📖 صحيح مسلم (Sahih Muslim) • تمام کتب ↗

كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ

لباس اور زینت کے احکام

کتاب #39 • کل احادیث: 201
فلٹر احادیث:
اردو سائز:
عربی سائز:
1: باب تَحْرِيمِ أَوَانِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فِي الشُّرْبِ وَغَيْرِهِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ:
باب: مرد یا عورت کسی کو چاندی یا سونے کے برتن میں کھانا پینا درست نہیں۔
حدیث #5385 بین الاقوامی: 2065.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 1
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ ".
امام مالک نے نافع سے ، انھوں نے زید بن عبد اللہ سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن بن ابوبکرصدیق سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھر رہا ہے ۔
حدیث #5386 بین الاقوامی: 2065.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 2
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ نَافِعٍ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ الَّذِي يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ ذِكْرُ الْأَكْلِ وَالذَّهَبِ إِلَّا فِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ.
قتیبہ اور محمد بن رمح نے ہمیں لیث بن سعد سے یہی حدیث بیان کی ۔ یہی حدیث مجھے علی بن حجر سعدی نے بیان کی ، کہا : ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے حدیث بیان کی ، اور ہمیں ابن نمیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بشر نے حدیث سنا ئی ۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی ، ابو بکر بن ابی شیبہ اور ولید بن شجاع نے کہا : ہمیں علی بن مسہر نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی محمد بن ابی بکر مقدمی نے کہا : ہمیں فضیل بن سلیمان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں مو سیٰ بن عقبہ نے حدیث سنا ئی ۔ شیبان بن فروخ نے کہا : ہمیں جریر بن حازم نے عبدالرحمٰن سراج سے ان سب ( لیث بن سعد ایوب محمد بن بشر یحییٰ بن سعید عبید اللہ موسیٰ بن عقبہ اور عبد الرحمٰن سراج ) نے نافع سے امام مالک بن انس کی حدیث کے مانند اور نافع سے ( اوپر ) انھی کی سند کے ساتھ روایت بیان کی اور عبید اللہ سے علی بن مسہر کی روایت میں اضافہ کیا : " بلا شبہ جو شخص چاندی یا سونے کے برتن میں کھا تا یا پیتا ہے ۔ " ان میں سے اور کسی کی حدیث میں کھانے اور سونے ( کےبرتن ) کا ذکر نہیں ۔ صرف ابن مسہرکی حدیث میں ہے ۔
حدیث #5387 بین الاقوامی: 2065.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 3
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَّاشِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ، فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارًا مِنْ جَهَنَّمَ ".
عثمان بن مرہ نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن عبد الرحمٰن نے اپنی خالہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص سونے یا چا ندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھر رہا ہے ۔
2: باب تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ:
باب: چاندی اور سونے کے استعمال کا بیان۔
حدیث #5388 بین الاقوامی: 2066.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 4
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ أَوْ عَنْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ، وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيبَاجِ ".
(ابو خیثمہ ) زہیر نے کہا : ہمیں اشعث نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے معاویہ بن سوید بن مقرن نے حدیث بیان کی ، کہا : میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا تو ان کو یہ کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اورسات چیزوں سے روکا میریض کی عیادت کرنے جنازے کے ساتھ شریک ہو نے چھنیک کا جواب دینے ( اپنی ) قسم یا قسم دینے والے ( کی قسم پو ری کرنے مظلوم کی مددکرنے دعوت قبول کرنے انگوٹھی پہننے سے چاندی کے برتن میں ( کھا نے ) پینے ارغوانی ( سرخ ) گدوں سے ( اگر وہ ریشم کے ہوں ) مصر کے علاقے قس کے بنے ہوئے کپڑوں ( جو ریشم کے ہو تے تھے ۔ ) اور ( کسی بھی قسم کے ) ریشم استبرق اور دیباج کو پہننے سے روکا ( استبراق ریشم کا مو ٹا کپڑا تھا اور دیباج باریک ۔)
حدیث #5389 بین الاقوامی: 2066.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 5
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، إِلَّا قَوْلَهُ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ وَجَعَلَ مَكَانَهُ وَإِنْشَادِ الضَّالِّ.
ابو عوانہ نے ہمیں اشعث بن سلیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنا ئی ، سوائے " اپنی قسم یا قسم دینے والے ( کی قسم ) " کے الفاظ کے ، انھوں نے حدیث میں یہ فقرہ نہیں کہا : اور اس کے بجا ئے گمشدہ چیز کا اعلا ن کرنے کا ذکر کیا ۔
حدیث #5390 بین الاقوامی: 2066.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 6
مکمل مطالعہ →
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وَقَالَ إِبْرَارِ الْقَسَمِ: مِنْ غَيْرِ شَكٍّ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا، لَمْ يَشْرَبْ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ.
علی مسہر اور جریر دونوں نے شیبانی سے انھوں نے اشعث بن ابی شعثاء سے اسی سندکے ساتھ زہیر کی حدیث کے مانند روایت کی اور بغیر شک کے قسم دینے والے ( کی قسم ) پو ری کرنے کے الفاظ کہے اور حدیث میں مزید بیان کیا : " اور چاندی ( کے برتن ) میں پینے سے ( منع کیا ) کیونکہ جو شخص دنیا میں اس میں پیے گا ۔ وہ آخرت میں اس میں نہیں پیے گا ۔
حدیث #5391 بین الاقوامی: 2066.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 7
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ بِإِسْنَادِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ زِيَادَةَ جَرِيرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ.
ابن ادریس نے کہا : ہمیں ابو اسحٰق شیبانی اور لیث بن ابی سلیم نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور جریر اور ابن مسہر کے اضافے کا ذکر نہیں کیا ۔
حدیث #5392 بین الاقوامی: 2066.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 8
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي بَهْزٌ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِإِسْنَادِهِمْ وَمَعْنَى حَدِيثِهِمْ إِلَّا قَوْلَهُ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، فَإِنَّهُ قَالَ بَدَلَهَا وَرَدِّ السَّلَامِ، وَقَالَ: نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ.
شعبہ نے اشعث بن سلیم سے ان سب کی سند کے ساتھ ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، سوائے ان کے روایت کردہ الفا ظ : " سلام عام کرنے " کے بجا ئے کہا : " اور سلام کا جواب دینے " اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی یا سونے کے کڑے سے منع فرما یا ۔
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، وَعَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، بِإِسْنَادِهِمْ، وَقَالَ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ من غير شك.
ہمیں سفیان نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور شک کے بغیر " سلام عام کرنے اور سونے کی انگوٹھی " کہا ۔
حدیث #5394 بین الاقوامی: 2067.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 9
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ، فَاسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ ، فَجَاءَهُ دِهْقَانٌ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي أُخْبِرُكُمْ أَنِّي قَدْ أَمَرْتُهُ أَنْ لَا يَسْقِيَنِي فِيهِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَالْحَرِيرَ، فَإِنَّهُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهُوَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
سعید بن عمرو بن سہل بن اسحٰق بن محمد بن اشعث بن قیس نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے انھیں ابو فروہ سے ذکر کرتے ہو ئے سنا کہ انھوں نے عبد اللہ بن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : ہم ( ایران کے سابقہ دارالحکومت ) مدائن میں حضرت خذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی ما نگا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں مشروب لے آیا ، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ( مشروب ) کے سمیت وہ برتن پھینک دیا اور کہا : میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ میں پہلے اس سے کہہ چکا ہو ں کہ وہ مجھے اس ( چاندی کے برتن ) میں نہ پلا ئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ہے ۔ " سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج اور حریرنہ پہنو کیونکہ یہ چیز یں دنیا میں ان ( کا فروں ) کے لیے ہیں اور آخرت میں قیامت کے دن تمھا رے لیےہیں ۔
حدیث #5395 بین الاقوامی: 2067.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 10
مکمل مطالعہ →
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْجُهَنِيِّ ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ ، يقول: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابن ابی عمر نے ہمیں یہی حدیث بیان کی کہا : ہمیں سفیان نے ابو فروہ جہنی سے حدیث سنائی ، کہا : میں نے عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ ہم مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھے پھر اس کی طرح بیان کیا اور اس حدیث میں " قیامت کے دن " ( کے الفاظ ) ذکر نہیں کیے ۔
حدیث #5396 بین الاقوامی: 2067.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 11
مکمل مطالعہ →
وحدثني عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَوَّلًا، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، ثُمّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، ثُمّ حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُكَيْمٍ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ ابْنَ أَبِي لَيْلَى إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ عُكَيْمٍ، قال: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابن ابی نجيح نے پہلے ہمیں مجا ہد سے ، انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ سے روایت کی ۔ پھر ہمیں یزید نے حدیث بیان کی ، انھوں نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے سنی ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، پھر ہمیں ابو فروہ نے حدیث بیان کی کہا : میں نے ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی اور میرا خیال یہ ہے کہ ابن ابی لیلیٰ نے بھی یہ حدیث ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی ، انھوں نے کہا : ہم مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ( انکے دستے میں ) تھے ۔ پھر اسی کے مانند بیان کیا اور " قیامت کے دن " کے الفاظ نہیں کہے ۔
حدیث #5397 بین الاقوامی: 2067.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 12
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أبى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى بِالْمَدَائِنِ، فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُكَيْمٍ عَنْ حُذَيْفَةَ.
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے دیکھا کہ مدا ئن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پا نی مانگا تو ایک شخص ان کے پاس چاندی کا برتن لے کر آیا پھر انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابن عکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روا یت کے مانند بیان کیا ۔
حدیث #5398 بین الاقوامی: 2067.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 13
مکمل مطالعہ →
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ بمثل حديث مُعَاذٍ وَإِسْنَادِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ غَيْرُ مُعَاذٍ وَحْدَهُ إِنَّمَا قَالُوا إِنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى.
وکیع محمد بن جعفر ابن ابی عدی اور بہز ، ان سب نے شعبہ سے معاذ کی حدیث کے مانند انھی کی سند کے ساتھ حدیث روایت کی اور اکیلے معاذ کے سوا ، ان میں سے کسی نے حدیث میں " میں نے حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا " کے الفا ظ نہیں کہے ۔ سب نے یہی کیا : حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا ۔
حدیث #5399 بین الاقوامی: 2067.06 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 14
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَنْ ذَكَرْنَا.
منصور اور ابن عون دونوں نے مجا ہد سے ، انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی جن کا ہم نے ذکر کیا ہے ۔
حدیث #5400 بین الاقوامی: 2067.07 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 15
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يقول: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، قال: اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ ، فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَقَالَ: إِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ، وَلَا الدِّيبَاجَ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا ".
‏سیف نے کہا کہ میں نے مجا ہد کو کہتے و ئے سنا ، عبد اللہ الرحمن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانی مانگا تو ایک مجوسی ان کے پاس چاندی کے برتن میں پانی لا یا تو انھوں ( حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتےہو ئے سناہے ۔ " ریشم پہنو دیباج پہنو اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پیو اور نہ ان ( قیمتی دھاتوں ) کی رکابیوں ( پلیٹوں ) میں کھا ؤکیونکہ یہ برتن دنیا میں ان ( کفار ) کے لیے ہیں ۔
3ق: باب تَحْرِيمِ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَغَيْرِ ذٰلَكَ لِلرِّجَالِ
باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔
حدیث #5401 بین الاقوامی: 2068.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 16
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا لِلنَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ "، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا "، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
مالک نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد کے دروازے کے قریب ( بازار میں ) ایک ریشمی حُلَہ ( ایک جیسی رشیمی چادروں کا جوڑا بکتے ہو ئے ) دیکھا ۔ انھوں نے کہا : کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کتنا اچھا ہو اگر آپ یہ حلہ خریدلیں اور جمعہ کے دن لوگوں کے سامنے ( خطبہ دینے کے لیے ) اور جب کو ئی وفد آپ کے پاس آئے تو اسے زیب تن فرما ئیں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس کو ( دنیا میں ) صرف وہ لو گ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان میں سے کچھ ریشمی حلے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرما یا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے مجھے یہ حلہ پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد ( بن حاجب بن ز رارہ جو مسجد کے دروازے کے باہر حلے بیچ رہے تھے ) کے حلے کے بارے میں جو فرما یا تھا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے یہ حلہ تم کو پہننے کے لیے نہیں دیا ۔ " پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ حلہ مکہ میں اپنے ایک بھا ئی کو دے دیا جو مشرک تھا ۔
حدیث #5402 بین الاقوامی: 2068.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 17
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
عبید اللہ اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نا فع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی ۔
حدیث #5403 بین الاقوامی: 2068.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 18
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: رَأَى عُمَرُ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ يُقِيمُ بِالسُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، وَكَانَ رَجُلًا يَغْشَى الْمُلُوكَ وَيُصِيبُ مِنْهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يُقِيمُ فِي السُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، فَلَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِوُفُودِ الْعَرَبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ وَأَظُنُّهُ، قَالَ: وَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ "، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ سِيَرَاءَ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ وَبَعَثَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ، وَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حُلَّةً، وَقَالَ: شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ بِحُلَّتِهِ يَحْمِلُهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ بِالْأَمْسِ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا "، وَأَمَّا أُسَامَةُ فَرَاحَ فِي حُلَّتِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرًا، عَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْكَرَ مَا صَنَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ فَأَنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ ".
جریر بن حازم نے کہا : ہمیں نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت بیان کی کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھا کہ عُطارد تمیمی بازار میں ایک ریشمی حلہ ( بیچنے کے لیے ) اس کی قیمت بتا رہا ہے ۔ یہ بادشاہوں کے پاس جایا کرتا تھا اور ان سے انعام واکرا م وصول کرتا تھا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے عطارد کو دیکھا ہے وہ بازار میں ایک ریشمی حلہ بیچ رہا ہے ، آپ اسے خرید لیتے تو آپ عرب کے وفود آتے ( اس وقت ) آپ اس کو زیب تن فرما تے اور میراخیال ہے ( یہ بھی ) کہا : اور جمعہ کے دن بھی آپ اسے زیب تن فرما تے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا : " دنیا میں ریشم صرف وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ہو تا ۔ اس واقعے کے بعد ( کا ایک دن آیاتو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی ریشمی حلے آئے آپ نے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھی بھیجا ، ایک حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیجا اور ایک حلہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا اور فرما یا : " اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں کو دوپٹے بنا دو ۔ " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے حلے کو اٹھا کر لا ئے اور عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے یہ حلہ میرے پاس بھیجا ہے حالانکہ آپ نےکل ہی عطارد کے حلے کے متعلق فرمایا تھا ۔ جو آپ نے فرما یا تھا؟ آپ نے فرمایا : " میں نے تمھا رے پاس یہ حلہ اس لیے نہیں بھیجا کہ اسے تم خود پہنو ، بلکہ میں نے تمھا رے پاس یہ اس لیے بھیجا ہے کہ تم کچھ ( فائدہ ) حاصل کرو ۔ " تو رہے حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو وہ اپنا حلہ پہن کر آگئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس طرح دیکھا جس سے انھیں پتہ چل گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا ایسا کرنا پسند نہیں آیا امھوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ آپ ہی نے تو اسے میرے پاس بھیجا تھا ۔ آپ نے فرما یا : " میں نے تمھا رے پاس اسلیے نہیں بھیجا تھا کہ تم خود اس کو پہن لو ۔ بلکہ میں نے اس لیے اس حلے کو تمھا رے پاس بھیجا تھا کہ تم اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو ۔
حدیث #5404 بین الاقوامی: 2068.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 19
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قال: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوَفْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، قَالَ: فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ، ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ ".
