صحيح مسلم حدیث نمبر: 2108
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 906.03
📖 صحيح مسلم باب:10 حدیث نمبر : 17
Sahih Muslim 2108
کتاب #10: سورج اور چاند گرہن کے احکام
3: باب مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ:
باب: جنت اور جہنم میں سے کسوف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کچھ پیش کیا گیا؟
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَزِعَ فَأَخْطَأَ بِدِرْعٍ حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَقَضَيْتُ حَاجَتِي، ثُمَّ جِئْتُ وَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا، فَقُمْتُ مَعَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ أَجْلِسَ، ثُمَّ أَلْتَفِتُ إِلَى الْمَرْأَةِ الضَّعِيفَةِ، فَأَقُولُ: هَذِهِ أَضْعَفُ مِنِّي فَأَقُومُ، فَرَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ خُيِّلَ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَمْ يَرْكَعْ ".
وہیب نے کہا : ہمیں منصور نے اپنی والدہ ( صفیہ ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کوگرہن لگ گیا تو آپ جلدی سے لپکے ( اور ) غلطی سے زنانہ قمیص اٹھا لی حتیٰ کہ اسکے بعد ( پیچھےسے ) آپ کی چادر آپ کو لاکر دی گئی ۔ کہا : میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوئی اور ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر سے ) مسجد میں داخل ہوئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قیام کی حالت میں دیکھا ۔ میں بھی آپ کی اقتداء میں کھڑی ہوگئی ۔ آپ نے بہت لمبا قیام کیا حتیٰ کہ میں نے اپنے آپ کو اس حالت میں دیکھا کہ میں بیٹھنا چاہتی تھی ، پھر میں کسی کمزور عورت کی طرف متوجہ ہوتی اور ( دل میں ) کہتی : یہ تو مجھ سے بھی زیادہ کمزور ہے ۔ ( اور کھڑی رہتی ہے ) پھر آپ نے رکوع کیا تو رکوع کو انتہائی لمبا کردیا ، پھر آپ نے ( رکوع سے ) اپناسر اٹھایا تو قیام کو بہت طول دیا ۔ یہاں تک کہ اگر کوئی آدمی ( اس حالت میں ) آتا تو اسے خیال ہوتا کہ ابھی تک آپ نے رکوع نہیں کیا ۔