صحيح مسلم حدیث نمبر: 2154
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 932
Sahih Muslim 2154
کتاب #11: جنازے کے احکام و مسائل
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ "، فَقَالَتْ: وَهِلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ أَوْ بِذَنْبِهِ، وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الْآنَ ". وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ يَوْمَ بَدْرٍ، وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ لَهُمْ مَا قَالَ: " إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ "، وَقَدْ وَهِلَ، إِنَّمَا قَالَ: " إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ "، ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80، وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ سورة فاطر آية 22، يَقُولُ: حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ.
ابواسامہ نے ہشام سے اور انہوں نے اپنے والد عروہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس بات کا ذکر کیا گیا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً یہ بیان کرتے ہیں: ”میت کو اس کی قبر میں اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”وہ (ابن عمر رضی اللہ عنہما) بھول گئے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا: ’اس (مرنے والے) کو اس کی غلطی یا گناہ کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے اور اس کے گھر والے اب اسی وقت اس پر رو رہے ہیں۔‘“ اور یہ (بھول) ان (عبداللہ رضی اللہ عنہما) کی اس روایت کے مانند ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے اس کنویں (کے کنارے) پر کھڑے ہوئے جس میں بدر میں قتل ہونے والے مشرکوں کی لاشیں تھیں تو آپ نے ان سے جو کہنا تھا کہا (اور فرمایا): ’(اب) جو میں کہہ رہا ہوں وہ اس کو بخوبی سن رہے ہیں۔‘ حالانکہ (اس بات میں بھی) وہ بھول گئے، آپ نے تو فرمایا تھا: ’یہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ میں ان سے (دنیا میں) جو کہا کرتا تھا وہ حق تھا۔‘“ پھر انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے (یہ آیتیں پڑھیں): وَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى (اور بے شک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا) اور وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ (اور تو ہرگز انہیں سنانے والا نہیں جو قبروں میں ہیں) (گویا آپ یہ کہہ رہے ہیں: جبکہ وہ آگ میں اپنے ٹھکانے بنا چکے ہیں (اور وہ اچھی طرح جان چکے ہیں کہ جو ان سے کہا گیا تھا وہی سچ ہے یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما ان دو روایتوں کا اصل بیان محفوظ نہیں رکھ سکے))۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2154]