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے سالم بن عبد اللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ استبرق ( موٹے ریشم ) کا ایک حلہ بازار میں فروخت ہو تا ہوا دیکھا انھوں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اسے خرید لیجئے اور عید اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن فرمائیے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " یہ صرف ایسے شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔ " کہا : پھر جب تک اللہ کو منظور تھا وقت گزرا ( لفظی ترجمہ : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی حالت میں رہے ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس دیباج کا ایک جبہ بھیج دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو ئے اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرما یا تھا : " یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ یاآپ نے ( اس طرح ) فرما یا تھا : " اس کووہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ۔ " پھر آپ نے یہی میرے پاس بھیج دیا ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( اس لیے کہ ) تم اس کو فروخت کر دواوراس ( کی قیمت ) سے اپنی ضرورت پو ری کرلو ۔
حدیث #5405 بین الاقوامی: 2068.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 20
مکمل مطالعہ →
وحدثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ۔
حدیث #5406 بین الاقوامی: 2068.06 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 21
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوِ اشْتَرَيْتَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، فَأُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ، قَالَ: قُلْتُ أَرْسَلْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ: " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا ".
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو بکر بن حفص نے سالم سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عطارد کے خاندان والوں میں سے ایک آدمی ( کےکندھوں ) پر دیباج یا ریشم کی ایک قبا دیکھی تو ا نھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : کتنا اچھا ہو اگر آپ اس کو خرید لیں! آپ نے فرمایا : " اس کو صرف وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ " پھر ( بعد میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ، کہا : میں نے عرض کی : آپ نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ہے ۔ جبکہ میں اس کے متعلق آپ سے سن چکا ہوں ، آپ نے اس کے بارے میں جو فرمایا تھا سوفرمایا تھا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اسے تمھارے پا س صرف اس لئے بھیجاہے کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ ۔
حدیث #5407 بین الاقوامی: 2068.07 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 22
مکمل مطالعہ →
وحدثني ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِهَا وَلَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا.
روح نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو بکر بن حفص نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب نے آل عطارد کے ایک آدمی ( کے کندھوں ) پر ( بیچنے کےلیے ایک حلہ ) دیکھا ، جس طرح یحییٰ بن سعید کی ایک حدیث ہے ۔ ، مگر انھوں نے یہ الفاظ کہے : " میں نے اسے تمھارے پاس صرف اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس لئے تمھارے پاس نہیں بھیجا تھا کہ تم ( خود ) اسے پہنو ۔
حدیث #5408 بین الاقوامی: 2068.08 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 23
مکمل مطالعہ →
حدثني مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال: قَالَ لِي: سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي الْإِسْتَبْرَقِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ، فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يقول: رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا.
یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث بیان کی ، کہا : سالم بن عبداللہ نے مجھ سے استبرق کے متعلق دریافت کیا ، کہا : میں نے کہا : وہ دیباج جو موٹا اور سخت ہو ۔ انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص ( کے کندھے ) پر استبرق کا ایک حلہ دیکھا ، وہ اس ( حلے ) کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، پھر انھوں نے ان سب کی حدیث کے مانند بیان کیا ، البتہ اس میں یہ کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نےیہ جبہ اس لئے تمھارے پاس بھیجا کہ تم اس کے ذریعے سے ( اسے بیچ کر ) کچھ مال حاصل کرلو ۔
حدیث #5409 بین الاقوامی: 2069.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 24
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ خَالَ وَلَدِ عَطَاءٍ، قال: أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَتْ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ، وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ؟ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ مِنْهُ، وَأَمَّا مِيثَرَةُ الْأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ عَبْدِ اللَّهِ، فَإِذَا هِيَ أُرْجُوَانٌ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَسْمَاءَ فَخَبَّرْتُهَا، فَقَالَتْ: هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةَ طَيَالِسَةٍ كِسْرَوَانِيَّةٍ لَهَا لِبْنَةُ دِيبَاجٍ، وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ: هَذِهِ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ، حَتَّى قُبِضَتْ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى يُسْتَشْفَى بِهَا.
حضرت اسماء بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ ( کیسان ) سے روایت ہے ، جو کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کا مولیٰ اور عطاء کے لڑکے کا ماموں تھا نے کہا کہ مجھے اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ میں نے سنا ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام کہتے ہو ، ایک تو کپڑے کو جس میں ریشمی نقش ہوں ، دوسرے ارجوان ( یعنی سرخ ڈھڈھاتا ) زین پوش کو اور تیسرے تمام رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کو ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رجب کے مہینے کے روزوں کو کون حرام کہے گا؟ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے گا ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ روزہ علاوہ عیدین اور ایام تشریق کے رکھتے تھے اور ان کا مذہب یہی ہے کہ صوم دہر مکروہ نہیں ہے ) ۔ اور کپڑے کے ریشمی نقوش کا تو نے ذکر کیا ہے تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ حریر ( ریشم ) وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ، تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں نقشی کپڑا بھی حریر ( ریشم ) نہ ہو اور ارجوانی زین پوش ، تو خود عبداللہ کا زین پوش ارجوانی ہے ۔ یہ سب میں نے جا کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جبہ موجود ہے ، پھر انہوں نے طیالسی کسروانی جبہ ( جو ایران کے بادشاہ کسریٰ کی طرف منسوب تھا ) نکالا جس کے گریبان پر ریشم لگا ہوا تھا اور دامن بھی ریشمی تھے ۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ جبہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک ان کے پاس تھا ۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو یہ جبہ میں نے لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہنا کرتے تھے اب ہم اس کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو شفاء کے لئے پلاتے ہیں ۔
حدیث #5410 بین الاقوامی: 2069.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 25
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ أَبِي ذِبْيَانَ ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَخْطُبُ، يقول: أَلَا لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ، فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ ".
شعبہ نے خلیفہ بن کعب ابی زبیان سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے : سنو!اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ کیونکہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن خطاب کو ( یہ حدیث بیا ن کرتے ہوئے ) سنا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ر یشم نہ پہنو ، کیونکہ جس نے دنیا میں اسے پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا ۔
حدیث #5411 بین الاقوامی: 2069.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 26
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قال: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ، يَا عُتْبَةُ بْنَ فَرْقَدٍ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ كَدِّكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أَبِيكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أُمِّكَ، فَأَشْبِعِ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي رَحْلِكَ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْكِ وَلَبُوسَ الْحَرِيرَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لَبُوسِ الْحَرِيرِ، قَالَ: إِلَّا هَكَذَا وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةَ وَضَمَّهُمَا "، قَالَ زُهَيْرٌ: قَالَ عَاصِمٌ: هَذَا فِي الْكِتَابِ، قَالَ: وَرَفَعَ زُهَيْرٌ إِصْبَعَيْهِ.
احمد بن عبداللہ بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عاصم احول نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، کہا : جب ہم آذربائیجان میں تھے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہماری طرف ( خط میں ) لکھ بھیجا : عتبہ بن فرقد!تمھارے پاس جو مال ہے وہ نہ تمھاری کمائی سے ہے ، نہ تمھارے ماں باپ کی کمائی سے ، مسلمانوں کو ان کی رہائش گاہوں میں وہی کھانا پیٹ بھرکے کھلاؤ جس سے اپنی رہائش گاہ میں تم خود پیٹ بھرتے ہو اور تم لوگ عیش وعشرت سے مشرکین کے لباس اور ریشم کے پہناؤوں سے دور رہنا ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے پہناوے سے منع فرمایا ہے ، مگر اتنا ( جائز ہے ) ، ( یہ فرما کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں ، درمیانی انگلی اورانگشت شہادت ملائیں اورانھیں ہمارے سامنے بلند فرمایا ۔ زہیر نے کہا : عاصم نے کہا : یہ اس خط میں ہے ، ( ابن یونس نے ) کہا : اور زہیر نے ( بھی ) اپنی دو انگیاں اٹھائیں ۔
حدیث #5412 بین الاقوامی: 2069.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 27
مکمل مطالعہ →
حدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَرِيرِ بِمِثْلِهِ.
جریر بن عبدالحمید اور حفص بن غیاث دونوں نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ریشم کے بارے میں اس طرح روایت کی ،
حدیث #5413 بین الاقوامی: 2069.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 28
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهُوَ عُثْمَانُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قال: كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ إِلَّا مَنْ لَيْسَ لَهُ مِنْهُ شَيْءٌ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا هَكَذَا "، وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ: بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْإِبْهَامَ، فَرُئِيتُهُمَا أَزْرَارَ الطَّيَالِسَةِ حِينَ رَأَيْتُ الطَّيَالِسَةَ.
جریر نے سلیمان تیمی سے ، انھوں نے ابو عثمان سے روایت کی ، کہا : ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تو ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامکتوب آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ریشم ( کالباس ) اس کے سوا کوئی شخص نہیں پہنتا جس کا آخرت میں اس میں سے کوئی حصہ نہ ہو ، سوائے اتنے ( ریشم ) کے ( اتنی مقدار جائز ہے ) " ابوعثمان نے انگوٹھے کے ساتھ کی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا ۔ مجھے اس طرح معلوم ہوا کہ جیسے وہ طیلسان ( نشانات والی عبا ) کے بٹنوں والی جگہ ( کے برابر ) ہو ، یہاں تک کہ میں نے ( اصل ) طیلسان دیکھے ، ( وہ اتنی مقدار ہی تھی ۔)
حدیث #5414 بین الاقوامی: 2069.06 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 29
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، قال: كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو عثمان نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ، جریر کی حدیث کے مانند ۔
حدیث #5415 بین الاقوامی: 2069.07 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 30
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ أَوْ بِالشَّامِ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا إِصْبَعَيْنِ "، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: فَمَا عَتَّمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الْأَعْلَامَ.
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا ، کہا : ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مکتوب آیا ، اس وقت ہم آزر بائیجان میں عتبہ بن فرقد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے یا شام میں تھے ، اس میں یہ لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار یعنی دو انگلیوں سے زیادہ ریشم پہننے سے منع کیا ہے ۔ ابوعثمان نے کہا : ہم نے یہ سمجھنے میں ذرا توقف نہ کیا کریں ان کی مراد نقش ونگار سے ہے ( جو کناروں پر ہوتے ہیں)
حدیث #5416 بین الاقوامی: 2069.08 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 31
مکمل مطالعہ →
وحدثنا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي عُثْمَانَ.
ہشام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابو عثمان کا قول ذکر نہیں کیا ۔
حدیث #5417 بین الاقوامی: 2069.09 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 32
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: " نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ إِصْبَعَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ ".
معاذ کے والد ہشام نےقتادہ سے ، انھوں نے عامر شعبی سے روایت کی ، انھوں نے حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نے جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ، سوائے دو یا تین یا چار انگلیوں ( کی پٹی ) کے ۔
حدیث #5418 بین الاقوامی: 2069.1 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 33
مکمل مطالعہ →
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
حدیث #5419 بین الاقوامی: 2070 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 34
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، ويحيى بن حبيب ، وحجاج بن الشاعر ، واللفظ لابن حبيب، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ لَهُ: قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ "، فَجَاءَهُ عُمَرُ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِي، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ تَبِيعُهُ "، فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ.
ابو زبیر نے کہا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دیباج کی قبا پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی ، پھر فوراً ہی آپ نے اس کو اتار دیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بھیج دی ۔ آپ سے کہا گیا : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اس کو فوراً اتار دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" مجھے جبریل علیہ السلام نے اس سے منع کردیا ۔ "" پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روتے ہوئے آئے اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے ایک چیز نا پسند کی اور وہ مجھے دے دی!اب میرے لئے کیا ( راستہ ) ہے؟آپ نے فرمایا؛ "" میں نے یہ تمھیں پہننے کےلیے نہیں دی ، میں نے تمھیں اس لئے دی کہ اس کو بیچ لو ۔ "" تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو دو ہزار درہم میں فروخت کردیا ۔
حدیث #5420 بین الاقوامی: 2071.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 35
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ ، قال: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ ".
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عون سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو صالح سے سنا ، وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنارہے تھے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا ، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا ، میں نے اسکو پہن لیا ، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ محسوس کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے یہ تمھارے پاس اس لئے نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہن لو ، میں نے تمہارے پاس اس لئے بھیجا تھا کہ تم اس کو کاٹ کر عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو ۔
حدیث #5421 بین الاقوامی: 2071.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 36
مکمل مطالعہ →
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي، وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَر، فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرَنِي.
عبیداللہ کے والد معاذ اور محمد بن جعفر ، دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عون سے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ۔ معاذ کی بیان کردہ حدیث میں ہے؛ " آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے کاٹ کر ( اپنے گھرکی ) عورتوں میں بانٹ دیا " اور محمد بن جعفر کی حدیث میں ہے : " میں نے اس کوکاٹ کر ( اپنے گھرکی ) عورتوں میں بانٹ دیا ۔ " اور انھوں نے " آپ نے مجھے حکم دیا " ( کےالفاظ ) ذکر نہیں کیے ۔
حدیث #5422 بین الاقوامی: 2071.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 37
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَ حَرِيرٍ، فَأَعْطَاهُ عَلِيًّا، فَقَالَ: " شَقِّقْهُ خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ "، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ بَيْنَ النِّسْوَةِ.
ابو بکر بن ابی شیبہ ، ابو کریب اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ زہیر کے ہیں ۔ کہا : ہیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو عون ثقفی سے ، انھوں نے ابو صالح حنفی سے ، انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ دومۃ الجندل کے ( حکمران ) اکیدر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ بھیجا ، آپ نے وہ کپڑاحضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیا اور فرمایا : "" اس کو کاٹ کر ( تینوں ) فاطماؤں ( فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ بنت اسد ، یعنی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ، اور فاطمہ بنت حمزہ رضی اللہ عنھن میں اوڑھنیاں بانٹ دو ۔ "" ابو بکر اور ابو کریب نے ( "" فاطماؤں کے مابین "" کے بجائے ) "" عورتوں کے مابین "" کہا ۔
حدیث #5423 بین الاقوامی: 2071.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 38
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةَ سِيَرَاءَ، فَخَرَجْتُ فِيهَا، " فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، قَالَ: فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي ".
زید بن وہب نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ دیا ، میں اسے پہنکر نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پرغصہ دیکھا ، کہا : پھر میں نے اس کو پھاڑ کر اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کردیا ۔
حدیث #5424 بین الاقوامی: 2072 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 39
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ، فَقَالَ عُمَرُ: بَعَثْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَإِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سُندس ( باریک ریشم ) کا ایک جبہ بھیجا ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : آپ نے میرے پاس یہ جبہ بھیجا ہے ۔ حالانکہ آپ نے اس کے متعلق ( پہلے ) جو فرمایاتھا وہ فرماچکے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے یہ تمھارے پاس اس لئے نہیں بھیجا کہ تم اس کو پہنو ، میں نے تمھارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کی قیمت سے فائدہ اٹھاؤ ۔
حدیث #5425 بین الاقوامی: 2073 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 40
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ ".
