كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ
کتاب #37: لباس اور زینت کے احکام
|
1: باب تَحْرِيمِ أَوَانِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فِي الشُّرْبِ وَغَيْرِهِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ:
باب: مرد یا عورت کسی کو چاندی یا سونے کے برتن میں کھانا پینا درست نہیں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الَّذِي يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ ".
امام مالک نے نافع سے، انہوں نے زید بن عبداللہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابوبکر صدیق سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5385]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ بِإِسْنَادِهِ، عَنْ نَافِعٍ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّ الَّذِي يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ ذِكْرُ الْأَكْلِ وَالذَّهَبِ إِلَّا فِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ.
قتیبہ اور محمد بن رمح نے ہمیں لیث بن سعد سے یہی حدیث بیان کی۔ یہی حدیث مجھے علی بن حجر سعدی نے بیان کی، کہا: ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے حدیث بیان کی، اور ہمیں ابن نمیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں محمد بن بشر نے حدیث سنائی۔ محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی، ابوبکر بن ابی شیبہ اور ولید بن شجاع نے کہا: ہمیں علی بن مسہر نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی، محمد بن ابی بکر مقدمی نے کہا: ہمیں فضیل بن سلیمان نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں موسیٰ بن عقبہ نے حدیث سنائی۔ شیبان بن فروخ نے کہا: ہمیں جریر بن حازم نے عبدالرحمٰن سراج سے، ان سب (لیث بن سعد، ایوب، محمد بن بشر، یحییٰ بن سعید، عبید اللہ، موسیٰ بن عقبہ اور عبدالرحمٰن سراج) نے نافع سے امام مالک بن انس کی حدیث کے مانند اور نافع سے (اوپر) انہی کی سند کے ساتھ روایت بیان کی اور عبید اللہ سے علی بن مسہر کی روایت میں اضافہ کیا: ”بلاشبہ جو شخص چاندی یا سونے کے برتن میں کھاتا یا پیتا ہے۔“ ان میں سے اور کسی کی حدیث میں کھانے اور سونے (کے برتن) کا ذکر نہیں۔ صرف ابن مسہر کی حدیث میں ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5386]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْنٍ الرَّقَّاشِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مُرَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ فِي إِنَاءٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ، فَإِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارًا مِنْ جَهَنَّمَ ".
عثمان بن مرہ نے کہا: ہمیں عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے اپنی خالہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سونے یا چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں غٹاغٹ جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5387]
|
|
|
2: باب تَحْرِيمِ اسْتِعْمَالِ إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ عَلَى الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ وَالْحَرِيرِ عَلَى الرَّجُلِ وَإِبَاحَتِهِ لِلنِّسَاءِ وَإِبَاحَةِ الْعَلَمِ وَنَحْوِهِ لِلرَّجُلِ مَا لَمْ يَزِدْ عَلَى أَرْبَعِ أَصَابِعَ:
باب: چاندی اور سونے کے استعمال کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ أَوْ عَنْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ، وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ، وَعَنِ الْمَيَاثِرِ، وَعَنِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ، وَالدِّيبَاجِ ".
ابوخیثمہ زہیر نے کہا: ہمیں اشعث نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے معاویہ بن سوید بن مقرن نے حدیث بیان کی، کہا: میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو ان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے روکا مریض کی عیادت کرنے، جنازے کے ساتھ شریک ہونے، چھینک کا جواب دینے، (اپنی) قسم یا قسم دینے والے (کی قسم) پوری کرنے، مظلوم کی مدد کرنے، دعوت قبول کرنے، انگوٹھی پہننے سے، چاندی کے برتن میں (کھانے) پینے، ارغوانی (سرخ) گدوں سے (اگر وہ ریشم کے ہوں)، مصر کے علاقے قس کے بنے ہوئے کپڑوں (جو ریشم کے ہوتے تھے۔) اور (کسی بھی قسم کے) ریشم استبرق اور دیباج کو پہننے سے روکا (استبراق ریشم کا موٹا کپڑا تھا اور دیباج باریک۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5388]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، إِلَّا قَوْلَهُ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ أَوِ الْمُقْسِمِ، فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ وَجَعَلَ مَكَانَهُ وَإِنْشَادِ الضَّالِّ.
