📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم

Sahih Muslim (صحيح مسلم)
📁 سورج اور چاند گرہن کے احکام (كِتَاب الْكُسُوفِ) 🏷️ باب: باب: جنت اور جہنم میں سے کسوف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کچھ پیش کیا گیا؟
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 2102 🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 904.03 📖 صحيح مسلم باب:10 حدیث نمبر : 12 Sahih Muslim 2102
کتاب #10: سورج اور چاند گرہن کے احکام
3: باب مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ:
باب: جنت اور جہنم میں سے کسوف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کچھ پیش کیا گیا؟
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّاسُ: إِنَّمَا انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، بَدَأَ فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَرَأَ قِرَاءَةً دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ أَيْضًا ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا، وَرُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ، ثُمَّ تَأَخَّرَ وَتَأَخَّرَتِ الصُّفُوفُ خَلْفَهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَتَّى انْتَهَى إِلَى النِّسَاءِ، ثُمَّ تَقَدَّمَ وَتَقَدَّمَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى قَامَ فِي مَقَامِهِ، فَانْصَرَفَ حِينَ انْصَرَفَ، وَقَدْ آضَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ "، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: " لِمَوْتِ بَشَرٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ، مَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ، لَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ، فَإِنْ فُطِنَ لَهُ، قَالَ: إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي، وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ، وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا، ثُمَّ جِيءَ بِالْجَنَّةِ وَذَلِكُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي، وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ، ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ، فَمَا مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ ".
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہم سے عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، نیز محمد بن عبداللہ نمیر نے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ دونوں کے لفظ ملتے جلتے ہیں ۔ کہا : ہمیں میرے والد ( عبداللہ بن نمیر ) نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں عبدالملک نے عطاء سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیتے ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے ، سورج گرہن ہوگیا ، ( بعض ) لوگوں نے کہا : سورج کو گرہن حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت کی بنا پر لگا ہے ۔ ( پھر ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو چھ رکوعوں ، چار سجدوں کے ساتھ ( دو رکعت ) نماز پڑھائی ۔ آغاز کیاتو اللہ اکبر کہا ، پھرقراءت کی اور طویل قراءت کی ، پھر جتنا قیام کیا تھا تقریباً رکوع کیا ، پھر رکوع سے ا پنا سر اٹھایا اور پہلی قراءت سےکچھ کم قراءت کی ، پھر ( اس ) قیام جتنا رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا اور دوسری قراءت سے کچھ کم قراءت کی ، پھر ( اس ) قیام جتنا رکوع کیا ، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھایا ، پھر سجدے کے لئے جھکے اور دو سجدے فرمائے ، پھر کھڑے ہوئے اور ( اس دوسری ر کعت میں بھی ) تین رکوع کیے ، ان میں سے ہر پہلا رکوع بعد والے رکوع سے زیادہ لمباتھا اور آپ کا رکوع تقریباً سجدے کے برابر تھا ، پھرآپ پیچھے ہٹے تو آپ کے پیچھے والی صفیں بھی پیچھے ہٹ گئیں حتیٰ کہ ہم لوگ آخر ( آخری کنارے ) تک پہنچ گئے ۔ ابو بکر ( ابن ابی شیبہ ) نے کہا : حتیٰ کہ آپ عور توں کی صفوں کے قر یب پہنچ گئے ۔ پھر آپ آگے بڑھے اور آپ کے ساتھ لوگ بھی ( صفوں میں ) آگے بڑھ آئے حتیٰ کہ آپ ( واپس ) اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے پھر جب آپ نے نماز سے سلام پھیرا ، اس وقت سورج اپنی اصلی حالت پر آچکا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " لوگو!سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہی ہیں اور بلا شبہ ان دونوں کو ، لوگوں میں سے کسی کی موت پر گرہن نہیں لگتا ۔ ابو بکر ( بن ابی شیبہ ) نے " کسی بشر کی موت پر " کہا ۔ پس جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو تو اس وقت تک نماز پڑھو جب تک کہ یہ زائل ہوجائے ، کوئی چیز نہیں جس کا تم سے وعدہ کیاگیا ہے مگر میں نے اسے اپنی اس نماز میں دیکھ لیاہے ۔ آگ ( میرے سامنے ) لائی گئی اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں اس ڈر سے پیچھے ہٹا ہوں کہ اس کی لپٹیں مجھ تک نہ پہنچیں ۔ یہاں تک کہ میں نے اس آگ میں مڑے ہوئے سرے والی چھڑی کے مالک کو دیکھ لیا ، وہ آگ میں اپنی انتڑیاں کھینچ رہا ہے ۔ وہ اپنی اس مڑے ہوئے سرے والی چھڑی کے زریعے سے حاجیوں کی ( چیزیں ) چوری کرتا تھا ۔ اگر اس ( کی چوری ) کا پتہ چل جاتا تو کہہ دیتا : یہ چیز میری لاٹھی کے ساتھ اٹک گئی تھی ، اور اگر پتہ نہ چلتا تووہ اسے لے جاتا ۔ یہاں تک کہ میں نے اس ( آگ ) میں بلی والی اس عورت کو بھی دیکھا جس نے اس ( بلی ) کو باندھ رکھا ، نہ خود اسے کچھ کھلایااور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے اس چھوٹے موٹے جاندار اور پرندے کھا لیتی ، حتیٰ کہ وہ ( بلی ) بھوک سے مر گئی ، پھر جنت کو ( میرے سامنے ) لایاگیا اور یہ اس وقت ہوا جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں آگے بڑھا حتیٰ کہ میں واپس اپنی جگہ پر آکھڑا ہوا ، میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور میں چاہتا تھا کہ میں اس کے پھل میں سے کچھ لے لوں تاکہ تم اسے دیکھ سکو ، پھر مجھ پر بات کھلی کہ میں ایسا نہ کروں ، کوئی ایسی چیز نہیں جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے مگر میں نے وہ اپنی اس نماز میں دیکھ لی ہے ۔
صحيح مسلم • حدیث #2102
2100 2101 2102 2103 2104

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2100 وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، ع...
اسماعیل ابن علیہ نے ہشام دستوائی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے جابر بن عبداللہ سے حد...
#2101 وحَدَّثَنِيهِ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَنْ هِ...
عبدالملک بن صباح نے ہشام دستوائی سے اسی سند کےھ ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ، مگر ...
#2103 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَام...
ہمیں ( عبداللہ ) ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم سے ہشام نے ، انھوں نے ( اپنی بیوی ) فاطمہ ( بنت...
#2104 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ ...
ابو اسامہ نے ہشام سے ، انھوں نے فاطمہ سے اور انھوں نے حضرت اسمارضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے ...
#2105 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ...
عروہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : سورج کے لیے کسف نہ کہو ، بلکہ خسف کا لفظ استعمال کرو ۔ ( اردو میں ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