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جس شخص نے دینا میں ر یشم پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا ۔
حدیث #5426 بین الاقوامی: 2074 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 41
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ ".
حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں ا س کو نہیں پہنے گا ۔
حدیث #5427 بین الاقوامی: 2075.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 42
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ، فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: " لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ ".
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انھوں نے ابو الخیر سے ، انھوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی ایک کھلی قبا ہدیہ میں دی گئی ، آپ نے وہ پہنی اور نماز پڑھی ، پھر اس کو کھینچ کر اتار دیا ، جیسے آپ اسے ناپسند کررہے ہوں ، پھر فرمایا : " یہ ( عبا ) تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے مناسب نہیں ہے ۔
حدیث #5428 بین الاقوامی: 2075.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 43
مکمل مطالعہ →
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدالحمید نے جعفر نے کہا : مجھے یزید بن ابی حبیب نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
3: باب إِبَاحَةِ لُبْسِ الْحَرِيرِ لِلرَّجُلِ إِذَا كَانَ بِهِ حِكَّةٌ أَوْ نَحْوُهَا:
باب: مرد کو حریر پہننا خارش وغیرہ کسی عذر سے درست ہے۔
حدیث #5429 بین الاقوامی: 2076.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 44
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَنْبَأَهُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّام ِ فِي الْقُمُصِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا أَوْ وَجَعٍ كَانَ بِهِمَا ".
ابو اسامہ نے ہمیں سعید بن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : قتادہ نے ہمیں حدیث سنائی کہ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک سفر میں خارش کی بنا پر یا کسی اور تکلیف کی بنا پر جو انھیں لا حق ہو گئی تھی ۔ ریشم پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی ۔ ( حالات میں یہی مداوامیسر تھا ۔)
حدیث #5430 بین الاقوامی: 2076.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 45
مکمل مطالعہ →
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي السَّفَرِ.
محمد بن بشر نے کہا : ہمیں سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور سفر میں " کا ذکر کیا ۔
حدیث #5431 بین الاقوامی: 2076.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 46
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ رُخِّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا ".
وکیع نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیربن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو انھیں لا حق ہو نے والی خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی ۔
حدیث #5432 بین الاقوامی: 2076.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 47
مکمل مطالعہ →
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی مانند حدیث بیان کی ۔
حدیث #5433 بین الاقوامی: 2076.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 48
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ، " أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ، فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ فِي غَزَاةٍ لَهُمَا ".
ہمام نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث سنا ئی کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا : حضرت عبد الرحمان بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں ( کی خارش ) کی شکا یت کی تو آپ نے ان دونوں کو انھیں پیش آنے والی جنگ کے دورا ن میں ریشم پہننے کی اجادت دے دی ۔
4: باب النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الرَّجُلِ الثَّوْبَ الْمُعَصْفَرَ:
باب: کسم کا رنگ مرد کے لیے درست نہیں ہے۔
حدیث #5434 بین الاقوامی: 2077.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 49
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَي ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ مَعْدَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، قال: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ مِنْ ثِيَابِ الْكُفَّارِ فَلَا تَلْبَسْهَا ".
معاذ بن ہشام نے ہمیں بیان کیا ، کہا : مجھے میرے والد نے یحییٰ ( بن ابی کثیر ) سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے محمد بن ابراہیم بن حارث نے حدیث سنا ئی کہ ابن معدان نے انھیں بتا یا کہ انھیں جبیر بن نفیر نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گیروے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہو ئے دیکھا تو آپ نے فرما یا : " یہ کا فروں کے کپڑے ہیں تم انھیں مت پہنو ۔
حدیث #5435 بین الاقوامی: 2077.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 50
مکمل مطالعہ →
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ .
یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں ہشام نے خبر دی وکیع نے علی بن مبارک سے بیان کیا ، ہشام اور علی بن مبارک دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، دونوں نے ( ابن معدان کے بجائے ) خالد بن معدان کہا ۔
حدیث #5436 بین الاقوامی: 2077.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 51
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ الْمُوصِلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قال: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ، فَقَالَ: " أَأُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِهَذَا؟ " قُلْتُ: أَغْسِلُهُمَا، قَالَ: " بَلْ أَحْرِقْهُمَا ".
طاوس نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گیروے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہو ئے دیکھا تو آپ نے فرما یا : " کیا تمھا ری ماں نے تمھیں یہ کپڑےپہننے کا حکم دیا ہے؟ " میں نے عرض کی : میں ان کو دھو ڈالوں ؟آپ نے فرما یا : " بلکہ ان کو جلا دو ۔
حدیث #5437 بین الاقوامی: 2078.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 52
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عن نافع ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ، وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ ".
نافع نے ابرا ہیم بن عبد اللہ حنین سے انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قس ( علاقے ) کے بنے ہو ئے ( ریشمی کپڑے ) اور گیروے رنگ کے کپڑے پہننےسے ، سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور رکوع میں قرآن مجید پرھنے سے منع فرما یا ۔
حدیث #5438 بین الاقوامی: 2078.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 53
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ: " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَاءَةِ وَأَنَا رَاكِعٌ، وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ وَالْمُعَصْفَرِ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابرا ہیم بن عبد اللہ بن حنین نے حدیث بیان کی ان کے والد نے انھیں حدیث سنا ئی کہ انھوں نے حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جب میں رکو ع کر رہا ہوں ۔ قرآن مجید پڑھنے سے اور ( عمومی حالت میں ) سونا اور گیروے رنگ کا لباس پہننے سے منع فرما یا ۔
حدیث #5439 بین الاقوامی: 2078.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 54
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قال: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ، وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ ".
معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابرا ہیم بن عبد اللہ حنین سے انھوں نے اپنے والد حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننےسے ریشم کے کپڑے پہننے سے رکو ع اور سجود میں قرآن مجید پڑھنے سے اور گیروے رنگ کا لبا س پہننے سے منع فرما یا ۔
5: باب فَضْلِ لِبَاسِ ثِيَابِ الْحِبَرَةِ:
باب: یمن کی چادروں کی فضیلت۔
حدیث #5440 بین الاقوامی: 2079.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 55
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قال: قُلْنَا لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَوْ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: الْحِبَرَةُ ".
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہم نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قسم کا لباس زیادہ محبوب تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوزیادہ اچھا لگتا تھا ؟ انھوں نے کہا : دھاری دار ( یمنی ) چادر ۔
حدیث #5441 بین الاقوامی: 2079.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 56
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: " كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِبَرَةُ ".
ہشام نے قتادہ سے انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں میں سب سے زیادہ پسند دھاری دار ( یمنی چادر تھی ۔)
6: باب التَّوَاضُعِ فِي اللِّبَاسِ وَالاِقْتِصَارِ عَلَى الْغَلِيظِ مِنْهُ وَالْيَسِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَالْفِرَاشِ وَغَيْرِهِمَا وَجَوَازِ لُبْسِ الثَّوْبِ الشَّعَرِ وَمَا فِيهِ أَعْلاَمٌ:
باب: لباس میں تواضع اختیار کرنے اور سادہ اور موٹا کپڑا پہننے کے بیان میں۔
حدیث #5442 بین الاقوامی: 2080.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 57
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي يُسَمُّونَهَا الْمُلَبَّدَةَ، قَالَ: " فَأَقْسَمَتْ بِاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ ".
سلیمان بن مغیرہ نے کہا : ہمیں حمید نے ابو بردہ سے حدیث سنائی ، کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے ایک مو ٹا تہبند جو یمن میں بنایا جا تا ہے اور ایک اوپر کی چادر ( موٹی سخت اور پیوند لگےہو نے کی وجہ سے ) جسے مُلْبَدَہکہا : جا تا ہے نکال کر دکھا ئی ، کہا : انھوں نے اللہ کی قسم کھا ئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی دوکپڑوں میں داعی اجل کو لبیک کہا تھا ۔
حدیث #5443 بین الاقوامی: 2080.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 58
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قال: " أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا وَكِسَاءً مُلَبَّدًا، فَقَالَتْ: فِي هَذَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: فِي حَدِيثِهِ إِزَارًا غَلِيظًا ".
علی بن حجر سعدی محمد بن حاتم اور یعقوب بن ابرا ہیم نے ( اسماعیل ) ابن علیہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ایوب سے ، انھوں نے حمید بن ہلال سے ، انھوں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہمیں ایک تہبنداور ایک پیوند لگی ہو ئی مو ٹی چا در نکا ل کر دکھا اور فرما یا : " انھی دوکپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو ئی تھی ۔ ابن حاتم نے اپنی حدیث میں کہا : مو ٹا تہبند ۔
حدیث #5444 بین الاقوامی: 2080.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 59
مکمل مطالعہ →
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: إِزَارًا غَلِيظًا.
معمرنے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور کہا : " موٹا تہبند ۔
حدیث #5445 بین الاقوامی: 2081 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 60
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ ".
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح باہر نکلے کے آپ کے جسم پر ایک موٹی مربع لکیروں والی کالے بالوں سے بنی ہو ئی چادر تھی ۔ ( عام سی کھردری اور کم قیمت چادر ۔)
حدیث #5446 بین الاقوامی: 2082.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 61
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ وِسَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَتَّكِئُ عَلَيْهَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ".
عبد ہ بن سلیمان نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ جس کے ساتھ آپ ٹیک لگا تے تھے چمڑے کا بنا ہوا تھا جس میں کھجور کی چھا ل بھری ہو ئی تھی ۔
حدیث #5447 بین الاقوامی: 2082.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 62
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " إِنَّمَا كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ أَدَمًا حَشْوُهُ لِيفٌ ".
علی بن مسہر نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے رویت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر ( گدا ) جس پر آپ سوتے تھے ، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہو ئی تھی ۔
حدیث #5448 بین الاقوامی: 2082.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 63
مکمل مطالعہ →
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ يَنَامُ عَلَيْهِ.
ابن نمیر اور ابو معاویہ دونوں نے ہمیں ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استراحت کا بچھونا ۔ " اور ابو معاویہ کی حدیث میں ہے ۔ جس پر آپ سوتے تھے ۔
7: باب جَوَازِ اتِّخَاذِ الأَنْمَاطِ:
باب: قالین یا سوزینوں کے جواز کا بیان۔
حدیث #5449 بین الاقوامی: 2083.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 64
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وإسحاق بن إبراهيم، واللفظ لعمرو وَقَالَ عَمْرٌو وَقُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا تَزَوَّجْتُ اتَّخَذْتَ أَنْمَاطًا؟ "، قُلْتُ: وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ، قَالَ: " أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ ".
قتیبہ بن سعید ، عمروناقد اور اسحٰق بن ابرا ہیم نے کہا : ہمیں سفیان نے ابن منکدرسے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پو چھا : " کہا تم نے بچھونوں کے غلا ف بنا ئے ہیں ؟ " میں نے عرض کی ، ہمارے پاس غلا ف کہاں سے آئے ؟ آپ نے فرما یا : " اب عنقریب ہو ں گے ۔
حدیث #5450 بین الاقوامی: 2083.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 65
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: لَمَّا تَزَوَّجْتُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّخَذْتَ أَنْمَاطًا؟ "، قُلْتُ: وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ، قَالَ: " أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ "، قَالَ جَابِرٌ: وَعِنْدَ امْرَأَتِي نَمَطٌ، فَأَنَا أَقُولُ نَحِّيهِ عَنِّي، وَتَقُولُ قَدْ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ.
وکیع نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے محمد بن منکدرسےانھوں نے حضرت جابر عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پو چھا : " کیا تم نے بچھونوں کے غلا ف بنا ئے ہیں ؟ " میں نے عرض کی ، ہمارے پاس غلا ف کہاں سے آئے ؟ آپ نے فرما یا : " اب عنقریب ہوجا ئیں گے ۔ حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میری بیوی کے پاس ایک غلا ف تھا میں اس سے کہتا تھا : اسے مجھ سے دور رکھو ، اور وہ کہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا تھا : " عنقریب غلا ف ہوا کریں گے ۔
حدیث #5451 بین الاقوامی: 2083.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 66
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فَأَدَعُهَا.
عبد الرحمن نے کہا : ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور اور یہ اضا فہ کیا : تو میں اسے ( اس کے حال پر ) چھوڑ دیتا ۔
8: باب كَرَاهَةِ مَا زَادَ عَلَى الْحَاجَةِ مِنَ الْفِرَاشِ وَاللِّبَاسِ:
باب: حاجت سے زیادہ بچھونے اور لباس بنانا مکروہ ہے۔
حدیث #5452 بین الاقوامی: 2084 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 67
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَهُ فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ، وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ، وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ، وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ ".
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرما یا : " ایک بستر مرد کے لیے ہے ایک اس کی بیوی کے لیے تیسرا بستر مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے ۔
9: باب تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلاَءَ وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ:
باب: غرور سے (ٹخنوں سے نیچے) کپڑا لٹکانے کی حرمت کے بیان میں اور اس کا بیان کہ کہاں تک کپڑا لٹکانا مستحب ہے۔
حدیث #5453 بین الاقوامی: 2085.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 68
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ كلهم يخبره، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ ".
امام مالک نے نافع عبد اللہ بن دینا اور زید بن اسلم سے روایت کی ، ان سب نے انھیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کرچلے اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں کرے گا ۔
حدیث #5454 بین الاقوامی: 2085.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 69
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قالا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ كلهم، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُكِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحدثنا هَارُونُ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمثل حديث مَالِكٍ وَزَادُوا فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
عبید اللہ ایوب لیث بن سعد اور اسامہ ان سب نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی اور یہ اضا فہ کیا : " قیامت کے دن ( نظر نہیں کرے گا ۔)
حدیث #5455 بین الاقوامی: 2085.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 70
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَنَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثِيَابَةُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
عمربن محمد نے اپنے والد سالم بن عبد اللہ اور نافع سے روایت کی ، انھوں نے نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کر چلتا ہے قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر نہیں فرما ئے گا ۔
حدیث #5456 بین الاقوامی: 2085.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 71
مکمل مطالعہ →
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، وَجَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
محارب بن دثاراور جبلہ بن سحیم نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
حدیث #5457 بین الاقوامی: 2085.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 72
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، قال: سَمِعْتُ سَالِمًا ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں حنظلہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سالم سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جس شخص نے تکبر سے کپڑا گھسیٹا اللہ تعا لیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر تک نہیں فرما ئے گا ۔
حدیث #5458 بین الاقوامی: 2085.06 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 73
مکمل مطالعہ →
وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يقول: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثِيَابَهُ.