ابوعوانہ نے ہمیں اشعث بن سلیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث سنائی، سوائے ”اپنی قسم یا قسم دینے والے (کی قسم)“ کے الفاظ کے، انہوں نے حدیث میں یہ فقرہ نہیں کہا: اور اس کے بجائے گمشدہ چیز کا اعلان کرنے کا ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5389]
|
|
|
حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كِلَاهُمَا، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وَقَالَ إِبْرَارِ الْقَسَمِ: مِنْ غَيْرِ شَكٍّ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، وَعَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ فَإِنَّهُ مَنْ شَرِبَ فِيهَا فِي الدُّنْيَا، لَمْ يَشْرَبْ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ.
علی بن مسہر اور جریر دونوں نے شیبانی سے، انہوں نے اشعث بن ابی شعثاء سے اسی سند کے ساتھ زہیر کی حدیث کے مانند روایت کی اور بغیر شک کے قسم دینے والے (کی قسم) پوری کرنے کے الفاظ کہے اور حدیث میں مزید بیان کیا: ”اور چاندی (کے برتن) میں پینے سے (منع کیا) کیونکہ جو شخص دنیا میں اس میں پیے گا۔ وہ آخرت میں اس میں نہیں پیے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5390]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ بِإِسْنَادِهِمْ، وَلَمْ يَذْكُرْ زِيَادَةَ جَرِيرٍ وَابْنِ مُسْهِرٍ.
ابن ادریس نے کہا: ہمیں ابواسحٰق شیبانی اور لیث بن ابی سلیم نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور جریر اور ابن مسہر کے اضافے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5391]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنِي بَهْزٌ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ بِإِسْنَادِهِمْ وَمَعْنَى حَدِيثِهِمْ إِلَّا قَوْلَهُ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، فَإِنَّهُ قَالَ بَدَلَهَا وَرَدِّ السَّلَامِ، وَقَالَ: نَهَانَا عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ حَلْقَةِ الذَّهَبِ.
شعبہ نے اشعث بن سلیم سے ان سب کی سند کے ساتھ ان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی، سوائے ان کے روایت کردہ الفاظ: ”سلام عام کرنے“ کے بجائے کہا: ”اور سلام کا جواب دینے“ اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی یا سونے کے کڑے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5392]
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، وَعَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، بِإِسْنَادِهِمْ، وَقَالَ وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَخَاتَمِ الذَّهَبِ من غير شك.
ہمیں سفیان نے اشعث بن ابی شعثاء سے ان سب کی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور شک کے بغیر ”سلام عام کرنے اور سونے کی انگوٹھی“ کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5393]
|
|
|
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَهْلِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ، فَاسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ ، فَجَاءَهُ دِهْقَانٌ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنِّي أُخْبِرُكُمْ أَنِّي قَدْ أَمَرْتُهُ أَنْ لَا يَسْقِيَنِي فِيهِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَشْرَبُوا فِي إِنَاءِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَالْحَرِيرَ، فَإِنَّهُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهُوَ لَكُمْ فِي الْآخِرَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
سعید بن عمرو بن سہل بن اسحٰق بن محمد بن اشعث بن قیس نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے انہیں ابوفروہ سے ذکر کرتے ہوئے سنا کہ انہوں نے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا: ہم (ایران کے سابقہ دارالحکومت) مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک زمیندار چاندی کے برتن میں مشروب لے آیا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس (مشروب) کے سمیت وہ برتن پھینک دیا اور کہا: میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں کہ میں پہلے اس سے کہہ چکا ہوں کہ وہ مجھے اس (چاندی کے برتن) میں نہ پلائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”سونے اور چاندی کے برتن میں نہ پیو اور دیباج اور حریر نہ پہنو کیونکہ یہ چیزیں دنیا میں ان (کفار) کے لیے ہیں اور آخرت میں قیامت کے دن تمہارے لیے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5394]
