📖 صحيح مسلم • فہرست کتب (Book Index) ↗

صحيح مسلم - حدیث نمبر 2103

Sahih Muslim Hadith 2103 (صَحِيحُ مُسْلِمٍ)
کتاب #10 📁 سورج اور چاند گرہن کے احکام (كِتَاب الْكُسُوفِ) ← 🏷️ باب: جنت اور جہنم میں سے کسوف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کچھ پیش کیا گیا؟
عربی:
اردو:
صحيح مسلم حدیث نمبر: 2103 🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 905 Sahih Muslim 2103
کتاب #10: سورج اور چاند گرہن کے احکام
3: باب مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاَةِ الْكُسُوفِ مِنْ أَمْرِ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ:
🏷️ باب: جنت اور جہنم میں سے کسوف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کچھ پیش کیا گیا؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ، فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَى السَّمَاءِ، فَقُلْتُ: آيَةٌ. قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّى تَجَلَّانِي الْغَشْيُ، فَأَخَذْتُ قِرْبَةً مِنْ مَاءٍ إِلَى جَنْبِي، فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَى رَأْسِي أَوْ عَلَى وَجْهِي مِنَ الْمَاءِ، قَالَتْ: فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ مَا مِنْ شَيْءٍ لَمْ أَكُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا، حَتَّى الْجَنَّةَ وَالنَّارَ، وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا، أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ "، لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَيُؤْتَى أَحَدُكُمْ، فَيُقَالُ: مَا عِلْمُكَ بِهَذَا الرَّجُلِ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوِ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَيَقُولُ: هُوَ مُحَمَّدٌ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى، فَأَجَبْنَا وَأَطَعْنَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَيُقَالُ لَهُ: نَمْ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ إِنَّكَ لَتُؤْمِنُ بِهِ، فَنَمْ صَالِحًا، وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوِ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: " فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا، فَقُلْتُ:
ہمیں (عبداللہ) ابن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہم سے ہشام نے، انہوں نے (اپنی بیوی) فاطمہ (بنت منذر بن زبیر بن عوام) سے اور انہوں نے (اپنی دادی) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں سورج کو گرہن لگ گیا، چنانچہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آئی اور وہ (ساتھ مسجد میں) نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا وہ (اس وقت) نماز پڑھ رہے ہیں؟ انہوں نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ تو میں نے پوچھا: کوئی نشانی (ظاہر ہوئی) ہے؟ انہوں نے (اشارے سے) بتایا: ہاں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کو بہت زیادہ لمبا کیا حتیٰ کہ مجھ پر غشی طاری ہونے لگی، میں نے اپنے پہلو میں پڑی مشک اٹھائی اور اپنے سر یا اپنے چہرے پر پانی ڈالنے لگی۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب فرمایا، اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور اس کی ثناء بیان کی، پھر فرمایا: ”امابعد (حمد و ثناء کے بعد)! کوئی چیز ایسی نہیں جس کا میں نے مشاہدہ نہیں کیا تھا مگر اب میں نے اپنی اس جگہ سے اس کا مشاہدہ کر لیا ہے حتیٰ کہ جنت اور دوزخ بھی دیکھ لی ہیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ مجھ پر یہ وحی کی گئی ہے کہ عنقریب قبروں میں تمہاری مسیح دجال کی آزمائش کے قریب یا اس جیسی آزمائش ہوگی۔“ (فاطمہ نے کہا) مجھے پتہ نہیں، حضرت اسماء رضی اللہ عنہما نے ان میں سے کون سا لفظ کہا۔ ”اور تم میں سے ہر ایک کے پاس (فرشتوں کی) آمد ہو گی اور پوچھا جائے گا: تم اس آدمی کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ تو مومن یا یقین رکھنے والا۔“ مجھے معلوم نہیں حضرت اسماء رضی اللہ عنہما نے کون سا لفظ کہا۔ ”کہنے گا: وہ محمد ہیں، وہ اللہ کے رسول ہیں، ہمارے پاس کھلی نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے، ہم نے ان (کی بات) کو قبول کیا اور اطاعت کی، تین دفعہ (سوال و جواب) ہوگا۔ پھر اس سے کہا جائے گا: سو جاؤ، ہمیں معلوم تھا کہ تم ان پر ایمان رکھتے ہو۔ ایک نیک بخت کی طرح سو جاؤ۔ اور رہا منافق یا وہ جو شک و شبہ میں مبتلا تھا۔“ معلوم نہیں حضرت اسماء رضی اللہ عنہما نے ان میں سے کون سا لفظ کہا۔ ”تو وہ کہے گا: میں نہیں جانتا، میں نے لوگوں کو کچھ کہتے ہوئے سنا تھا تو وہی کہہ دیا تھا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2103]
صحيح مسلم • حدیث #2103
2101 2102 2103 2104 2105

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#2100 وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، ع...
اسماعیل بن علیہ نے ہشام دستوائی سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے حدیث سنائی،...
#2101 وحَدَّثَنِيهِ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَنْ هِ...
عبدالملک بن صباح نے ہشام دستوائی سے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: (آپ نے فرم...
#2102 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَ...
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہم سے عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی، نیز محمد بن عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی۔ دونوں کے ...
#2104 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ ...
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے فاطمہ سے اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ ...
#2105 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ...
عروہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سورج کے لیے کسف نہ کہو، بلکہ خسف کا لفظ استعمال کرو۔ (اردو میں دونوں کا معنی ”گرہن“ ہی ہ...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