اسحق بن سلیمان نے کہا : ہمیں حنظلہ بن ابی سفیان نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے سالم سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہےتھےاسی کے مانند مگر انھوں نے ( کپڑا گھسیٹا کے بجا ئے ) " کپڑے ( گھسیٹے ) " کہا ۔
حدیث #5459 بین الاقوامی: 2085.07 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 74
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَنَّاقَ ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَانْتَسَبَ لَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ فَعَرَفَهُ ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ، يَقُولُ: " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لَا يُرِيدُ بِذَلِكَ إِلَّا الْمَخِيلَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
شعبہ نے کہا : میں نے مسلم بن یناق سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے کہ انھوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہوئے دیکھا انھوں نے اس سے پو چھا : تم کس قبیلے سے ہو ؟ اس نے نسب بتا یا وہ شخص بنو لیث سے تھا ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو پہچان لیا اور کہا : میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے ۔ " جس شخص نے اپنی ازار ( کمر سے نیچے کی چادر وغیرہ ) گھسیٹی اس سے اس کا ارادہ تکبر کے سوا اور نہ تھا تو قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فرما ئے گا ۔
حدیث #5460 بین الاقوامی: 2085.08 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 75
مکمل مطالعہ →
وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ كُلُّهُمْ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي يُونُسَ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْحَسَنِ، وَفِي رِوَايَتِهِمْ جَمِيعًا مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ وَلَمْ يَقُولُوا ثَوْبَهُ.
عبد الملک بن ابی سلیمان ابو یو نس اور ابرا ہیم بن نافع ان سب نے مسلم بن یناق سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی مگر ابو یونس کی حدیث میں ہے : ابو الحسن مسلم روایت ہے اور ان سب کی روایت میں ہے ، " جس نے اپنی ازارگھسیٹی " انھوں نے " اپنا کپڑا " نہیں کہا ۔
حدیث #5461 بین الاقوامی: 2085.09 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 76
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، وألفاظهم متقاربة، قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قال: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يقول: أَمَرْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ، أَنْ يَسْأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ وَأَنَا جَالِسٌ بَيْنَهُمَا: أَسَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ شَيْئًا؟، قَالَ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے نافع بن عبد الحارث کے غلام مسلم بن یسار سے کہا کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کریں کہا : اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا تھا ( انھوں نے سوال کیا : ) کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کو ئی بات سنی جو تکبر سے اپنی ازارگھیسٹتا ہے؟ انھوں نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا تھا : " قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فر ما ئے گا
حدیث #5462 بین الاقوامی: 2086 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 77
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِزَارِي اسْتِرْخَاءٌ، فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ: " ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ: زِدْ، فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ أَتَحَرَّاهَا بَعْدُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِلَى أَيْنَ؟، فَقَالَ: أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ ".
عبد اللہ بن واقد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا میری کمر کی چادر کسی حد تک لٹک رہی تھی توآپ نے فرما یا " عبد اللہ ! اپنی چادر اوپر کرلو ۔ " میں نے اپنی چادر اوپر کرلی ۔ آپ نے فر ما یا : " اور زیادہ کر لو " میں نے ااورزیادہ اوپر کی ، پھر میں اس کواوپر کرتا رہا حتی کہ بعض لو گوں نے عرض کی کہاں تک ( اوپر کرے ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفر ما یا : " پنڈلیوں کے آدھے حصوں تک ۔
حدیث #5463 بین الاقوامی: 2087.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 78
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَرَأَى رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ الْأَرْضَ بِرِجْلِهِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَحْرَيْنِ، وَهُوَ يَقُولُ: جَاءَ الْأَمِيرُ جَاءَ الْأَمِيرُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا ".
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، اور انھوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہو ئے دیکھا اس شخص نے زمین پر پاؤں مار مار کہنا شروع کر دیا : امیر آگئے امیرآگئے ۔ وہ ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بحرین کے امیر تھے ۔ ( یہ دیکھ کر ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا " جو شخص اتراتے ہو ئے زمین پر اپنی ازار گھسیٹتا ہے اللہ تعا لیٰ اس کی طرف نظر تک نہ فرمائے گا ۔
حدیث #5464 بین الاقوامی: 2087.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 79
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ، كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُسْتَخْلَفُ عَلَى الْمَدِينَةِ.
محمد بن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ۔ اور ابن مثنیٰ نے کہا : ہمیں ابن ابی عدی نے حدیث سنائی ، ان دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ابن جعفر کی روایت میں ہے : مروان ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی غیر حاضری میں مدینہ کا ( قائم مقام ) حاکم بنا یا کرتا تھا ۔ اور ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ( حاکم کی غیرحاضر ی میں ) مدینہ کا حاکم بنا یا جا تا تھا ۔
10: باب تَحْرِيمِ التَّبَخْتُرِ فِي الْمَشْيِ مَعَ إِعْجَابِهِ بِثِيَابِهِ:
باب: کپڑوں وغیرہ پر اترانا یا اکڑ کر چلنا حرام ہے۔
حدیث #5465 بین الاقوامی: 2088.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 80
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي قَدْ أَعْجَبَتْهُ جُمَّتُهُ وَبُرْدَاهُ إِذْ خُسِفَ بِهِ الْأَرْضُ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ".
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیا د سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فر ما یا : " ایک شخص اپنے بالوں اور اپنی چادروں پر اتراتا ہو ا چل رہا تھا کہاچا نک اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جا ئے گا ۔
حدیث #5466 بین الاقوامی: 2088.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 81
مکمل مطالعہ →
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا.
شعبہ نے ہمیں محمد بن زیاد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ما نند حدیث بیان کی ۔
حدیث #5467 بین الاقوامی: 2088.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 82
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ يَمْشِي فِي بُرْدَيْهِ قَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ، فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
عرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ایک شخص اکڑتا ہوا اپنی دو چادروں میں چلا جا رہا تھا اپنے آپ پر اترارہا تھا اللہ تعا لیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جا ئے گا ۔
حدیث #5468 بین الاقوامی: 2088.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 83
مکمل مطالعہ →
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قال: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
معمر نے ہمام بن منبہ سے خبر دی کہا : یہ اھادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں سنا ئیں ، پھر انھوں نے کچھ اھادیث سنائیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ایک شخص دوچادروں میں اتراتا ہوا جا رہا تھا " پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔
حدیث #5469 بین الاقوامی: 2088.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 84
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِهِمْ.
ابو رفع نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے ۔ " تم سے پہلے کی ایک امت میں ایک شخص چادروں کے ایک جوڑے میں اتراتا ہوا جا رہاتھا " پھر ان سب کی حدیث کے مانند ذکر کیا ۔
11: بَابُ تَحْرِيمِ خَاتَمِ الذَّهَبِ عَلَي الرِّجَالِ ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إبَاحَتِهِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ
باب: سونے کی انگوٹھی مرد کو حرام ہے۔
حدیث #5470 بین الاقوامی: 2089.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 85
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ".
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نضر بن انس سے ، انھوں نے بشیر نہیک سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی ( پہننے ، استعمال کرنے ) سے منع فرما یا ۔
حدیث #5471 بین الاقوامی: 2089.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 86
مکمل مطالعہ →
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى، قال: سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ.
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ۔ اور ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے ، کہا : میں نے نضر بن انس سے سنا ۔
حدیث #5472 بین الاقوامی: 2090 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 87
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِ رَجُلٍ، فَنَزَعَهُ فَطَرَحَهُ، وَقَالَ: " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَيَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ "، فَقِيلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُذْ خَاتِمَكَ انْتَفِعْ بِهِ، قَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا آخُذُهُ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد غلام کریب نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہا تھا ( کی انگلی ) میں سونے کی انگوٹھی دیکھی ، آپ نے اس کو اتار کر پھینک دیا اور فرما یا " تم میں سے کوئی شخص آگ کا انگارہ اٹھا تا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جا نے کے بعد اس شخص سے کہا گیا : اپنی انگوٹھی لے لو اور اس سے کو ئی فائدہ اٹھا لو ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم !میں اسے کبھی نہیں اٹھا ؤں گا ۔ جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا ہے ۔
حدیث #5473 بین الاقوامی: 2091.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 88
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ إِذَا لَبِسَهُ، فَصَنَعَ النَّاسُ، ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ، فَقَالَ: " إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ فَرَمَى بِهِ، ثُمَّ قَالَ: " وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا "، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِيَحْيَى.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی محمد بن رمح اور قتیبہ نے کہا : ہمیں لیث نے نافع سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی آپ اسے پہنتے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کے اندر کی طرف کر لیا کرتے تھے تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہو ئے ۔ اس انگوٹھی کو اتار دیا اور فرما یا : " میں اس انگوٹھی کو پہنتا تھا تو نگینے کو اندر کی طرف کر لیتا تھا : " پھر آپ نے اسے پھینک دیااور فر ما یا : " اللہ کی قسم! میں اس کو کبھی نہیں پہنوں گا ۔ " پھر لو گوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیا ں پھینک دیں ۔ حدیث کے الفا ظ یحییٰ کے بیا ن کردہ ) ہیں ۔
حدیث #5474 بین الاقوامی: 2091.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 89
مکمل مطالعہ →
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحدثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، وَجَعَلَهُ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى.
محمد بن بشر یحییٰ بن سعید خالد بن حارث اور عقبہ بن خا لد سب نے عبید اللہ سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کی انگوٹھی کے بارے میں حدیث روایت کی ، عقبہ بن خالد کی روایت میں ( عبید اللہ نے ) یہ اضافہ کیا : اور آپ نے اسے دا ئیں ہاتھ میں پہنا ۔
حدیث #5475 بین الاقوامی: 2091.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 90
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ . ح وحدثنا هَارُونُ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ أُسَامَةَ جَمَاعَتُهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
ایو ب مو سیٰ بن عقبہ اور اسامہ سب نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کی انگوٹھی کے بارے میں لیث کی حدیث کی طرح روایت کی ،
12: باب لُبْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَلُبْسِ الْخُلَفَاءِ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چاندی کی انگوٹھی پہننے کا بیان جس میں محمد رسول اللہ نقش تھا۔ اور بعد میں خلفاء کے انگوٹھی پہننے کا بیان۔
حدیث #5476 بین الاقوامی: 2091.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 91
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: " اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَكَانَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ حَتَّى وَقَعَ مِنْهُ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَتَّى وَقَعَ فِي بِئْرِ وَلَمْ يَقُلْ مِنْهُ ".
عبد اللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چا ندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، پہلے وہ آپ کے ہا تھ میں تھی پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہا تھا میں رہی پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہا تھ میں رہی پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ ان ( حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سےاریس کے کنویں میں گر گئی ، اس ( انگوٹھی ) پر "" محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم "" نقش تھا ۔ ابن نمیر کی روایت میں ہے : یہاں تک کہ وہ ایک کنویں میں گر گئی ، انھوں نے یہ نہیں کہا : ان سے ( گر گئی ۔)
حدیث #5477 بین الاقوامی: 2091.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 92
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: " اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثُمَّ أَلْقَاهُ، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: " لَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا "، وَكَانَ إِذَا لَبِسَهُ جَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ، وَهُوَ الَّذِي سَقَطَ مِنْ مُعَيْقِيبٍ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ.
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی ، پھر آپ نے اس کو پھینک دیا ، اس کے بعد آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، اس میں یہ نقش کرایا : محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " اور فرمایا : " کوئی شخص میری اس انگوٹھی کے نقش کے مطابق نقش نہ بنوائے ۔ " جب آپ اس انگوٹھی کو پہنتے توانگوٹھی کے نگینے ( موٹے چوڑے حصے ) کو ہتھیلی کے اندر کی طرف کرلیاکرتے تھے اور یہی وہ انگوٹھی تھی جو معیقیب ( کے ہاتھ ) سے چاہ اریس میں گر گئی تھی ۔
حدیث #5478 بین الاقوامی: 2092.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 93
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَقَالَ: " لِلنَّاسِ إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَنَقَشْتُ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ ".
حماد نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے خبر دی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، اس میں " محمد رسول اللہ " نقش کرایا اور لوگوں سے فرمایا؛ " میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی ہے اوراس میں " محمد رسول اللہ " نقش کرایا ہے ، سوکوئی شخص اس نقش کے مطابق نقش کندہ نہ کرائے ۔
حدیث #5479 بین الاقوامی: 2092.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 94
مکمل مطالعہ →
وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.
اسماعیل ( ابن علیہ ) نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور اس میں " محمد رسول اللہ " ( نقش کرانے ) کا ذکر نہیں کیا ۔
13: باب فِي اتِّخَاذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انگوٹھی بنانے کا بیان، جب عجمیوں کو خطوط لکھنے کا ارادہ کیا۔
حدیث #5480 بین الاقوامی: 2092.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 95
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ، قَالَ: قَالُوا: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا، قَالَ: فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ".
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم ( کے بادشاہ ) کی طرف خط لکھنے کاارادہ کیا تو صحابہ نےعرض کی : وہ لوگ کوئی ایسا خط نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ لگائی گئی ہو ، کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی کی ایک انگوٹھی بنوائی ، ایسالگتا ہے کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں اس کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں ، اس پر " محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم " نقش ہے ۔
حدیث #5481 بین الاقوامی: 2092.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 96
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ الْعَجَمَ لَا يَقْبَلُونَ إِلَّا كِتَابًا عَلَيْهِ خَاتَمٌ، فَاصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ ".
معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عجم کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہو ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی ۔ کہا : مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس ( انگوٹھی ) کی سفیدی کو دیکھ رہاہوں ۔
حدیث #5482 بین الاقوامی: 2092.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 97
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَر وَالنَّجَاشِيِّ، فَقِيلَ: إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ، فَصَاغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا حَلْقَتُهُ فِضَّةً، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ".
خالد بن قیس نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کی طرف خط لکھنے کاارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہو ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر ڈھلوائی ، وہ چاندی کی انگوٹھی تھی اور اس میں " محمد رسول اللہ " نقش کرایا ۔
14: باب فِي طَرْحِ الْخَوَاتِمِ:
باب: انگوٹھیاں پھینکنے کا بیان۔
حدیث #5483 بین الاقوامی: 2093.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 98
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَبْصَرَ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا، قَالَ: " فَصَنَعَ النَّاسُ الْخَوَاتِمَ مِنْ وَرِقٍ فَلَبِسُوهُ، فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِمَهُمْ ".
ابراہیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک سے روایت کی ایک انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی ، پھر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوائیں اور پہن لیں ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔
حدیث #5484 بین الاقوامی: 2093.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 99
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ: " رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اضْطَرَبُوا الْخَوَاتِمَ مِنْ وَرِقٍ فَلَبِسُوهَا، فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِمَهُمْ " ,
روح نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ان جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے زیاد نے بتایا کہ ابن شہاب نے انھیں خبر دی ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ انھوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی ، پھر سب لوگوں نے چاندی کی انگوٹھیاں ڈھلوائیں اور پہن لیں ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔
حدیث #5485 بین الاقوامی: 2093.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 100
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابو عاصم نے ابو جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
15: باب فِي خَاتَمِ الْوَرِقِ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کا بیان اس کا نگینہ حبشی تھا۔
حدیث #5486 بین الاقوامی: 2094.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 101
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قال: " كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرِقٍ وَكَانَ فَصُّهُ حَبَشِيًّا ".
عبداللہ بن وہب مصری نے کہا : مجھے یونس بن یزید نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کانگینہ حبش کاتھا ۔
حدیث #5487 بین الاقوامی: 2094.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 102
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، قالا: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي َهُوَ الْأَنْصَارِيُّ ثم الزرقي ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتَمَ فِضَّةٍ فِي يَمِينِهِ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ، كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ ".
طلحٰہ بن یحییٰ انصاری نے یونس سے ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاپنے دائیں ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی پہنی ، اس میں حبش کا نگینہ تھا ، آپ اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف رکھا کرتے تھے ۔
حدیث #5488 بین الاقوامی: 2094.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 103
مکمل مطالعہ →
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي.