|
|
|
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْجُهَنِيِّ ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ ، يقول: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابن ابی عمر نے ہمیں یہی حدیث بیان کی کہا: ہمیں سفیان نے ابوفروہ جہنی سے حدیث سنائی، کہا: میں نے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے پھر اس کی طرح بیان کیا اور اس حدیث میں ”قیامت کے دن“ (کے الفاظ) ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5395]
|
|
|
وحدثني عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَوَّلًا، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، ثُمّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، ثُمّ حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُكَيْمٍ ، فَظَنَنْتُ أَنَّ ابْنَ أَبِي لَيْلَى إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنْ ابْنِ عُكَيْمٍ، قال: كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
ابن ابی نجیح نے پہلے ہمیں مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ پھر ہمیں یزید نے حدیث بیان کی، انہوں نے یہ حدیث ابن ابی لیلیٰ سے سنی، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے، پھر ہمیں ابوفروہ نے حدیث بیان کی کہا: میں نے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنی اور میرا خیال یہ ہے کہ ابن ابی لیلیٰ نے بھی یہ حدیث عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ سے سنی، انہوں نے کہا: ہم مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ (ان کے دستے میں) تھے۔ پھر اسی کے مانند بیان کیا اور ”قیامت کے دن“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5396]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حدثنا أبى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى بِالْمَدَائِنِ، فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ بِإِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُكَيْمٍ عَنْ حُذَيْفَةَ.
عبید اللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے دیکھا کہ مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک شخص ان کے پاس چاندی کا برتن لے کر آیا پھر انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کی روایت کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5397]
|
|
|
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ كُلُّهُمْ، عَنْ شُعْبَةَ بمثل حديث مُعَاذٍ وَإِسْنَادِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي الْحَدِيثِ شَهِدْتُ حُذَيْفَةَ غَيْرُ مُعَاذٍ وَحْدَهُ إِنَّمَا قَالُوا إِنَّ حُذَيْفَةَ اسْتَسْقَى.
وکیع، محمد بن جعفر، ابن ابی عدی اور بہز، ان سب نے شعبہ سے معاذ کی حدیث کے مانند انہی کی سند کے ساتھ حدیث روایت کی اور اکیلے معاذ کے سوا، ان میں سے کسی نے حدیث میں (میں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا) کے الفاظ نہیں کہے۔ سب نے یہی کہا: حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5398]
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَنْ ذَكَرْنَا.
منصور اور ابن عون دونوں نے مجاہد سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان لوگوں کی روایت کے ہم معنی حدیث بیان کی جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5399]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قال: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يقول: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى ، قال: اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ ، فَسَقَاهُ مَجُوسِيٌّ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ، فَقَالَ: إِنِّي سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ، وَلَا الدِّيبَاجَ، وَلَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَلَا تَأْكُلُوا فِي صِحَافِهَا فَإِنَّهَا لَهُمْ فِي الدُّنْيَا ".
