بن جندب کی تلوار کے مطابق بنائی اور سمرہ کا خیال ہے کہ انہوں نے اپنی تلوار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے مطابق بنائی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار قبیلہ بنو حنیفہ کی تلوار کی طرح تھی۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 107]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : سنن ترمذي، ح 1683، وقال: غريب . . . . مسنداحمد 20/5 اس روایت کی سند عثمان بن سعد الکاتب کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ [ديكهئيے تقريب التهذيب: 4471]
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ سَعْدٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوِهِ
عثمان بن سعد نے اسی طرح کی سند کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے۔ [شمائل ترمذي/حدیث: 108]
قال الشيخ زبیر علی زئی: سنده ضعيف
تخریج: سنده ضعيف : سنن ترمذي، ح 1683، وقال: غريب . . . . مسنداحمد 20/5 اس روایت کی سند عثمان بن سعد الکاتب کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ [ديكهئيے تقريب التهذيب: 4471]
← پچھلی کتاب #13 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #15 →