سلیمان بن بلال نے یونس بن یزید سے اسی سندکے ساتھ طلحہ بن یحییٰ کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
16: باب فِي لُبْسِ الْخَاتَمِ فِي الْخِنْصَرِ مِنَ الْيَدِ:
باب: بائیں ہاتھ کی چھنگلیا میں انگوٹھی پہننے کا بیان۔
حدیث #5489 بین الاقوامی: 2095 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 104
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى الْخِنْصِرِ مِنْ يَدِهِ الْيُسْرَى ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی اس انگلی میں تھی ، یہ کہہ کر انھوں نے بائیں ہاتھ کی چھنگلی کی طرف اشارہ کیا ۔
17: باب النَّهْيِ عَنِ التَّخَتُّمِ فِي الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا:
باب: بڑی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی میں انگوٹھی پہننے کی ممانعت۔
حدیث #5490 بین الاقوامی: 2078.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 105
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " نَهَانِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ أَوِ الَّتِي تَلِيهَا، لَمْ يَدْرِ عَاصِمٌ فِي أَيِّ الثِّنْتَيْنِ "، " وَنَهَانِي عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ جُلُوسٍ عَلَى الْمَيَاثِرِ "، قَالَ: فَأَمَّا الْقَسِّيِّ فَثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ يُؤْتَى بِهَا مِنْ مِصْرَ وَالشَّامِ فِيهَا شِبْهُ كَذَا، وَأَمَّا الْمَيَاثِرُ فَشَيْءٌ كَانَتْ تَجْعَلُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى الرَّحْلِ كَالْقَطَائِفِ الْأُرْجُوَانِ.
ابن ادریس نے کہا : میں نے عاصم بن کلیب سے سنا ، انھوں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : آپ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس انگلی یا اس کے پاس والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا ۔ عاصم کو یہ یاد نہیں رہا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کون سی دو انگلیوں میں ( پہننے سے منع کیا تھا ) ۔ ۔ ۔ اور آپ نےمجھے قس کے ریشمی کپڑے پہننے اور ریشمی گدوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا ۔ انھوں نے ( حضر ت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا قَسَی ( ریشمی ) دھاریوں والا کپڑا مصر اور شام سے آتا تھا ، اس میں کچھ شبیہیں ( تصویروں جیسے نقش ونگار ) ہوتی ہیں ۔ اور میاثر اس کہتے ہیں جو عورتیں اپنے خاوندوں کی خاطر زین پر رکھنے کے لیے بناتی تھیں ، جس طرح ارغوانی رنگ کے گدے ہوں ۔
حدیث #5491 بین الاقوامی: 2078.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 106
مکمل مطالعہ →
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ ابْنٍ لَأَبِي مُوسَى ، قال: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
سفیان نے عاصم بن کلیب سے ، انھوں نے ابو موسیٰ ( اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے ایک بیٹے سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مطابق روایت کی ۔
حدیث #5492 بین الاقوامی: 2078.06 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 107
مکمل مطالعہ →
وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ ، قال: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، قال: نَهَى أَوْ نَهَانِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
شعبہ نے عاصم بن کلیب سے روایت کی ، کہا : میں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : منع فرمایا ، یا مجھے منع فرمایا ، ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ( اس کے بعد ) اسی طرح بیان کیا ۔
حدیث #5493 بین الاقوامی: 2078.07 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 108
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قال: قَالَ عَلِيٌّ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَخَتَّمَ فِي إِصْبَعِي هَذِهِ أَوْ هَذِهِ، قَالَ: فَأَوْمَأَ إِلَى الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا ".
ابو احوص نے عاصم بن کلیب سے ، انھوں نے ابو بردہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضر علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایاتھا کہ میں ان دونوں میں سے کسی انگلی میں انگوٹھی پہنوں ، پھر انھوں نے درمیانی اور ( انگوٹھے کی طرف سے ) اس کے ساتھ والی انگلی کی طرف اشارہ کیا ۔
18: بَابُ اسْتِحُبَابِ لُبْسِ النَّعَالِ وَمَا فِي مَعْنَاهَا
باب: جوتا پہننے کے مستحب ہونے کے بیان میں۔
حدیث #5494 بین الاقوامی: 2096 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 109
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَوْنَاهَا: " اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ ".
ابو زبیرنے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ایک غزوے کے دوران میں ، جو ہم نے لڑا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " کثرت سے ( اکثر اوقات ) جوتے پہنا کرو ، کیونکہ آدمی جب تک جوتے پہن کر رکھتا ہے سوار ہوتا ہے ۔ ( اس کے پاؤں اسی طرح محفوظ رہتے ہیں جس طرح سوار کے اور وہ سوار ہی کی طرح تیزی سے چل سکتا ہے)
19: بَابُ اسْتِحُبَابِ لُبْسِ النَّعْلِ فَي الْيُمْنٰي أَوَّلْا ، وَّالْخَلْعِ مِنَ الْيُسْرٰي أَوَّلٓا ، وَّكَرَاهَةِ الْمَشْيِ فَي نَعْلٍ وَّاحِدَةٍ
باب: پہلے داہنا جوتا پہننے اور پہلے بایاں اتارے اور صرف ایک جوتا پہن کر چلنا مکروہ ہے۔
حدیث #5495 بین الاقوامی: 2097.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 110
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَبْدَأْ بِالْيُمْنَى، وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ، وَلْيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا ".
محمد بن زیاد نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہنے تو دائیں ( پاؤں ) سے ابتدا کرے اور جب جوتا اتارے تو بائیں ( پاؤں ) سے ابتداکرے اور دونوں جوتے پہنے یا دونوں جوتے اتار دے ۔
حدیث #5496 بین الاقوامی: 2097.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 111
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَمْشِ أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا ".
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ایک جوتے میں نہ چلے ، دونوں جوتے پہنے یا دونوں جوتے اتار دے ۔
حدیث #5497 بین الاقوامی: 2098.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 112
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، قال: خَرَجَ إِلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى جَبْهَتِهِ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّكُمْ تَحَدَّثُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَهْتَدُوا وَأَضِلَّ أَلَا، وَإِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِ فِي الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا ".
ابن ادریس نے اعمش سے ، انھوں نے ابو رزین سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے پاس آئے ، انھوں نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مار کر فرمایا : سنو! کیا تم اس طرح کی باتیں کرتے ہوکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف باتیں منسوب کرتا ہوں ۔ تاکہ تم ہدایت پاجاؤ اور میں خود گمراہ ہوجاؤں ، سن لو!میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جب تم میں سے کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اس کو ٹھیک کرنے سے پہلے دوسرے ( جوتے ) میں نہ چلے ۔
حدیث #5498 بین الاقوامی: 2098.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 113
مکمل مطالعہ →
وحدثينيه عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ وَأَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى.
علی بن مسہر نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو رزین اور ابو صالح سے خبردی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی روایت کی ۔
20: باب النَّهْيِ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالاِحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ:
باب: ایک ہی کپڑا سارے بدن پر اوڑھنے اور ایک ہی کپڑے میں احتباء سے ممانعت۔
حدیث #5499 بین الاقوامی: 2099.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 114
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ ".
مالک بن انس نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی اپنے بائیں ہاتھ سے کھائے ، یا ایک جوتا پہن کرچلے اور ایسا کپڑا پہنے جس میں باہر نکالنے والے اعضاء ( سر ، ہاتھ ، پاؤں ) کےلیے سوراخ نہ ہوں اور ایک ہی کپڑا اس طرح کمر اور گھٹنوں کے گرد باندھے کہ اس کی شرمگاہ ظاہر ہو ۔
حدیث #5500 بین الاقوامی: 2099.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 115
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ أَوْ مَنِ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ، فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ، وَلَا يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ، وَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَحْتَبِي بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَلَا يَلْتَحِفْ الصَّمَّاءَ ".
ابو خیثمہ ( زہیر ) نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( یاانھوں نے کہا : ) ۔ میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ۔ ۔ ۔ " جب تم میں سے کسی کا تسمہ ٹوٹ جائے ۔ یا ( فرمایا ) جس شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے ۔ تو وہ ایک ( ہی ) جوتے میں نہ چلے ۔ یہاں تک کہ اپنا تسمہ ٹھیک کرلے ، ایک موزے میں بھی نہ چلے ، اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ، نہ ( اکڑوں بیٹھ کر ) اکلوتے کپڑے کوکمر اور گھٹنوں کے گرد باندھے ، نہ ہاتھ پاؤں بند کردینے والا لباس پہنے ۔
21: باب فِي مَنْعِ الاِسْتِلْقَاءِ عَلَى الظَّهْرِ وَوَضْعِ إِحْدَى الرِّجْلَيْنِ عَلَى الأُخْرَى:
باب: چت لیٹنے اور چت لیٹ کر ایک پاؤں دوسرے پر رکھنے سے منع کرنے کا بیان۔
حدیث #5501 بین الاقوامی: 2099.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 116
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ ".
لیث نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پاؤں وغیرہ کو بندکردینے والا لباس پہننے ، ایک کپڑے سےکمر اور گھٹنوں کو باندھنے اور چت لیٹ کر ایک پاؤں کو دوسرے کے اوپر ( رکھتے ہوئے اس کو ) اٹھانے سے منع فرمایا ۔
حدیث #5502 بین الاقوامی: 2099.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 117
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ، وَلَا تَحْتَبِ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ، وَلَا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ، وَلَا تَشْتَمِلِ الصَّمَّاءَ، وَلَا تَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْكَ عَلَى الْأُخْرَى إِذَا اسْتَلْقَيْتَ ".
ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کررہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک جوتا پہن کر نہ چلو اور ایک چادر ( ہوتواس ) کو گھٹنے کھڑے کرکے ان کے اور کمر کے گرد نہ باندھو ، بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ ، ہاتھ پاؤں بند کردینے والا کپڑا نہ پہنو اور جب چت لیٹے ہوتو ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ ( کھڑی کر کے اس ) پر نہ رکھو ۔
حدیث #5503 بین الاقوامی: 2099.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 118
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْأَخْنَسِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَسْتَلْقِيَنَّ أَحَدُكُمْ ثُمَّ يَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ".
عبیداللہ بن اخنس نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص چٹ لیٹ کر اپنی ٹانگ کودوسری ٹانگ ( کھڑی کرکے اس ) پر نہ رکھے ۔
22: باب فِي إِبَاحَةِ الاِسْتِلْقَاءِ وَوَضْعِ إِحْدَى الرِّجْلَيْنِ عَلَى الأُخْرَى:
باب: چت لیٹ کر ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھنے کی اجازت کا بیان۔
حدیث #5504 بین الاقوامی: 2100.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 119
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، " أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ".
مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عباد بن تمیم سے ، انھوں نے اپنے چچا ( عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اس حالت میں چت لیٹے ہوئے دیکھا کہ آپ نے ( دونوں ٹانگوں زمین پر بچھائے ہوئے ) ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا ہوا تھا ۔
حدیث #5505 بین الاقوامی: 2100.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 120
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قالا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّبِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابن عینیہ ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
23: باب النَّهْيِ عَنِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ:
باب: مرد کو زعفران لگانا منع ہے یا زعفران میں رنگا ہوا کپڑا پہننا۔
حدیث #5506 بین الاقوامی: 2101.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 121
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ التَّزَعْفُرِ "، قَالَ قُتَيْبَةُ: قَالَ حَمَّادٌ: يَعْنِي لِلرِّجَالِ.
یحییٰ بن یحییٰ ، ابو ربیع اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ یحییٰ نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفرانی رنگ ( سے رنگے کپڑے پہننے ) سے منع فرمایا ۔ قتیبہ نے کہا کہ حماد نے کہا : یعنی مردوں کو ( منع فرمایا)
حدیث #5507 بین الاقوامی: 2101.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 122
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ ".
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو زعفرانی رنگ ( پہننے ) سے منع فرمایا ۔
24: باب اسْتِحْبَابِ خِضَابِ الشَّيْبِ بِصُفْرَةٍ أَوْ حُمْرَةٍ وَتَحْرِيمِهِ بِالسَّوَادِ
باب: بڑھاپے میں بالوں پر زرد رنگ یا سرخ رنگ کے ساتھ خضاب کرنے کے استحباب اور سیاہ رنگ کے خضاب کی حرمت کے بیان میں۔
حدیث #5508 بین الاقوامی: 2102.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 123
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: " أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ أَوْ جَاءَ عَامَ الْفَتْحِ أَوْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ مِثْلُ الثَّغَامِ أَوِ الثَّغَامَةِ، فَأَمَرَ أَوْ فَأُمِرَ بِهِ إِلَى نِسَائِهِ، قَالَ: غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ ".
ابوخیثمہ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : فتح مکہ کے سال یا فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لایاگیا ، وہ آئے اور ان کے سر اور داڑھی کےبال ثغام یا ثغامہ ( کے سفید پھولوں ) کی طرح تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر کی عورتوں کوحکم دیا ، یا ان کے بارے میں ( ان کےگھر کی عورتوں کو ) حکم دیا گیا ، فرمایا : " اس ( سفیدی ) کو کسی چیز ( اور رنگ ) سے بدل د یں ۔
حدیث #5509 بین الاقوامی: 2102.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 124
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: " أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ ".
ابن جریج نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : فتح کہ کے دن حضرت ابوقحافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لایا گیا ، ان کے سر اورداڑھی کے بال سفیدی میں ثغامہ ( کے سفید پھولوں ) کی طرح تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اس ( سفیدی ) کو کسی چیز سے تبدیل کردو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو ۔
25: باب فِي مُخَالَفَةِ الْيَهُودِ فِي الصَّبْغِ:
باب: رنگنے میں یہود کی مخالفت کرنے کے بیان میں۔
حدیث #5510 بین الاقوامی: 2103 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 125
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ ".
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہود اوراور نصاریٰ ( بالوں کو ) رنگ نہیں لگا تے تم ان کی مخالفت کرو ( بالوں کو رنگ لگا ؤ ۔)
26: باب تَحْرِيمِ تَصْوِيرِ صُورَةِ الْحَيَوَانِ وَتَحْرِيمِ اتِّخَاذِ مَا فِيهِ صُورَةٌ غَيْرُ مُمْتَهَنَةٍ بِالْفَرْشِ وَنَحْوِهِ وَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ عَلَيْهِمْ السَّلَام لَا يَدْخُلُونَ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ
باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
حدیث #5511 بین الاقوامی: 2104.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 126
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا، قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا، فَجَاءَتْ تِلْكَ السَّاعَةُ وَلَمْ يَأْتِهِ، وَفِي يَدِهِ عَصًا، فَأَلْقَاهَا مِنْ يَدِهِ، وَقَالَ: " مَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَا رُسُلُهُ " ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ: " مَتَى دَخَلَ هَذَا الْكَلْبُ هَاهُنَا؟ "، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاعَدْتَنِي فَجَلَسْتُ لَكَ فَلَمْ تَأْتِ "، فَقَالَ: " مَنَعَنِي الْكَلْبُ الَّذِي كَانَ فِي بَيْتِكَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
عبد العزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا جبرئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ ایک خاص گھڑی میں ان کے پاس آئیں گے ، چنانچہ وہ گھڑی آگئی لیکن جبرئیل علیہ السلام نہ آئے ۔ ( اس وقت ) آپ کے دست مبارک میں ایک عصاتھا ۔ آپ نے اسے اپنے ہا تھا سے ( نیچے پھینکا اور فرمایا : " نہ اللہ تعا لیٰ اپنے وعدے کی خلا ف ورزی کرتا ہے نہ رسول ( خلا ف ورزی کرتے ہیں ۔ ) " جبریل امین علیہ السلام بھی وحی لے کر انبیا ء علیہ السلام کی طرف آنے والے اللہ کے رسول تھے ) پھر آپ نے دھیان دیا تو ایک چار پا ئی کے نیچے کتے " کا ایک پلا تھا ۔ آپ نے فرما یا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! یہ کتا یہاں کب گھسا ؟ " انھوں نے کہا : واللہ !مجھے بالکل پتہ نہیں چلا ۔ آپ نے حکم دیا تو اس ( پلے ) کو نکال دیا گیا ، پھر جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرما یا : " آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا میں آپ کی خاطر بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے ۔ " انھوں نے کہا آپ کے گھر میں جو کتا تھا ، مجھے اس نے روک لیا ہم ایسے گھر میں دا خخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو ۔ نہ ( اس میں جہاں تصویر ہو ۔)
حدیث #5512 بین الاقوامی: 2104.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 127
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ جِبْرِيلَ وَعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يُطَوِّلْهُ كَتَطْوِيلِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ.