سیف نے کہا کہ میں نے مجاہد کو کہتے ہوئے سنا، عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی مانگا تو ایک مجوسی ان کے پاس چاندی کے برتن میں پانی لایا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ریشم نہ پہنو، دیباج نہ پہنو اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پیو اور نہ ان (قیمتی دھاتوں) کی رکابیوں (پلیٹوں) میں کھاؤ کیونکہ یہ برتن دنیا میں ان (کفار) کے لیے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5400]
|
|
|
3ق: باب تَحْرِيمِ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَغَيْرِ ذٰلَكَ لِلرِّجَالِ
باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا لِلنَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ "، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا "، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
مالک نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے قریب (بازار میں) ایک ریشمی حلہ (ایک جیسی ریشمی چادروں کا جوڑا بکتے ہوئے) دیکھا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کتنا اچھا ہو اگر آپ یہ حلہ خرید لیں اور جمعہ کے دن لوگوں کے سامنے (خطبہ دینے کے لیے) اور جب کوئی وفد آپ کے پاس آئے تو اسے زیب تن فرمائیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو (دنیا میں) صرف وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ان میں سے کچھ ریشمی حلے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے یہ حلہ پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد (بن حاجب بن زرارہ جو مسجد کے دروازے کے باہر حلے بیچ رہے تھے) کے حلے کے بارے میں جو فرمایا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ حلہ تم کو پہننے کے لیے نہیں دیا۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ مکہ میں اپنے ایک بھائی کو دے دیا جو مشرک تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5401]
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
عبید اللہ اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5402]
|
|
|
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: رَأَى عُمَرُ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ يُقِيمُ بِالسُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، وَكَانَ رَجُلًا يَغْشَى الْمُلُوكَ وَيُصِيبُ مِنْهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يُقِيمُ فِي السُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، فَلَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِوُفُودِ الْعَرَبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ وَأَظُنُّهُ، قَالَ: وَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ "، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ سِيَرَاءَ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ وَبَعَثَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ، وَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حُلَّةً، وَقَالَ: شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ بِحُلَّتِهِ يَحْمِلُهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ بِالْأَمْسِ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا "، وَأَمَّا أُسَامَةُ فَرَاحَ فِي حُلَّتِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرًا، عَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْكَرَ مَا صَنَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ فَأَنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ ".
جریر بن حازم نے کہا: ہمیں نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عطارد تمیمی بازار میں ایک ریشمی حلہ (بیچنے کے لیے) اس کی قیمت بتا رہا ہے۔ یہ بادشاہوں کے پاس جایا کرتا تھا اور ان سے انعام و اکرام وصول کرتا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے عطارد کو دیکھا ہے وہ بازار میں ایک ریشمی حلہ بیچ رہا ہے، آپ اسے خرید لیں تو آپ عرب کے وفود آتے (اس وقت) آپ اس کو زیب تن فرمائیں اور میرا خیال ہے (یہ بھی) کہا: اور جمعہ کے دن بھی آپ اسے زیب تن فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا میں ریشم صرف وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔“ اس واقعے کے بعد (کچھ دن گزرے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی ریشمی حلے آئے، آپ نے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، ایک حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور ایک حلہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: ”اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں کو دوپٹے بنا دو۔“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے حلے کو اٹھا کر لائے اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے یہ حلہ میرے پاس بھیجا ہے حالانکہ آپ نے کل ہی عطارد کے حلے کے متعلق فرمایا تھا جو آپ نے فرمایا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس یہ حلہ اس لیے نہیں بھیجا کہ اسے تم خود پہنو، بلکہ میں نے تمہارے پاس یہ اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس سے کچھ (فائدہ) حاصل کرو۔“ تو رہے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ تو وہ اپنا حلہ پہن کر آگئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس طرح دیکھا جس سے انہیں پتہ چل گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا ایسا کرنا پسند نہیں آیا، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں؟ آپ ہی نے تو اسے میرے پاس بھیجا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”میں نے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم خود اس کو پہن لو۔ بلکہ میں نے اس لیے اس حلے کو تمہارے پاس بھیجا تھا کہ تم اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5403]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قال: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوَفْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، قَالَ: فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ، ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے استبرق (موٹے ریشم) کا ایک حلہ بازار میں فروخت ہوتا ہوا دیکھا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اسے خرید لیجیے اور عید اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن فرمائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ صرف ایسے شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ کہا: پھر جب تک اللہ کو منظور تھا وقت گزرا (لفظی ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی حالت میں رہے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس دیباج کا ایک جبہ بھیج دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا: ”یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ یا آپ نے (اس طرح) فرمایا تھا: ”اس کو وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ پھر آپ نے یہی میرے پاس بھیج دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس لیے کہ) تم اس کو فروخت کر دو اور اس (کی قیمت) سے اپنی ضرورت پوری کر لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5404]
|
|
|
وحدثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5405]
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوِ اشْتَرَيْتَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، فَأُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ، قَالَ: قُلْتُ أَرْسَلْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ: " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا ".
