صحيح مسلم حدیث نمبر: 426
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 169.02
📖 صحيح مسلم باب:1 حدیث نمبر : 331
Sahih Muslim 426
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
75: باب فِي ذِكْرِ الْمَسِيحِ ابْنِ مَرْيَمَ وَالْمَسِيحِ الدَّجَّالِ:
باب: مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَيْسَ بِأَعْوَرَ، أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَانِي اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ عِنْدَ الْكَعْبَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ كَأَحْسَنِ مَا تَرَى مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ، تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْكِبَيْهِ، رَجِلُ الشَّعْرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ، وَهُوَ بَيْنَهُمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالُوا: الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ، وَرَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا، أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى، كَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنَ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ، وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ ".
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن لوگوں کے سامنے مسیح دجال کا تذکرہ کیا اور فرمایا : ’’ ا للہ تبارک وتعالیٰ کانا نہیں ہے ، خبردار رہنا ! مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے جیسے انگور کا بے نور دانہ ہو ۔ ‘ ‘ کہا : آپﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے رات اپنے آپ کو نیند کے عالم میں کعبہ کے پاس دیکھا تو میں ایک گندم گوں شخص دیکھا ، گندم گوں لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا جنہیں تم دیکھتے ہو ۔ اس کے سر کی لٹیں کندھوں کے درمیان تک لٹک رہی ہیں ، بال کنگھی کیے ہوئے ، سر سے پانی لٹک رہا ہے اور اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے اور ان دونوں کے درمیان بیت اللہ شریف کاطواف کر رہا ہے ، میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ تو انہوں ( جواب دینے والوں ) نے کہا : یہ مسیح ابن مریم رضی اللہ عنہ ہیں ۔ میں نے ان کے پیچھے ایک آدمی دیکھا ، اس کے بال الجھے ہوئے گھنگریالے تھے ، دائیں آنکھ سے کانا ، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں وہ سب سے زیادہ ( عبد العزیٰ ) ابن قطن کے مشابہ تھا ، وہ اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ، میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ جعلی مسیح ہے ۔ ‘ ‘