صحيح مسلم حدیث نمبر: 2156
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 932.2
Sahih Muslim 2156
کتاب #11: جنازے کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ ، وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ أَوْ أَخْطَأَ، إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا ".
عمرہ بنت عبدالرحمن نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، (اس موقع پر) ان کے سامنے بیان کیا گیا تھا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”میت کو زندہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اللہ ابوعبدالرحمن کو معاف فرمائے! یقیناً انہوں نے جھوٹ نہیں بولا لیکن وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہو گئی ہے (امر واقع یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی عورت (کے جنازے) کے پاس سے گزرے جس پر آہ و بکا کی جا رہی تھی تو آپ نے فرمایا: ’یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے۔‘“ [صحيح مسلم/حدیث: 2156]