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی، کہا: مجھے ابوبکر بن حفص نے سالم سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عطارد کے خاندان والوں میں سے ایک آدمی (کے کندھوں) پر دیباج یا ریشم کی ایک قبا دیکھی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: کتنا اچھا ہو اگر آپ اس کو خرید لیں! آپ نے فرمایا: ”اس کو صرف وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ پھر (بعد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا، کہا: میں نے عرض کی: آپ نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ہے جبکہ میں اس کے متعلق آپ سے سن چکا ہوں، آپ نے اس کے بارے میں جو فرمایا تھا سو فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اسے تمہارے پاس صرف اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5406]
|
|
|
وحدثني ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِهَا وَلَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا.
روح نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوبکر بن حفص نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آل عطارد کے ایک آدمی (کے کندھوں) پر (بیچنے کے لیے ایک حلہ) دیکھا، جس طرح یحییٰ بن سعید کی حدیث ہے، مگر انہوں نے یہ الفاظ کہے: ”میں نے اسے تمہارے پاس صرف اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس لیے تمہارے پاس نہیں بھیجا تھا کہ تم (خود) اسے پہنو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5407]
|
|
|
حدثني مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال: قَالَ لِي: سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي الْإِسْتَبْرَقِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ، فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يقول: رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا.
یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث بیان کی، کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھ سے استبرق کے متعلق دریافت کیا، کہا: میں نے کہا: وہ دیباج جو موٹا اور سخت ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص (کے کندھے) پر استبرق کا ایک حلہ دیکھا، وہ اس (حلے) کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے ان سب کی حدیث کے مانند بیان کیا، البتہ اس میں یہ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ جبہ اس لیے تمہارے پاس بھیجا کہ تم اس کے ذریعے سے (اسے بیچ کر) کچھ مال حاصل کر لو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5408]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ خَالَ وَلَدِ عَطَاءٍ، قال: أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَتْ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ، وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ؟ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ مِنْهُ، وَأَمَّا مِيثَرَةُ الْأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ عَبْدِ اللَّهِ، فَإِذَا هِيَ أُرْجُوَانٌ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَسْمَاءَ فَخَبَّرْتُهَا، فَقَالَتْ: هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةَ طَيَالِسَةٍ كِسْرَوَانِيَّةٍ لَهَا لِبْنَةُ دِيبَاجٍ، وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ: هَذِهِ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ، حَتَّى قُبِضَتْ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى يُسْتَشْفَى بِهَا.
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ (کیسان) سے روایت ہے، جو کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کا مولیٰ اور عطاء کے لڑکے کا ماموں تھا نے کہا کہ مجھے اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ میں نے سنا ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام کہتے ہو، ایک تو کپڑے کو جس میں ریشمی نقش ہوں، دوسرے ارجوان (یعنی سرخ ڈھڈھاتا) زین پوش کو اور تیسرے تمام رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کو، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رجب کے مہینے کے روزوں کو کون حرام کہے گا؟ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے گا (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ روزہ علاوہ عیدین اور ایام تشریق کے رکھتے تھے اور ان کا مذہب یہی ہے کہ صوم دہر مکروہ نہیں ہے)۔ اور کپڑے کے ریشمی نقوش کا تو نے ذکر کیا ہے تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ”حریر (ریشم) وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“ تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں نقشی کپڑا بھی حریر (ریشم) نہ ہو اور ارجوانی زین پوش، تو خود عبداللہ کا زین پوش ارجوانی ہے۔ یہ سب میں نے جا کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جبہ موجود ہے، پھر انہوں نے طیالسی کسروانی جبہ (جو ایران کے بادشاہ کسریٰ کی طرف منسوب تھا) نکالا جس کے گریبان پر ریشم لگا ہوا تھا اور دامن بھی ریشمی تھے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ جبہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک ان کے پاس تھا۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو یہ جبہ میں نے لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پہنا کرتے تھے اب ہم اس کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو شفاء کے لیے پلاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5409]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ أَبِي ذِبْيَانَ ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَخْطُبُ، يقول: أَلَا لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ، فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ ".
