صحيح مسلم حدیث نمبر: 413
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 162.2
Sahih Muslim 413
کتاب #1: ایمان کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلامُ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَهُ فَصَرَعَهُ، فَشَقَّ عَنْ قَلْبِهِ، فَاسْتَخْرَجَ الْقَلْبَ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ عَلَقَةً، فَقَالَ: هَذَا حَظُّ الشَّيْطَانِ مِنْكَ، ثُمَّ غَسَلَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ لَأَمَهُ، ثُمَّ أَعَادَهُ فِي مَكَانِهِ، وَجَاءَ الْغِلْمَانُ يَسْعَوْنَ إِلَى أُمِّهِ يَعْنِي ظِئْرَهُ، فَقَالُوا: إِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ قُتِلَ، فَاسْتَقْبَلُوهُ وَهُوَ مُنْتَقِعُ اللَّوْنِ، قَالَ أَنَسٌ: وَقَدْ كُنْتُ أَرَى أَثَرَ ذَلِكَ الْمِخْيَطِ فِي صَدْرِهِ "
(سلیمان بن مغیرہ کے بجائے) حماد بن سلمہ نے ثابت کے واسطے سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل آئے جبکہ آپ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے، انہوں نے آپ کو پکڑا، نیچے لٹایا، آپ کا سینہ چاک کیا اور دل نکال لیا، پھر اس سے ایک لوتھڑا نکالا اور کہا: ”یہ آپ (کے دل میں) سے شیطان کا حصہ تھا۔“ پھر اس (دل) کو سونے کے طشت میں زمزم کے پانی سے دھویا، پھر اس کو جوڑا اور اس کی جگہ پر لوٹا دیا، بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ، یعنی آپ کی رضاعی ماں کے پاس آئے اور کہا: ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے۔“ (یہ سن کر لوگ دوڑے) تو آپ کے سامنے سے آتے ہوئے پایا، آپ کا رنگ بدلا ہوا تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں اس سلائی کا نشان آپ کے سینے پر دیکھا کرتا تھا۔“ (یہ بچپن کا شق صدر ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 413]