ہمیں وہب نے اسی سند کے ساتھ ابو حازم سے حدیث سنا ئی کہ جبرا ئیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ آپ کے پاس آئیں گے پھر حدیث بیان کی اور ابو حازم کے بیٹے کی طرح لمبی تفصیل نہیں بتا ئی ۔
حدیث #5513 بین الاقوامی: 2105 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 128
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ السَّبَّاقِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قال: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي "، قَالَ: فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً، فَنَضَحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ لَهُ: " قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ؟ "، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ، وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ.
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے مجھے بتا یا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فکر مندی کی حالت میں صبح کی ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آج دن ( کے آغاز ) سے آپ کی حالت معمول کے خلا ف دیکھ رہی ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جبرائیل علیہ السلام نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات مجھ سے ملیں گے لیکن وہ نہیں ملے ۔ بات یہ ہے کہ انھوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلا فی نہیں کی ، " کہا : تو اس روز پورا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت یہی رہی پھر ان کے دل میں کتے کے ایک پلے کا خیال بیٹھ گیا ۔ جو ہمارے ( ایک بستر کے نیچے بن جا نے والے ) ایک خیمہ ( نما حصے ) میں تھا ۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے نکا ل دیا گیا ، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے پانی لیا اور اس جگہ پر چھڑک دیا ۔ جب شام ہو ئی تو جبرائیل علیہ السلام آ کر آپ سے ملے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے کل رات ملیں گے؟انھوں نے کہا ہاں بالکل لیکن ہم ایسے گھر میں ادا خل نہیں ہو تے جس میں کتا یا تصویر ہو ۔ پھر جب صبح ہو ئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آوارہ یا بے کا ر ) کتوں کو مارنے دینے کا حکم دیا ، یہاں تک کہ آپ باغ یا کھیت کے چھوٹے کتے کو بھی ( جورکھوالی نہیں کر سکتا ) مارنے کا حکم دے رہے تھے اور باغ کھیت کے بڑے کتے کو چھوڑ رہے تھے ۔ ( ایسے کتے گھروں سے باہر ہی رہتے ہیں اور واقعی رکھوالی کی ضرورت پو ری کرتے ہیں)
حدیث #5514 بین الاقوامی: 2106.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 129
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقال الآخران: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
حدیث #5515 بین الاقوامی: 2106.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 130
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
یو نس نے مجھے ابن شہا ب سے ، خبر دی انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سئے روایت کی کہ انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو نہ ( اس گھر میں جس میں ) کو ئی تصویر ہو ۔
حدیث #5516 بین الاقوامی: 2106.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 131
مکمل مطالعہ →
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ، وَذِكْرِهِ الْأَخْبَارَ فِي الْإِسْنَادِ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یو نس کی حدیث کے مانند اور سند میں خبر دینے کی صرا حت کرتے ہو ئے روایت کی ۔
حدیث #5517 بین الاقوامی: 2106.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 132
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ "، قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ بَعْدُ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْد عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ، قَالَ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ.
لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث سنا ئی انھوں نے بسربن سعید سے ، انھوں نے زید بن خالد سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابو طلحہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں کو ئی تصویر ہو ۔ "" بسر نے کہا : پھر اس اس کے بعد حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے ۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ( دیکھا ) ان کے دروازے پر ایک پردہ تھا جس میں تصویر ( بنی ہو ئی ) تھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لے پا لک عبید اللہ خولا نی سے کہا : کیا حضرت زید نے پہلےدن ( جب ملا قات ہو ئی تھی ۔ ) ہمیں تصویر ( کی ممانعت ) کے بارے میں خبر ( حدیث ) بیان نہیں کی تھی؟ تو عبید اللہ نے کہا : جب انھوں نے "" کپڑے پربنے ہو ئے نقش کے سوا "" کے الفاظ کہے تھے تو کیا تم نے نہیں سنے تھے؟
حدیث #5518 بین الاقوامی: 2106.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 133
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ، وَمَعَ بُسْرٍ عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ "، قَالَ بُسْرٌ: فَمَرِضَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا نَحْنُ فِي بَيْتِهِ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ: أَلَمْ يُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِيرِ، قَالَ، إِنَّهُ قَالَ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ أَلَمْ تَسْمَعْهُ؟، قُلْتُ: لَا: قَالَ: بَلَى قَدْ ذَكَرَ ذَلِكَ.
مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ انھیں بکیر بن اشج نے حدیث سنا ئی ، انھیں بسر بن سعید نے حدیث سنائی کہ زید بن خالد جہنی نے انھیں حدیث سنائی اور ( اس وقت ) بسر کے ساتھ عبید اللہ خولا نی تھے ۔ ( کہا ) حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " فرشتے اس گھر میں دا خل نہیں ہو تے جس میں تصویر ہو ۔ بسر نے کہا : پھر حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے ، ہم ان کی عیا دت کے لیے گئے تو ہم نے ان گھر میں ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں میں نے عبید اللہ خولا نی سے کہا : کیا ( حضرت زید بن خالد نے ) ہمیں تصاویر کے متعلق حدیث بیان نہیں کی تھی ؟ ( عبید اللہ نے ) کہا : انھوں نے ( ساتھ ہی یہ ) کہا تھا : " سوائے کپڑے کے نقش کے " کیا آپ نے نہیں سنا تھا " میں نے کہا : نہیں انھوں نے کہا : کیوں نہیں ! انھوں نے اس کا ذکر کیا تھا ۔
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قال: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ "،
بنو نجار کے آزاد کردہ غلا م ابو حباب سعید بن یسار نے حضرت زید بن خالد جہنی سے ، انھوں نے حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے " اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو ، نہ ( اس میں جہاں ) مجسمے ہوں ۔
حدیث #5520 بین الاقوامی: 2107.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 134
مکمل مطالعہ →
قَالَ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ "، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ؟، فَقَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ، فَعَلَ رَأَيْتُهُ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا، فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْبَابِ، فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ، فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ، وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ "، قَالَتْ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ، وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ.
۔ ( سعید بن یسار نے ) کہا : ( یہ حدیث سن کر ) میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گیا اور کہا : انھوں ( ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نےکہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہو تے جس میں کتا ہو ۔ نہ ( اس میں ( جہاں کسی طرح کی تصویر یں ہوں ۔ " کیا آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی جو انھوں نے بیان کی ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : نہیں ۔ ( میں نے اس طرح یہ الفاظ نہیں سنے ) لیکن میں تمھیں ہو بتا تی ہو ں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہو ئے دیکھا ۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے غزوے میں تشریف لے گئے تو میں نے نیچے بچھانے کا ایک مو ٹا ساکپڑا لیا اور دروازے پر اس کا پردہ بنادیا جب آپ آئے اور آپ نے وہ کپڑا دیکھا تو میں نے آپ کے چہرہ انور پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے ، پھر آپ نے اسے پکڑ کر کھینچا اور اسے پھاڑ دیا اس کے ( دو ٹکرے کر دیے اور فرما یا : اللہ نے ہمیں پتھروں اور مٹی کو کپڑے پہنانے کا حکم نہیں دیا ۔ " ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : پھر ہم نے اس کپڑے میں سے دو تکیے ( بنانے کے لیے دو ٹکڑے ) کاٹ لیے اور میں نے ان دونوں کے اندر کھجوروں کی چھا ل بھر دی ۔ آپ نے اس کے سبب سے مجھ پر کو ئی اعترا ض نہیں فرمایا
حدیث #5521 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 135
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ، وَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ اسْتَقْبَلَهُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَوِّلِي هَذَا، فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا "، قَالَتْ: وَكَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ فَكُنَّا نَلْبَسُهَا.
اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے ، انھوں نے عزرہ سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمان سے ، انھوں نے سعد بن ہشام سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ہمارے ہاں ایک پردہ تھا جس میں پرندے کی تصویر تھی ، جب کوئی شخص اندر آتا یہ تصویر اس کےسامنے آجاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " اس پردے کو ہٹا دو کیونکہ میں جب بھی اندر آتا ہوں ۔ اور اس پردے کو دیکھتا ہوں تو دنیا کو یاد کرتا ہوں ۔ " حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہمارے پاس ایک چادر تھی ، ہم کہتےتھے کہ اس کے کناروں پر سلا ہوا کپڑا ریشم ہے ، ہم اس چادر کو پہنتے تھے ۔
مکمل مطالعہ →
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَزَادَ فِيهِ يُرِيدُ عَبْدَ الْأَعْلَى، فَلَمْ يَأْمُرْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِهِ.
محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں ابن ابی عدی اور عبدالاعلیٰ نے اسی سند کے ساتھ ( داود سے ) حدیث بیان کی ، ابن مثنیٰ نے کہا : اور اس میں انہوں نے ۔ ۔ ۔ ان کی مراد عبدالاعلیٰ سے ہے ۔ یہ اضافہ کیا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس چادر کو کاٹنے کا حکم نہیں دیا ۔
حدیث #5523 بین الاقوامی: 2107.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 136
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، وَقَدْ سَتَّرْتُ عَلَى بَابِي دُرْنُوكًا فِيهِ الْخَيْلُ ذَوَاتُ الْأَجْنِحَةِ، فَأَمَرَنِي فَنَزَعْتُهُ ".
ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے ، میں نےروئیں دار کپڑا دروازے کا پردہ بنایا ہوا تھا جس پر پروں والے گھوڑوں کی تصویریں تھیں تو آپ نے مجھے ( اتار نے کا ) حکم دیا تو میں نے اس کو اتاردیا ۔
حدیث #5524 بین الاقوامی: 2107.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 137
مکمل مطالعہ →
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ عَبْدَةَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ.
عبدہ اور وکیع نے اسی سند کے ساتھ ہمیں ( ہشام بن عروہ سے ) حدیث بیان کی ، عبدہ کی حدیث میں " آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے " کے الفاظ نہیں ہیں ۔
حدیث #5525 بین الاقوامی: 2107.06 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 138
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَسَتِّرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةٌ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَهَتَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ ".
ابراہیم بن سعد نے زہری سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک موٹے سے کپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا ، اس پر تصویر تھی تو آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا ۔ پھر آپ نے پردہ کو پکڑا اور پھاڑ دیا ، پھر فرمایا؛ " قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے لوگوں میں سے وہ ( بھی ) ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ( جاندار ) اشیاء کے جیسی ( مشابہ ) بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
حدیث #5526 بین الاقوامی: 2107.07 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 139
مکمل مطالعہ →
وحدثني حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْقِرَامِ فَهَتَكَهُ بِيَدِهِ.
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے قاسم بن محمد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ، ( آگے اسی طرح ) جس طرح ابراہیم بن سعد کی حدیث ہے ، البتہ انھوں نے کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ( پردے ) کی طرف لپکے اور اپنے ہاتھ سے اس کو پھاڑ دیا ۔
حدیث #5527 بین الاقوامی: 2107.08 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 140
مکمل مطالعہ →
وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا لَمْ يَذْكُرَا مِنْ.
سفیان بن عینیہ اور معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ان دونوں کی حدیث میں ہے : " لوگوں میں سے شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے ( وہ لوگ ہوں گے ) " انھوں نے " میں سے " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
حدیث #5528 بین الاقوامی: 2107.09 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 141
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ هَتَكَهُ وَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ، وَقَالَ يَا عَائِشَةُ: " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَطَعْنَاهُ، فَجَعَلْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ کہہ رہی تھیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنے طاق پر موٹا ساکپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں تھیں ۔ جب آپ نے اس کے پردے کو دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالاآپ کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ نے فرمایا؛ "" عائشہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے شدید عذاب کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت کریں گے ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہم نے اس پردے کو کاٹ دیااور اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے ( ایک یا دو کے بارے میں شک راوی کی طرف سے ہے ۔)
حدیث #5529 بین الاقوامی: 2107.1 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 142
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودٌ إِلَى سَهْوَةٍ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ، فَقَالَ: " أَخِّرِيهِ عَنِّي "، قَالَتْ: فَأَخَّرْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے قاسم سے سنا ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کررہے تھے کہ ان کے پاس ا یک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں ، وہ طاق پر لٹکا ہوا تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف رخ کرکے نماز پڑھا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کو مجھ سے ہٹا دو ۔ " تو میں نے اس کو ہٹا دیا اور اسکے تکیے بنالیے ۔
حدیث #5530 بین الاقوامی: 2107.11 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 143
مکمل مطالعہ →
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
سعید بن عامر اور ابو عامر عقدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
حدیث #5531 بین الاقوامی: 2107.12 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 144
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ وَقَدْ سَتَرْتُ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَنَحَّاهُ فَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ ".
وکیع نے سفیان سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن قاسم سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے ، اور میں نے ایک بچھانے والے کپڑے کا پردہ بنایا ہواتھا ، اس میں تصویریں تھیں ، آپ نے اس کو ہٹوادیا اور میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے ۔
حدیث #5532 بین الاقوامی: 2107.13 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 145
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَعَهُ، قَالَتْ: فَقَطَعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ "، فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ: أَفَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْكُرُ أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا، قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ: لَا، قَالَ: لَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ.
بکیر نے کہا : عبدالرحمان بن قاسم نے انھیں حدیث بیان کی ، انھیں ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے ایک پردہ لٹکا رکھاتھا جس میں تصاویر تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے تو آپ نے اس پردے کو اتار دیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں اس کو کاٹ کر دو تکیے بنالیے ، ( جب یہ حدیث بیان کی جارہی تھی ) تواس مجلس میں ایک شخص نے ، جو ربیعہ بن عطاء کہلاتے تھے ، بنو زہری کے مولیٰ تھے ، کہا : کیا آپ نے ابو محمد ( قاسم بن محمد ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں ( تکیوں ) کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے؟تو ( عبدالرحمان ) ابن قاسم نے کہا : نہیں ، اس نے کہا : لیکن میں نے یقیناً ( ان سے ) یہ بات سنی تھی ۔ ان کی مراد ( ان کےوالد ) قاسم بن محمد سے تھی ۔
حدیث #5533 بین الاقوامی: 2107.14 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 146
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قرأت على مالك ، عن نافع ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفْتُ أَوْ فَعُرِفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ؟ "، فَقَالَتْ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ ".