شعبہ نے خلیفہ بن کعب ابی زبیان سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے: سنو! اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ کیونکہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (یہ حدیث بیان کرتے ہوئے) سنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم نہ پہنو، کیونکہ جس نے دنیا میں اسے پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5410]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قال: كَتَبَ إِلَيْنَا عُمَرُ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ، يَا عُتْبَةُ بْنَ فَرْقَدٍ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ كَدِّكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أَبِيكَ وَلَا مِنْ كَدِّ أُمِّكَ، فَأَشْبِعِ الْمُسْلِمِينَ فِي رِحَالِهِمْ مِمَّا تَشْبَعُ مِنْهُ فِي رَحْلِكَ، وَإِيَّاكُمْ وَالتَّنَعُّمَ وَزِيَّ أَهْلِ الشِّرْكِ وَلَبُوسَ الْحَرِيرَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لَبُوسِ الْحَرِيرِ، قَالَ: إِلَّا هَكَذَا وَرَفَعَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةَ وَضَمَّهُمَا "، قَالَ زُهَيْرٌ: قَالَ عَاصِمٌ: هَذَا فِي الْكِتَابِ، قَالَ: وَرَفَعَ زُهَيْرٌ إِصْبَعَيْهِ.
احمد بن عبداللہ بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عاصم احول نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی، کہا: جب ہم آذربائیجان میں تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہماری طرف (خط میں) لکھ بھیجا: عتبہ بن فرقد! تمہارے پاس جو مال ہے وہ نہ تمہاری کمائی سے ہے، نہ تمہارے ماں باپ کی کمائی سے، مسلمانوں کو ان کی رہائش گاہوں میں وہی کھانا پیٹ بھر کے کھلاؤ جس سے اپنی رہائش گاہ میں تم خود پیٹ بھرتے ہو اور تم لوگ عیش و عشرت سے مشرکین کے لباس اور ریشم کے پہناوؤں سے دور رہنا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے پہناوے سے منع فرمایا ہے، مگر اتنا (جائز ہے)، (یہ فرما کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں، درمیانی انگلی اور انگشت شہادت ملائیں اور انہیں ہمارے سامنے بلند فرمایا۔ زہیر نے کہا: عاصم نے کہا: یہ اس خط میں ہے، (ابن یونس نے) کہا: اور زہیر نے (بھی) اپنی دو انگلیاں اٹھائیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5411]
|
|
|
حدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ كِلَاهُمَا، عَنْ عَاصِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَرِيرِ بِمِثْلِهِ.
جریر بن عبدالحمید اور حفص بن غیاث دونوں نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ریشم کے بارے میں اس طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5412]
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهُوَ عُثْمَانُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قال: كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، فَجَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ إِلَّا مَنْ لَيْسَ لَهُ مِنْهُ شَيْءٌ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا هَكَذَا "، وَقَالَ أَبُو عُثْمَانَ: بِإِصْبَعَيْهِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ الْإِبْهَامَ، فَرُئِيتُهُمَا أَزْرَارَ الطَّيَالِسَةِ حِينَ رَأَيْتُ الطَّيَالِسَةَ.
جریر نے سلیمان تیمی سے، انہوں نے ابوعثمان سے روایت کی، کہا: ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے تو ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ریشم (کا لباس) اس کے سوا کوئی شخص نہیں پہنتا جس کا آخرت میں اس میں سے کوئی حصہ نہ ہو، سوائے اتنے (ریشم) کے (اتنی مقدار جائز ہے)۔“ ابوعثمان نے انگوٹھے کے ساتھ کی اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا۔ مجھے اس طرح معلوم ہوا کہ جیسے وہ طیلسان (نشانات والی عبا) کے بٹنوں والی جگہ (کے برابر) ہو، یہاں تک کہ میں نے (اصل) طیلسان دیکھے، (وہ اتنی مقدار ہی تھی۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5413]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، قال: كُنَّا مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ.
معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی) سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوعثمان نے حدیث بیان کی، کہا: ہم عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جریر کی حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5414]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ ، قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِأَذْرَبِيجَانَ مَعَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ أَوْ بِالشَّامِ أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْحَرِيرِ إِلَّا هَكَذَا إِصْبَعَيْنِ "، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ: فَمَا عَتَّمْنَا أَنَّهُ يَعْنِي الْأَعْلَامَ.
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی، کہا: میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا، کہا: ہمارے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب آیا، اس وقت ہم آذربائیجان میں عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے یا شام میں تھے، اس میں یہ لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی مقدار یعنی دو انگلیوں سے زیادہ ریشم پہننے سے منع کیا ہے۔ ابوعثمان نے کہا: ہم نے یہ سمجھنے میں ذرا توقف نہ کیا کہ ان کی مراد نقش و نگار سے ہے (جو کناروں پر ہوتے ہیں۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5415]
|
|
|
وحدثنا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي عُثْمَانَ.
ہشام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ، اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابوعثمان کا قول ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5416]
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: " نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ إِلَّا مَوْضِعَ إِصْبَعَيْنِ أَوْ ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ ".
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے عامر شعبی سے روایت کی، انہوں نے حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ میں خطبہ دیا اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا، سوائے دو یا تین یا چار انگلیوں (کی پٹی) کے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5417]
|
|
|
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5418]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، ويحيى بن حبيب ، وحجاج بن الشاعر ، واللفظ لابن حبيب، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ لَهُ: قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ "، فَجَاءَهُ عُمَرُ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِي، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ تَبِيعُهُ "، فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ.
ابوزبیر نے کہا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دیباج کی قبا پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی، پھر فوراً ہی آپ نے اس کو اتار دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دی۔ آپ سے کہا گیا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کو فوراً اتار دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے جبریل علیہ السلام نے اس سے منع کر دیا۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے ایک چیز ناپسند کی اور وہ مجھے دے دی! اب میرے لیے کیا (راستہ) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، میں نے تمہیں اس لیے دی کہ اس کو بیچ لو۔“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو دو ہزار درہم میں فروخت کر دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5419]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ ، قال: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ ".
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعون سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابوصالح سے سنا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حدیث سنا رہے تھے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں نے اس کو پہن لیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ محسوس کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہن لو، میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس کو کاٹ کر عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5420]
|
|
|
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، قالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ فَأَمَرَنِي فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي، وَفِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَر، فَأَطَرْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي وَلَمْ يَذْكُرْ فَأَمَرَنِي.
عبیداللہ کے والد معاذ اور محمد بن جعفر، دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعون سے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی۔ معاذ کی بیان کردہ حدیث میں ہے: ”آپ نے مجھے حکم دیا تو میں نے کاٹ کر (اپنے گھر کی) عورتوں میں بانٹ دیا۔“ اور محمد بن جعفر کی حدیث میں ہے: ”میں نے اس کو کاٹ کر (اپنے گھر کی) عورتوں میں بانٹ دیا۔“ اور انہوں نے (آپ نے مجھے حکم دیا) کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5421]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَ حَرِيرٍ، فَأَعْطَاهُ عَلِيًّا، فَقَالَ: " شَقِّقْهُ خُمُرًا بَيْنَ الْفَوَاطِمِ "، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو كُرَيْبٍ بَيْنَ النِّسْوَةِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی۔ الفاظ زہیر کے ہیں۔ کہا: ہمیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعون ثقفی سے، انہوں نے ابوصالح حنفی سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ دومۃ الجندل کے (حکمران) اکیدر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ بھیجا، آپ نے وہ کپڑا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: ”اس کو کاٹ کر (تینوں) فاطماؤں (فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ بنت اسد، یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ، اور فاطمہ بنت حمزہ رضی اللہ عنہا) میں اوڑھنیاں بانٹ دو۔“ ابوبکر اور ابوکریب نے (فاطماؤں کے مابین کے بجائے) (عورتوں کے مابین) کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5422]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةَ سِيَرَاءَ، فَخَرَجْتُ فِيهَا، " فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، قَالَ: فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي ".
