كِتَاب صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ
کتاب #9: بارش طلب کرنے کی نماز
|
1ق: باب:
باب: نماز استسقاء کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْمَازِنِيَّ ، يَقُولُ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَاسْتَسْقَى وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ حِينَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے روایت کی، انہوں نے عباد بن تمیم سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ سے) باہر نکل کر عیدگاہ گئے، بارش مانگی اور جب آپ قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چادر کو پلٹا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2070]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمُصَلَّى، فَاسْتَسْقَى وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ".
سفیان بن عیینہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے، انہوں نے عباد بن تمیم سے اور انہوں نے اپنے چچا (عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ سے) نکل کر عیدگاہ تشریف لے گئے اور بارش کی دعا کی، آپ نے قبلے کی طرف رخ کیا، اپنی چادر پلٹی اور دو رکعت نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2071]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي، وَأَنَّهُ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ ".
ابوبکر بن محمد بن عمرو نے بتایا کہ ان کو عباد بن تمیم نے خبر دی، ان کو حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا کرنے کے لیے عیدگاہ گئے اور جب آپ نے دعا کرنے کا ارادہ فرمایا تو قبلہ کی طرف رخ کر لیا اور اپنی چادر کو پلٹ دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2072]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ الْمَازِنِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمَّهُ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَسْتَسْقِي، فَجَعَلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ يَدْعُو اللَّهَ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ".
ابن شہاب نے کہا: مجھے عباد بن تمیم مازنی نے خبر دی، انہوں نے اپنے چچا سے سنا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے تھے وہ کہہ رہے تھے: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا مانگنے کے لیے نکلے، اللہ سے دعا کرتے ہوئے اپنی پشت لوگوں کی طرف کی، منہ قبلہ کی طرف کیا اور اپنی چادر پلٹی، پھر دو رکعت نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2073]
|
|
|
1: باب رَفْعِ الْيَدَيْنِ بِالدُّعَاءِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ:
باب: نماز استسقاء کے موقع پر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ".
شعبہ نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ دعا کے لیے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2074]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَسْقَى فَأَشَارَ بِظَهْرِ كَفَّيْهِ إِلَى السَّمَاءِ ".
حماد بن سلمہ نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش مانگنے کے لیے دعا فرمائی تو اپنے ہاتھوں کی پشت کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2075]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ، إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ". غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ الْأَعْلَى، قَالَ: " يُرَى بَيَاضُ إِبْطِهِ أَوْ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ".
ابن ابی عدی اور عبدالاعلیٰ نے سعید (بن ابی عروبہ) سے، انہوں نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے سوا کسی اور دعا کے لیے اپنے ہاتھ (اتنے زیادہ) بلند نہیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اس سے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھائی دینے لگتی، البتہ عبدالاعلیٰ نے (شک کے ساتھ) کہا يرى بياض إبطه أو بياض إبطيه (آپ کی بغل کی سفیدی یا دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھائی دینے لگتی)۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2076]
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
یحییٰ بن سعید نے (سعید) بن ابی عروبہ سے اور انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2077]
|
|
|
2: باب الدُّعَاءِ فِي الاِسْتِسْقَاءِ:
باب: نماز استسقاء کے موقع پر دعا مانگنا۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ جُمُعَةٍ مِنْ بَابٍ كَانَ نَحْوَ دَارِ الْقَضَاءِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا، ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ يُغِثْنَا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا اللَّهُمَّ أَغِثْنَا ". قَالَ أَنَسٌ: وَلَا وَاللَّهِ مَا نَرَى فِي السَّمَاءِ مِنْ سَحَابٍ وَلَا قَزَعَةٍ وَمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ سَلْعٍ مِنْ بَيْتٍ وَلَا دَارٍ، قَالَ: فَطَلَعَتْ مِنْ وَرَائِهِ سَحَابَةٌ مِثْلُ التُّرْسِ فَلَمَّا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ انْتَشَرَتْ، ثُمَّ أَمْطَرَتْ، قَالَ: فَلَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا الشَّمْسَ سَبْتًا، قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ ذَلِكَ الْبَابِ فِي الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَاسْتَقْبَلَهُ قَائِمًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَتِ الْأَمْوَالُ وَانْقَطَعَتِ السُّبُلُ، فَادْعُ اللَّهَ يُمْسِكْهَا عَنَّا، قَالَ: فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ حَوْلَنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ "، فَانْقَلَعَتْ وَخَرَجْنَا نَمْشِي فِي الشَّمْسِ، قَالَ شَرِيكٌ: فَسَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: أَهُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّلُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي.
