صحيح مسلم حدیث نمبر: 2153
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 931
Sahih Muslim 2153
کتاب #11: جنازے کے احکام و مسائل
وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، جميعا، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ خَلَفٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ: الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَحْفَظْهُ، إِنَّمَا مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " أَنْتُمْ تَبْكُونَ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ ".
حماد بن زید نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا روایت کردہ قول بیان کیا گیا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”اللہ عبدالرحمن پر رحم فرمائے، انہوں نے ایک چیز کو سنا لیکن (پوری طرح) محفوظ نہ رکھا (امر واقع یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک یہودی کا جنازہ گزرا اور وہ لوگ اس پر رو رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ’تم رو رہے ہو اور اسے عذاب دیا جا رہا ہے۔‘“ [صحيح مسلم/حدیث: 2153]