اما مالک رحمۃ اللہ علیہ نے نافع سے ، انھوں نے قاسم بن محمد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ انھوں نے ایک ( چھوٹا سا بیٹھنے کے لئے ) گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( گدے ) کو دیکھا تو آ پ دروازے پر ٹھہر گئے اور اندر داخل نہ ہوئے ، میں نے آپ کے چہر ے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے ، ( یا کہا : ) آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کی آثار محسوس ہوئے ، تو انھوں ) ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں ( سچے دل سے ) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے توبہ کرتی ہوں ۔ میں نے کیاگناہ کیا ہے؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ گدا کیسا ہے؟ " انھوں نے کہا : میں نے یہ آپ کے لئے خرید اہے ۔ تا کہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان تصویروں ( کےبنانے ) والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائےگا اوران سے کہا جائے گا : تم نے جو ( صورتیں ) تخلیق کی ہیں ، ان کو زندہ کرو ۔ " پھر فرمایا؛ " جس گھر میں تصویریں ہوں ان میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔
حدیث #5534 بین الاقوامی: 2107.15 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 147
مکمل مطالعہ →
وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْح ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحدثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حدثنا أبى عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَخِي الْمَاجِشُونِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبَعْضُهُمْ أَتَمُّ حَدِيثًا لَهُ مِنْ بَعْضٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَخِي الْمَاجِشُونِ، قَالَتْ: فَأَخَذْتُهُ فَجَعَلْتُهُ مِرْفَقَتَيْنِ فَكَانَ يَرْتَفِقُ بِهِمَا فِي الْبَيْتِ.
قتیبہ اور ابن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، اسحاق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں ثقفی نے خبر دی ، کہا : ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی ، عبدالوارث بن عبدالصمد نےکہا : ہمیں میرے والد نے میرے دادا کے واسطے سے ایوب سے حدیث بیان کی ، ہارون بن سعید ایلی نے کہا : ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی ، ابو بکر اسحاق نے کہا : ہمیں ابو سلمہ خزاعی نے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہمیں ماجثون کے بھتیجے عبدالعزیز نے عبیداللہ بن عمر سے خبر دی ، ان سب ( لیث بن سعد ، ایوب ، اسامہ بن زید اور عبیداللہ بن عمر ) نے نافع سے ، انھوں نے قاسم سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے یہ حدیث روایت کی ، ان میں سے بعض کی حدیث بعض کی نسبت زیادہ مکمل ہے اور ( ابو سلمہ خزاعی نے ) ابن ماجثون کے بھتیجے سے روایت کردہ حدیث میں یہ اضافہ کیا : انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے فرمایا : میں نے اس گدے کو لے کر اس کے دو تکیے بنا لیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ان کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے ۔
حدیث #5535 بین الاقوامی: 2108.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 148
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ جميعا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الَّذِينَ يَصْنَعُونَ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ".
عبید اللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جو لو گ تصویریں بنا تے ہیں انھیں قیامت کے دن عذاب دیا جا ئے گا ، ان سے کہا جا ئے گا جن کو تم نے تخلیق کیا ( اب ان کو زندہ کرو ۔)
حدیث #5536 بین الاقوامی: 2108.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 149
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِع، عَن ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ایو ب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اسی حدیث کے مانند روایت کی ، جس طرح عبید اللہ نے نافع سے ، انھوں نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔
حدیث #5537 بین الاقوامی: 2109.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 150
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ "، وَلَمْ يَذْكُرْ الْأَشَجُّ إِنَّ.
عثمان بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابو ضحیٰ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مسروق سے انھوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " یقیناً قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب میں ( گرفتار تصویر بنانے والے ہو ں گے ۔ " اشج نے یقیناً " ( کا لفظ ) بیان نہیں کیا ۔
حدیث #5538 بین الاقوامی: 2109.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 151
مکمل مطالعہ →
وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَي، وَأَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابًا الْمُصَوِّرُونَ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ كَحَدِيثِ وَكِيعٍ.
یحییٰ بن یحییٰ ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب سب نے ابو معاویہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ، ( ابو معاویہ اور سفیان ) دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ابو معاویہ سے یحییٰ اور ابو کریب روایت میں ہے ، " قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب پانے والوں میں سے تصویر بنا نے والے ہیں ۔ " اور سفیان کی حدیث وکیع کی حدیث کی طرح ہے ۔
حدیث #5539 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 152
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قال: كُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ فِي بَيْتٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: هَذَا تَمَاثِيلُ كِسْرَى، فَقُلْتُ: لَا هَذَا تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يقول: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ ".
منصور نے مسلم بن صبیح ( ابو ضحیٰ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں مسروق کے ساتھ ایک مکا ن میں تھا جس میں حضرت مریم علیہ السلام کی تصاویر تھیں ( یا مجسمے تھے ) مسروق نے کہا : یہ کسریٰ کی تصاویر ہیں ؟ میں نے کہا : نہیں یہ مریم علیہ السلام کی تصاویرہیں ۔ مسروق نے کہا : میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب تصویریں ( یا مجسمے ) بنا نے والوں کو ہو گا ۔
حدیث #5540 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 152
مکمل مطالعہ →
قَالَ مُسْلِم: قَرَأْتُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قال: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا؟ فَقَالَ لَهُ: ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: ادْنُ مِنِّي فَدَنَا حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، قَالَ: أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يَجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ "، وقَالَ: إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاصْنَعِ الشَّجَرَ، وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ فَأَقَرَّ بِهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ.
امام مسلم نے کہا : میں نے نصر بن علی جہضمی کے ساتھ عبد الاعلی بن عبد الاعلیٰ سے حدیث پڑھی کہ ہمیں یحییٰ بن ابی اسحٰق نے ( حضرت حسن بصری کے بھا ئی ) سعید بن ابو حسن سے روایت بیان کی ، کہا : ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اس نے کہا : میں یہ ( جانداروں کی ) تصویر یں بناتا ہوں ، آپ مجھے ان کے متعلق فتویٰ دیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میرے قریب آؤ وہ قریب ہوا انھوں نے پھر فرما یا میرے قریب آؤوہ ( مزید قریب آیا آپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا : "" میں تم کو وہ بات بتاتاہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : "" ہر تصویر بنانے والا جہنم میں ہو گا اور اس کی بنا ئی ہو ئی تصویر کے بدلے میں اللہ تعا لیٰ ایک جاندار بنائے گا وہ اسے جہنم میں عذاب دے گا ۔ "" اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اگر تم نے ضرور ( یہی کا م ) کرنا ہے تو درختوں کی اور جن چیزوں میں جان نہیں ان کی تصویر بنا ؤ ۔ نصر بن علی نے ( جب میں نے ان کے سامنے یہ حدیث پڑھی ) اس کا اقرار کیا ( کہ انھوں نے عبد الاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ سے اسی طرح روایت کی ۔)
حدیث #5541 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 153
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَعَلَ يُفْتِي، لا يَقُولُ: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: ادْنُهْ فَدَنَا الرَّجُلُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ "
سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، آپ نے ( پوچھنے والوں کے مطالبے پر ) فتوے دینے شروع کیے اور یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فر ما یا ہے حتیٰ کہ ایک شخص نے ان سے سوال کیا کہ میں یہ تصویریں بنا تا ہوں ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے کہا : قریب آؤ ۔ وہ شخص قریب آیا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ " جس شخص نے دنیا میں کو ئی تصویر بنا ئی اس کو اس بات کا مکلف بنا یا جا ئے گا کہ وہ قیامت کے دن اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا ۔
حدیث #5542 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 154
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قالا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حدثنا أبى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
قتادہ نے نضر بن انس سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص آیا ۔ اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی
حدیث #5543 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 155
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قال: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي دَارِ مَرْوَانَ، فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ، فَقَالَ: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً ".
ابن فضیل نے عمارہ سے ، انھوں نے ابو زرعہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مروان کے گھر گیا نھوں نے اس گھر میں تصوریں دیکھیں تو کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرما یا : " اللہ عزوجل نے فر ما یا اس شخص سے بڑا ظالم کو ن ہوگا جو میری مخلوق کی طرح مخلوق بنا نے چلا ہو ۔ وہ ایک ذرہ تو بنا ئیں یا ایک دانہ تو بنا ئیں یا ایک جو تو بنا ئیں ! "
حدیث #5544 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 155
مکمل مطالعہ →
وحدثينيه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قال: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ دَارًا تُبْنَى بِالْمَدِينَةِ لِسَعِيدٍ أَوْ لِمَرْوَانَ، قَالَ: فَرَأَى مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ فِي الدَّارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً.
جریر نے عمارہ سے ، انھوں نے ابو زرعہ سے روایت کی ، کہا : میں اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ میں ایک گھر میں گئے جوسعید ( ابن عاص ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا مروان ( ابن حکم ) کے لیے بنا یا جا رہا تھا ، وہاں انھوں نے ایک مصور کو گھر میں تصویر بنا تے ہوئے دیکھا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ اور اسی کے مانند روایت کی اور ( جریر نے ) " یا ایک جَو تو بنائیں " ( کے الفاظ ) بیان نہیں کیے ۔
حدیث #5545 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 156
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ تَصَاوِيرُ ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہو تے جس میں مجسمے ( بت ) یاتصاویر ہوں
27: باب كَرَاهَةِ الْكَلْبِ وَالْجَرَسِ فِي السَّفَرِ:
باب: سفر میں گھنٹی اور کتا رکھنے کی کراہت۔
حدیث #5546 بین الاقوامی: 2113.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 157
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ، وَلَا جَرَسٌ ".
بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں سہیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( رحمت کے ) فرشتے ( سفرکے ) ان رفیقوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے درمیان کتا ہواور نہ ( ان کے ساتھ جن کے پاس ) گھنٹی ہو ۔
حدیث #5547 بین الاقوامی: 2113.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 158
مکمل مطالعہ →
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
جریر اور عبد العزیز دراوردی دونوں نے سہل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
حدیث #5548 بین الاقوامی: 2114 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 159
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " گھنٹی شیطان کی بانسری ہے ۔
28: باب كَرَاهَةِ قِلاَدَةِ الْوَتَرِ فِي رَقَبَةِ الْبَعِيرِ:
باب: تانت کا ہار اونٹ کے گلے میں ڈالنے کی ممانعت۔
حدیث #5549 بین الاقوامی: 2115 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 160
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: " وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ "، قَالَ مَالِكٌ: أُرَى ذَلِكَ مِنَ الْعَيْنِ.
امام مالک نے عبد اللہ بن ابی بکر سے ، انھوں نے عباد بن تمیم سے روایت کی کہ حضرت ابو بشیر انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کو بھیجا ۔ عبد اللہ ابو بکر نے کہا : میرا گمان ہے کہ انھوں نے کہا : لو گ اپنی اپنی سونے کی جگہ میں پہنچ چکے تھے ۔ ( اور حکم دیا ) : "" کسیاونٹ کی گردن میں تانت ( کمان کے دونوں سرے جوڑے نے والی مضبوط باریک چمڑے کی ڈوری ) کا ہا ر ۔ یا کو ئی بھی ہار ۔ نہ چھوڑ اجا ئے مگر اسے کاٹ دیا جا ئے ۔ "" امام مالک نے فرما یا : "" میراخیال ہے کہ یہ ( ہار ) نظر بد سے بچانے کے لیے ( گلے میں ڈالے جا تے ) تھے ۔
29: باب النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْحَيَوَانِ فِي وَجْهِهِ وَوَسْمِهِ فِيهِ:
باب: جانور کے منہ پر مارنے اور داغ لگانے کی ممانعت۔
حدیث #5550 بین الاقوامی: 2116.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 161
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ، وَعَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ ".
‏علی بن مسہر نے ابن جریج سے ، انھوں نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرما یا کہ ( جانور کو ) منہ پر مارا جا ئے یا منہ پر نشانی ثبت کی جائے ۔
حدیث #5551 بین الاقوامی: 2116.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 162
مکمل مطالعہ →
وحدثني هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
حجاج بن محمد اور محمد بن بکر دونوں نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فر ما یا : سابقہ حدیث کے مانند ۔
حدیث #5552 بین الاقوامی: 2117 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 163
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ ".
معقل نے ابو ہریرہ سے انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک گدھا گزرا جس کے منہ پر داغا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے اسے ( منہ پر ) داغاہے اس پر اللہ کی لعنت ہو ۔
حدیث #5553 بین الاقوامی: 2118 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 164
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، قَالَ: " فَوَاللَّهِ لَا أَسِمُهُ إِلَّا فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنَ الْوَجْهِ "، فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلا م ناعم ابو عبد اللہ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو نشانی لگا نے کے لیے داغا گیا تھا آپ نے اس کو بہت برا خیال کیا ، انھوں نے ( حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : اللہ کی قسم !میں جو حصہ چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو اس کے علاوہ کسی جگہ نشانی ثبت نہیں کر تا ۔ پھر انھوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کی سرین ( کے وہ حصے جہاں دم ہلاتے وقت لگتی ہے ) پر نشانی ثبت کی گئی یہ پہلے آدمی ہیں جنھوں نے اس جگہ داغنے کا آغاز کیا ۔
30: باب جَوَازِ وَسْمِ الْحَيَوَانِ غَيْرِ الآدَمِيِّ فِي غَيْرِ الْوَجْهِ وَنَدْبِهِ فِي نَعَمِ الزَّكَاةِ وَالْجِزْيَةِ:
باب: سوائے آدمی کے جانور کو داغ دینا درست ہے۔
حدیث #5554 بین الاقوامی: 2119.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 165
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ لِي: يَا أَنَسُ، انْظُرْ هَذَا الْغُلَامَ فَلَا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ، قَالَ: فَغَدَوْتُ، فَإِذَا هُوَ فِي الْحَائِطِ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ جَوْنِيَةٌ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ ".
محمد ( ابن سیرین ) نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : جب حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انھوں نے مجھ سے کہا : انس !اس بچے کا دھیان رکھو ، اس کے منہ میں کو ئی چیز نہ جا ئے یہاں تک کہ صبح تم اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جا ؤ آپ اسے گھٹی دیں گے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ میں صبح کے وقت آیا ، اس وقت آپ باغ میں تھے ، آپ کے جسم پر ایک کا لے رنگ کی بنوجون کی بنا ئی ہو ئی منقش اونی چادر تھی اور آپ ان سواری کے جانوروں ( کے جسم ) پرنشان ثبت فر ما رہے تھے جو فتح مکہ کے زمانے میں ( فتح مکہ کے فوراً بعد جنگ حنین کے مو قع پر ) آپ کو حاصل ہو ئے تھے ۔
حدیث #5555 بین الاقوامی: 2119.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 166
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ: أَنَّ أُمَّهُ حِينَ وَلَدَتِ انْطَلَقُوا بِالصَّبِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ، قَالَ: فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا "، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ فِي آذَانِهَا.
