صحيح مسلم حدیث نمبر: 424
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 168
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 329
Sahih Muslim 424
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
74: باب الإِسْرَاءِ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَوَاتِ وَفَرْضِ الصَّلَوَاتِ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد وتقاربا في اللفظ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبد، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حِينَ أُسْرِيَ بِي، لَقِيتُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام، فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ، قَالَ: مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ، كَأَنَّهُ مِنَ رِجَالِ شَنُوءَةَ، قَالَ: وَلَقِيتُ عِيسَى، فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَبْعَةٌ أَحْمَرُ، كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي حَمَّامًا، قَالَ: وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ، قَالَ: فَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ، وَفِي الآخَرِ خَمْرٌ، فَقِيلَ لِي: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ، فَقَالَ: هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ، أَمَّا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کا : نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’جب مجھے اسراء کروایا گیا تو میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا ( آپ نےان کا حلیہ بیان کیا : میرا خیال ہے آپ نے فرمایا : ) وہ ایک مضطرب ( کچھ لمبے اور پھر پتلے ) مرد ہیں ، لٹکتے بالوں والے ، جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں ( اور آپ نے فرمایا : ) میری ملاقات عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی ( آپﷺ نے ان کا حلیہ بیان فرمایا : ) وہ میانہ قامت ، سرخ رنگ کے تھے گویا ابھی دیماس ( یعنی حمام ) سے نکلے ہیں ۔ اور فرمایا : میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا ، ان کی اولاد میں سے میں ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ہوں ( آپ ﷺ نے فرمایا ) میرے پاس دو برتن لائے گئے ، ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی ، مجھ سے کہا گیا : ان میں سے جو چاہیں لے لیں ۔ میں نے دودھ لیا اور اسے پی لیا ، ( جبریل علیہ السلام نے ) کہا کہ آپ کو فطرت کی راہ پر چلایا گیا ہے ( یا آپ نے فطرت کو پا لیا ہے ) اگر آپ شراب پی لیتے تو آپ کی امت راستے سے ہٹ جاتی ۔ ‘ ‘