صحيح مسلم حدیث نمبر: 3670
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 1471.19
📖 صحيح مسلم باب:18 حدیث نمبر : 19
Sahih Muslim 3670
کتاب #18: طلاق کے احکام و مسائل
1: باب تَحْرِيمِ طَلاَقِ الْحَائِضِ بِغَيْرِ رِضَاهَا وَأَنَّهُ لَوْ خَالَفَ وَقَعَ الطَّلاَقُ وَيُؤْمَرُ بِرَجْعَتِهَا:
باب: حائضہ کو اس کی رضامندی کے بغیر طلاق دینے کی حرمت اور اگر اس حکم کی ممانعت کی تو طلاق واقع ہونے اور رجوع کا حکم دینے کا بیان۔
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عَزَّةَ: يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ ذَلِكَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا؟ فقَالَ: طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُرَاجِعْهَا فَرَدَّهَا، وَقَالَ: إِذَا طَهُرَتْ، فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: 0 يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ 0 "،
حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عَزہ کے مولیٰ عبدالرحمٰن بن ایمن سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے اور ابوزبیر بھی یہ بات سن رہے تھے کہ آپ کی اس آدمی کے بارے میں کیا رائے ہے جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی؟ انہوں نے جواب دیا : ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور بتایا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : "" وہ اس سے رجوع کرے ۔ "" چنانچہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا ، اور آپ نے فرمایا : "" جب وہ پاک ہو جائے تو اسے طلاق دے یا ( اپنے ہاں بسائے ) رکھے ۔ "" حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) تلاوت فرمائی : "" اے نبی! جب آپ لوگ عورتوں کو طلاق دیں تو انہیں ان کی عدت ( شروع کرنے ) کے وقت طلاق دے
💡 وضاحت:
ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم «لِعِدَّتِهِنَّ» کی تفسیر و توضیح کے لیے (شاگردوں کو) «قُبُلِ عِدَّتِهنَّ» بتاتے اس لیے یہ کلمہ تفسیر کے لیے ہے یہ قرآن کا حصہ یا جز نہیں ہے۔ اس لیے ابن مسعود تفسیر کے لیے اس کو «قُبُلِ» (طہر کے شروع میں) پڑھتے۔