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا ، کہ جب ان کی والد کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ لوگ اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تا کہ آپ اسے گھٹی دیں اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے ایک باڑے میں تھے اور بکریوں کو نشان لگا رہے تھے شعبہ نے کہا : میرا غالب گمان یہ ہے کہ انھوں نے ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا تھا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) ان ( بکریوں ) کے کا نوں پر نشان لگا رہے تھے ۔ ( اونٹوں کو لگانے کے بعد بکریوں کو بھی وہیں لا کر نشان لگا رہے تھے ۔)
حدیث #5556 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 167
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول: " دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرْبَدًا وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا، قَالَ: أَحْسِبُهُ، قَالَ فِي آذَانِهَا ".
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے ہشام بن زید نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹوں کے باڑے میں گئے ، اس وقت آپ بکریوں کو نشان لگا رہے تھے ( ، شعبہ نے ) کہا : میرا خیال ہے ( ہشام نے ) کہا : کہ ان ( بکریوں ) کے کانوں پر ( نشان لگا رہے تھے ۔)
مکمل مطالعہ →
وحدثينيه يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَيَحْيَي ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ كلهم، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
خالد بن حارث محمد ( ابن جعفر غندر ) یحییٰ ( بن سعید قطان ) اور عبد الرحمان ( بن مہدی ) سب نے شعبہ سے ، اسی سند سے ، اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
حدیث #5558 بین الاقوامی: 2119.05 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 168
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: " رَأَيْتُ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيسَمَ، وَهُوَ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ ".
اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نشان لگا نے والا آلہ دیکھا ، آپ صدقے میں آئے ہو ئے اونٹوں پر نشان ثبت فر ما رہے تھے ۔
31: باب كَرَاهَةِ الْقَزَعِ:
باب: قزع کی ممانعت۔
حدیث #5559 بین الاقوامی: 2120.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 169
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْقَزَعِ "، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: وَمَا الْقَزَعُ؟، قَالَ: يُحْلَقُ بَعْضُ رَأْسِ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكُ بَعْضٌ.
یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے روایت کی کہا : مجھے عمر بن نافع نے اپنے والد سے خبردی ۔ انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے " قزع " سے منع فرمایا ، میں نے نافع سے پو چھا : قزع کیا ہے ؟انھوں نے کہا : بچے کے سر کے کچھ حصے کے بال مونڈدیے جا ئیں اور کچھ حصے کو چھوڑ دیا جا ئے ۔
حدیث #5560 بین الاقوامی: 2120.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 170
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَجَعَلَ التَّفْسِيرَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ مِنْ قَوْلِ عُبَيْدِ اللَّهِ.
ابو اسامہ اور عبد اللہ بن نمیر دونوں نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور انھوں نے ابو اسامہ کی حدیث میں ( قزع کی ) تفسیر کو عبید اللہ کا قول قراردیا ہے ۔ ( ان کے شاگردوں کے سامنے عبید اللہ نے یہ وضاحت نافع کی طرف منسوب کیے بغیر بیان کی ۔)
حدیث #5561 بین الاقوامی: 2120.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 171
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْغَطَفَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ. ح وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، بِإِسْنَادِ عُبَيْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ وَأَلْحَقَا التَّفْسِيرَ فِي الْحَدِيثِ.
عثمان بن عثمان غطفانی اور روح ( بن قاسم ) نے عمر بن نافع سے عبید اللہ کی سند سے اسی کے مانند حدیث بیان کی اور دونوں نے تفسیر ( قزع کی وضاحت ) کو حدیث کا لا حقہ بنا یا ۔ ( الگ سے بیان نہیں کیا ۔)
حدیث #5562 بین الاقوامی: 2120.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 172
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.
ایوب اور عبد الرحمٰن سراج نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مانند روایت کی ۔
32: باب النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ وَإِعْطَاءِ الطَّرِيقِ حَقَّهُ:
باب: راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت اور حقوق کی ادائیگی کے بیان میں۔
حدیث #5563 بین الاقوامی: 2121.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 173
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ "، قَالُوا: وَمَا حَقُّهُ؟، قَالَ: " غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ ".
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " راستوں میں بیٹھنے سے بچو ۔ " لوگوں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے اپنی مجلسوں میں بیٹھے بغیر چارہ نہیں وہی ہم ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر تم بیٹھے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے کا ( جہاں مجلس ہے ) حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے پو چھا : راستے کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " نگا ہیں جھکا کر رکھنا ( چلنے والوں کے لیے ) تکلیف کا سبب بننے والی چیزوں کو ہٹانا سلام کا جواب دینا ، اچھی بات کا حکم دینا اور برا ئی سے روکنا ۔
حدیث #5564 بین الاقوامی: 2121.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 174
مکمل مطالعہ →
وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبد العزیز بن محمد مدنی اور ہشام بن سعید ان دونوں نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
33: باب تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ:
باب: بالوں میں جوڑا لگانا اور لگوانا، گودنا اور گدانا اور منہ کی روئیں نکالنا اور نکلوانا، دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا حرام ہے۔
حدیث #5565 بین الاقوامی: 2122.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 175
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قالت: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيِّسًا أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ؟، فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ".
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے فاطمہ بنت منذر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، انھوں نے حضرت اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کی ، کہا : ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا : میری بیٹی دلہن ہے ۔ اسے خسرہ ( بعض روایات میں چیچک ) نکالاتھا تو اس کے بال جھڑ گئے ہیں کیا میں ( اس کے بالوں کے ساتھ ) دوسرے بال جوڑ دوں ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " اللہ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی ( دونوں ) پر لعنت کی ہے ۔
حدیث #5566 بین الاقوامی: 2122.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 176
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَعَبْدَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ وَكِيعًا وَشُعْبَةَ فِي حَدِيثِهِمَا فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا.
عبداللہ بن نمیر ، عبدہ ، وکیع اور شعبہ سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ابو معاویہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی ، مگر وکیع اور شعبہ نے اپنی روایت میں " " ( اس کے بال چھدرے ہوگئے ہیں ) کے الفاظ کہے ۔
حدیث #5567 بین الاقوامی: 2122.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 177
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعَرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَنَهَاهَا ".
منصور کی والدہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے ، اس کے بال جھڑ گئے ہیں ، اس کا شوہر اس کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑ دوں؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرمادیا ۔
حدیث #5568 بین الاقوامی: 2123.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 178
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّطَ شَعَرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ: " فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ".
عمرو بن مر ہ نے کہا : میں نے حسن بن مسلم سے سنا ، وہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی ، وہ بیمار ہوگئی تھی جس سے اس کے بال جھڑ گئے تھے ان لوگوں نے اس کے بالوں کے ساتھ بال جوڑنے کا ارادہ کیا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوا ل کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں میں جوڑ لگانے والی اور جوڑ لگوانے والی ( دونوں ) پر لعنت فرمائی ۔
حدیث #5569 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 179
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَةً لَهَا، فَاشْتَكَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لُعِنَ الْوَاصِلَاتُ ".
زید بن حباب نے ابراہیم بن نافع سے روایت کی ، کہا : مجھے حسن بن مسلم بن یناق نے صفیہ بنت شیبہ سے خبر دی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک عورت نے ا پنی بیٹی کی شادی کی ، وہ بیمار ہوگئی تو اس کے بال جھڑ گئے ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اورعرض کی کہ اس کا خاوند اس کی رخصتی چاہتاہے ، کیا میں اس کے بالوں میں جوڑ لگادوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے ۔
مکمل مطالعہ →
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: لُعِنَ الْمُوصِلَاتُ.
عبدالرحمان بن مہدی نے ابراہیم بن نافع سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : " جوڑ لگانے والیوں پر لعنت کی گئی ہے ۔
حدیث #5571 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 180
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ".
عبیداللہ نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبردی کہ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوڑ لگانے والی ، جوڑلگوانے والی ، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت کی ۔
مکمل مطالعہ →
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
صخر بن جویریہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حدیث #5573 بین الاقوامی: 2125.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 181
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، واللفظ لإسحاق، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالنَّامِصَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ "، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَتَتْهُ، فَقَالَتْ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ، فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: فَإِنِّي أَرَى شَيْئًا مِنْ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ الْآنَ، قَالَ: اذْهَبِي فَانْظُرِي، قَالَ: فَدَخَلَتْ عَلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، فَقَالَ: أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ نُجَامِعْهَا.
جریر نے منصور سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھیڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لئے کشادہ کرنے والیوں پر ( تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں ) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت ( پیدائش ) بدلنے والیوں پر ۔ پھر یہ خبر بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی قاریہ تھی ، تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی کہ مجھے کیا خبر پہنچی ہے کہ تم نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور منہ کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں ، اور دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت کی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور یہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے؟ وہ عورت بولی کہ میں تو دو جلدوں میں جس قدر قرآن تھا ، پڑھ ڈالا لیکن مجھے نہیں ملا ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو نے پڑھا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تجھے ضرور ملا ہو گا کہ ’ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بتلائے اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو ‘ ( الحشر : 7 ) وہ عورت بولی کہ ان باتوں میں سے تو بعضی باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے ۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا دیکھ ۔ وہ ان کی عورت کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا ۔ پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی کہ ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کے ساتھ مل کر نہ رہتے ۔
حدیث #5574 بین الاقوامی: 2125.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 182
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهِلٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَفِي حَدِيثِ مُفَضَّلٍ، الْوَاشِمَاتِ وَالْمَوْشُومَاتِ.
سفیان اور مفضل بن مہلہل دونوں نے منصور سے ، اسی سند میں جریر کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی مگر سفیان کی حدیث میں : " گودنے والیاں اور گدوانے والیاں " ہے ، جبکہ مفضل کی روایت میں " گودنے والیاں اور جن ( کے جسم ) پر گودا جاتا ہے " کے الفاظ ہیں ۔ ( مقصود ایک ہی ہے ۔)
حدیث #5575 بین الاقوامی: 2125.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 183
مکمل مطالعہ →
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ الْحَدِيثَ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَرَّدًا عَنْ سَائِرِ الْقِصَّةِ مِنْ ذِكْرِ أُمِّ يَعْقُوبَ.
شعبہ نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، ام یعقوب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پورے واقعے کے بغیر ہی بیان کی ہے ۔
حدیث #5576 بین الاقوامی: 2125.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 184
مکمل مطالعہ →
وحدثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
اعمش نے ابراہیم سے ، انھوں نے علقمہ سے ، انھون نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے ۔
حدیث #5577 بین الاقوامی: 2126 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 185
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قالا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا ".
۔ ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنے سر ( کے بالوں ) کے ساتھ کسی بھی چیز کو جوڑنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ۔
حدیث #5578 بین الاقوامی: 2127.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 186
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَيَقُولُ: " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ ".
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے روایت کی ، انھوں نے حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، جس سال انھوں نے حج کیا ، سنا ، وہ منبر پر تھے ، انھوں نے بالوں کی کٹی ہوئی ایک لٹ پکڑی جو ایک محافظ کے ہاتھ میں تھی ( جسے عورتیں بالوں سے جوڑتی تھیں ) اور کہہ رہے تھے : مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ ان ( لٹوں وغیرہ ) سے منع فرماتے تھے اورفرمارہے تھے : " جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے ان کو اپنا نا شروع کیا تو وہ ہلاک ہوگئے ۔ " ( جب جھوٹ کی بنیادوں پر تعمیر عیش وتنعم کا یہ مرحلہ آگیا تو زوال بھی آگیا ۔)
حدیث #5579 بین الاقوامی: 2127.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 187
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ.
سفیان بن عینیہ ، یونس اور معمر ، ان سب نے زہری سے مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا مگر معمر کی حدیث میں : " بنی اسرائیل کو عذاب میں مبتلا کردیا گیا " کے الفاظ ہیں ۔
حدیث #5580 بین الاقوامی: 2127.03 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 188
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قال: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا، وَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ، فَقَالَ: " مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ ".
عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ، کہا : حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینے آئے ، ہمیں خطبہ دیا اور بالوں کاایک گچھہ نکال کرفرمایا : میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہود کے علاوہ کوئی اور بھی ایسا کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے اس کو جھوٹ ( فریب کاری ) کا نام دیا تھا ۔
حدیث #5581 بین الاقوامی: 2127.04 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 189
مکمل مطالعہ →
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قالا: أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ ، قال: ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سَوْءٍ، " وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ "، قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ، قَالَ مُعَاوِيَةُ: أَلَا وَهَذَا الزُّورُ، قَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي مَا يُكَثِّرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ.
قتادہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : تم لوگوں نے ایک بری ہیت نکال لی ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے ، پھر ایک شخص عصا لیے ہوئے آیا جس کے سرے پر کپڑے کی ایک دھجی ( لیر ) تھی ۔ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : سنو! یہ جھوٹ ہے ۔ قتادہ نے کہا : اس سے مراد وہ دھجیاں ( لیریں ) ہیں جن کے ذریعے سے عورتیں اپنے بالوں کو زیادہ کرتی ہیں ۔
34: باب النِّسَاءِ الْكَاسِيَاتِ الْعَارِيَاتِ الْمَائِلاَتِ الْمُمِيلاَتِ:
باب: ان عورتوں کا بیان جو پہنتی ہیں لیکن ننگی ہیں۔ آپ سیدھی راہ سے مڑ گئیں خاوند کو بھی موڑ دیتی ہیں۔
حدیث #5582 بین الاقوامی: 2128 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 190
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ، رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا ۔ ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں ، وہ لوگوں کو اس سے مارتے ہیں دوسرے وہ عورتیں جو پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں ( یعنی ستر کے لائق لباس نہیں ہیں ) ، سیدھی راہ سے بہکانے والی ، خود بہکنے والی اور ان کے سر بختی ( اونٹ کی ایک قسم ہے ) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے آ رہی ہو گی ۔
35: باب النَّهْيِ عَنِ التَّزْوِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَغَيْرِهِ وَالتَّشَبُّعِ بِمَا لَمْ يُعْطَ:
باب: فریب کا لباس پہننے کی اور جو نہ ہو اس کا ذکر کرنے کہنے کی ممانعت۔
حدیث #5583 بین الاقوامی: 2129 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 191
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُولُ إِنَّ زَوْجِي أَعْطَانِي مَا لَمْ يُعْطِنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( اگر ) میں یہ کہوں : مجھے ( یہ سب ) میرےخاوند نے دیا ہے جو اس نے نہیں دیا؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو ( کھانا ) نہیں ملا ، خود کو اس سے سیر ظاہر کرنے والا ، جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے ۔
حدیث #5584 بین الاقوامی: 2130.01 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 192
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ مَالِ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ ".
عبدہ نے کہا : ہمیں ہشام نے فاطمہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا : میری ایک سوکن ہے ، کیا مجھے اس بات پر گناہ ہوگا کہ میں خود کو ا پنے خاوند کے ایسے مال سے سیر ہوجانے والی ظاہر کروں جو اس نے مجھے نہیں دیا؟تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو نہیں دیا گیا اس ( مال یاکھانے ) سے خود کو سیر ظاہر کرنے والا جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے ۔
حدیث #5585 بین الاقوامی: 2130.02 📖 صحيح مسلم باب:37 حدیث نمبر : 193
مکمل مطالعہ →
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابو اسامہ اورابو معاویہ ، دونوں نے ہشام سے ، اس سند کے ساتھ روایت کی ۔
← پچھلی کتاب #38 فہرست کتب (All Books) اگلی کتاب #40 →