صحيح مسلم حدیث نمبر: 2085
🌍 صحيح مسلم حدیث نمبر: 899.02
📖 صحيح مسلم باب:9 حدیث نمبر : 16
Sahih Muslim 2085
کتاب #9: بارش طلب کرنے کی نماز
4: باب التَّعَوُّذِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ وَالْفَرَحِ بِالْمَطَرِ:
باب: ہوا اور بادل دیکھ کر پناہ مانگنا اور بارش دیکھ کر خوش ہونے کا بیان۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يُحَدِّثُنَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ "، قَالَتْ: وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا سورة الأحقاف آية 24 ".
ابن جریج عطاء بن ابی رباح سے حدیث بیان کرتے ہیں ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روای کی کہ انھوں نے کہا : جب تیز ہوا چلتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے : " اے اللہ!میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوا ل کرتا ہوں ۔ اور جو اس میں ہے اس کی اور جو کچھ اس کے زریعے بھیجا گیا ہے اس کی خیر ( کا طلبگار ہوں ) اور اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اور جو اس میں بھیجا گیا ہے ا س کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں " ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جب آسمان پر بادل گھر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور آ پ ( اضطراب کے عالم میں ) کبھی باہر نکلتے اور کبھی اندر آتے ، کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے ہٹتے ، اس کے بعد جب بارش برسنے لگتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ کیفیت ) دورہوجاتی ، مجھے اس کیفیت کا پتہ چل گیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : تومیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عائشہ!ہوسکتاہے ( یہ اسی طرح ہو ) جیسے قوم عاد نے ( بادلوں کو دیکھ کر ) کہا تھا : " جب انھوں نے اس ( عذاب ) کو بادل کی طرح اپنی بستیوں کی طرف آتے دیکھا تو انھوں نے کہا : یہ بادل ہے جو ہم پربرسے گا ۔