شریک بن ابی نمر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جمعے کے روز ایک آدمی اس دروازے سے مسجد میں داخل ہوا جو دارالقضاء کی طرف تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کھڑے کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا، پھر کہا: اے اللہ کے رسول! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور راستے منقطع ہو چکے، اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں بارش عطا کرے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیے، پھر کہا: ”اے اللہ! ہمیں بارش عنایت فرما، اے اللہ! ہمیں بارش عنایت فرما، اے اللہ! ہمیں بارش سے نواز دے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! ہم آسمان میں نہ کوئی گھٹا دیکھ رہے تھے اور نہ بادل کا کوئی ٹکڑا۔ ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی گھر تھا نہ محلہ۔ پھر اس کے پیچھے سے ڈھال جیسی چھوٹی سی بدلی اٹھی، جب وہ آسمان کے وسط میں پہنچی تو پھیل گئی، پھر وہ برسی، اللہ کی قسم! ہم نے ہفتہ بھر سورج نہ دیکھا۔ پھر اگلے جمعے اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کھڑے کھڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کر کے کہا: اے اللہ کے رسول! (بارش کی کثرت سے) مال مویشی ہلاک ہو گئے اور راستے بند ہو گئے، اس لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہم سے بارش روک لے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھا دیے، پھر فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے ارد گرد (بارش برسا) ہم پر نہیں، اے اللہ! پہاڑیوں پر، ٹیلوں پر، وادیوں کے اندر (ندیوں میں) اور درخت اگنے کے مقامات پر (برسا)۔“ کہا: (فوراً) بادل چھٹ گئے اور ہم (مسجد سے) نکلے تو دھوپ میں چل رہے تھے۔ شریک نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا وہ پہلے آدمی تھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نہیں جانتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2078]
|
|
|
وحَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي إسحاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أَصَابَتِ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ قَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، وَفِيهِ قَالَ: " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا "، قَالَ فَمَا يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى نَاحِيَةٍ إِلَّا تَفَرَّجَتْ، حَتَّى رَأَيْتُ الْمَدِينَةَ فِي مِثْلِ الْجَوْبَةِ وَسَالَ وَادِي قَنَاةَ شَهْرًا، وَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ مِنْ نَاحِيَةٍ إِلَّا أَخْبَرَ بِجَوْدٍ.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو خشک سالی نے آ لیا۔ اسی اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن منبر پر لوگوں کے سامنے خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک بدوی کھڑا ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مال مویشی ہلاک ہو گئے، بال بچے بھوکے مرنے لگے۔ (آگے) اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ اور اس میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے ارد گرد (برسا) ہمارے اوپر نہیں۔“ کہا: اور آپ اپنے ہاتھ سے جس طرف بھی اشارہ کرتے تھے اسی طرف سے بادل چھٹ جاتے تھے حتیٰ کہ میں نے مدینہ منورہ کو (زمین کے) خالی ٹکڑے کے مانند دیکھا اور وادی قناۃ ایک ماہ تک بہتی رہی اور کسی طرف سے بھی کوئی شخص نہیں آیا مگر اس نے موسلادھار بارش کی خبر دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2079]
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا، وَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْأَعْلَى: " فَتَقَشَّعَتْ، عَنْ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوَالَيْهَا، وَمَا تُمْطِرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً، فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ ".
عبدالاعلیٰ بن حماد اور محمد بن ابی بکر مقدمی نے کہا: ہمیں معتمر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے ثابت بنانی سے اور انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ لوگ آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے، (بات شروع کرنے والے بدو کے ساتھ دوسرے بھی شامل ہو گئے) وہ فریاد کرنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! بارش بند ہو گئی، درختوں (کے پتے سوکھ کر) سرخ ہو گئے اور مویشی ہلاک ہو گئے۔ (آگے مذکورہ بالا حدیث کے مانند) حدیث بیان کی۔ اس میں عبدالاعلیٰ کی روایت سے یہ (الفاظ) ہیں: مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور اس کے ارد گرد بارش برسانے لگے جبکہ مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں برس رہا تھا میں نے مدینہ کو دیکھا وہ ایک طرح کے تاج کے اندر (بارش سے محفوظ) تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2080]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ " فَأَلَّفَ اللَّهُ بَيْنَ السَّحَابِ، وَمَكَثْنَا حَتَّى رَأَيْتُ الرَّجُلَ الشَّدِيدَ تَهُمُّهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ ".
سلمان بن مغیرہ نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اسی کے ہم معنی روایت کی اور یہ اضافہ کیا: اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو جوڑ دیا اور ہم اسی (حالت) میں رہے حتیٰ کہ میں نے دیکھا ایک قوی اور مضبوط آدمی کو بھی اس کا دل (بارش کی کثرت کی بناء پر) اس فکر میں مبتلا کر دیتا تھا کہ وہ اپنے اہل و عیال کے پاس پہنچے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2081]
|
|
|
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ "، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَزَادَ: " فَرَأَيْتُ السَّحَابَ يَتَمَزَّقُ كَأَنَّهُ الْمُلَاءُ حِينَ تُطْوَى ".
حفص بن عبیداللہ بن انس بن مالک نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: جمعے کے دن ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ منبر پر تھے۔ (آگے مذکورہ بالا حدیث کے مانند) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: میں نے بادل کو دیکھا وہ اس طرح چھٹ رہا تھا جیسے وہ ایک بڑی چادر ہو جب اسے لپیٹا جا رہا ہو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2082]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ : " أَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطَرٌ، قَالَ: فَحَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ حَتَّى أَصَابَهُ مِنَ الْمَطَرِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا؟ قَالَ: " لِأَنَّهُ حَدِيثُ عَهْدٍ بِرَبِّهِ تَعَالَى ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش برسنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا (سر اور کندھے کا کپڑا) کھول دیا حتیٰ کہ بارش آپ پر آنے لگی۔ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: ”کیونکہ وہ نئی نئی (سیدھی) اپنے رب عز و جل کی طرف سے آ رہی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2083]
|
|
|
4: باب التَّعَوُّذِ عِنْدَ رُؤْيَةِ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ وَالْفَرَحِ بِالْمَطَرِ:
باب: ہوا اور بادل دیکھ کر پناہ مانگنا اور بارش دیکھ کر خوش ہونے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَى أُمَّتِي "، وَيَقُولُ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ: " رَحْمَةٌ ".
جعفر بن محمد نے عطاء بن ابی رباح سے روایت کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آندھی یا بادل کا دن ہوتا تو آپ کے چہرہ مبارک پر اس کا اثر پہچانا جا سکتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اضطراب کے عالم میں) کبھی آگے جاتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، پھر جب بارش برسنے شروع ہو جاتی تو آپ اس سے خوش ہو جاتے اور وہ (پہلی کیفیت) آپ سے دور ہو جاتی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (ایک بار) آپ سے (اس کا سبب) پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”میں ڈر گیا کہ یہ عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کر دیا گیا ہو۔“ اور بارش کو دیکھ لیتے تو فرماتے ”رحمت ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2084]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يُحَدِّثُنَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ "، قَالَتْ: وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا سورة الأحقاف آية 24 ".
ابن جریج عطاء بن ابی رباح سے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے: ”اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں۔ اور جو اس میں ہے اس کی اور جو کچھ اس کے ذریعے بھیجا گیا ہے اس کی خیر (کا طلبگار ہوں) اور اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اور جو اس میں بھیجا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جب آسمان پر بادل گھر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور آپ (اضطراب کے عالم میں) کبھی باہر نکلتے اور کبھی اندر آتے، کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، اس کے بعد جب بارش برسنے لگتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (یہ کیفیت) دور ہو جاتی، مجھے اس کیفیت کا پتہ چل گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! ہو سکتا ہے (یہ اسی طرح ہو) جیسے قوم عاد نے (بادلوں کو دیکھ کر) کہا تھا: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا (جب انہوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی بستیوں کی طرف آتے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا)۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2085]
|
|
|
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَتْ: فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا ".
سلمان بن یسار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پوری طرح اس طرح ہنستا ہوا نہیں دیکھا کہ میں آپ کے حلق مبارک کے اندر کا ابھرا ہوا حصہ دیکھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرایا کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرہ انور پر عیاں ہو جاتا تو (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اے اللہ کے رسول! میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ جب بادل دیکھتے ہیں تو اس امید پر خوش ہو جاتے ہیں کہ اس میں بارش ہوگی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ اس (بادل) کو دیکھتے ہیں تو میں آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی محسوس کرتی ہوں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! مجھے اس بات سے کیا چیز امن دلا سکتی ہے کہ کہیں ان میں عذاب (نہ) ہو، ایک قوم آندھی کے عذاب کا شکار ہوئی تھی اور ایک قوم نے عذاب کو (دور) سے دیکھا تو کہا: ”یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔““ [صحيح مسلم/حدیث: 2086]
|
|
|
5: باب فِي رِيحِ الصَّبَا وَالدَّبُورِ:
باب: باد صبا اور تیز آندھی کے بیان میں۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ ".
مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باد صبا (مشرقی سمت سے چلنے والی ہوا) سے میری مدد کی گئی ہے اور باد دبور (مغربی سمت سے چلنے والی ہوا) سے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 2087]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانٍ الْجُعْفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 2088]
|
|