زید بن وہب نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ دیا، میں اسے پہن کر نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ دیکھا، کہا: پھر میں نے اس کو پھاڑ کر اپنے گھر کی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5423]
|
|
|
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصَمِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ بِجُبَّةِ سُنْدُسٍ، فَقَالَ عُمَرُ: بَعَثْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَإِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِثَمَنِهَا ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سُندس (باریک ریشم) کا ایک جبہ بھیجا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے میرے پاس یہ جبہ بھیجا ہے حالانکہ آپ نے اس کے متعلق (پہلے) جو فرمایا تھا وہ فرما چکے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا کہ تم اس کو پہنو، میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس کی قیمت سے فائدہ اٹھاؤ۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5424]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ ".
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5425]
|
|
|
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ ".
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5426]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُّوجُ حَرِيرٍ، فَلَبِسَهُ ثُمَّ صَلَّى فِيهِ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَنَزَعَهُ نَزْعًا شَدِيدًا كَالْكَارِهِ لَهُ، ثُمَّ قَالَ: " لَا يَنْبَغِي هَذَا لِلْمُتَّقِينَ ".
لیث نے یزید بن ابی حبیب سے، انہوں نے ابوالخیر سے، انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی ایک کھلی قبا ہدیہ میں دی گئی، آپ نے وہ پہنی اور نماز پڑھی، پھر اس کو کھینچ کر اتار دیا، جیسے آپ اسے ناپسند کر رہے ہوں، پھر فرمایا: ”یہ (عبا) تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5427]
|
|
|
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
عبدالحمید نے جعفر سے کہا: مجھے یزید بن ابی حبیب نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5428]
|
|
|
3: باب إِبَاحَةِ لُبْسِ الْحَرِيرِ لِلرَّجُلِ إِذَا كَانَ بِهِ حِكَّةٌ أَوْ نَحْوُهَا:
باب: مرد کو حریر پہننا خارش وغیرہ کسی عذر سے درست ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَنْبَأَهُمْ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَخَّصَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّام ِ فِي الْقُمُصِ الْحَرِيرِ فِي السَّفَرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا أَوْ وَجَعٍ كَانَ بِهِمَا ".
ابواسامہ نے ہمیں سعید بن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی، کہا: قتادہ نے ہمیں حدیث سنائی کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو ایک سفر میں خارش کی بنا پر یا کسی اور تکلیف کی بنا پر جو انہیں لاحق ہو گئی تھی ریشم پہننے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ (حالات میں یہی مداوا میسر تھا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5429]
|
|
|
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي السَّفَرِ.
محمد بن بشر نے کہا: ہمیں سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور (سفر میں) کا ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5430]
|
|
|
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ رُخِّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا ".
وکیع نے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما اور حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہما کو انہیں لاحق ہونے والی خارش کی وجہ سے ریشم پہننے کی اجازت دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5431]
|
|
|
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5432]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ، " أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَمْلَ، فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قُمُصِ الْحَرِيرِ فِي غَزَاةٍ لَهُمَا ".
ہمام نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث سنائی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا: حضرت عبدالرحمان بن عوف اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں (کی خارش) کی شکایت کی تو آپ نے ان دونوں کو انہیں پیش آنے والی جنگ کے دوران میں ریشم پہننے کی اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5433]
|
|
|
4: باب النَّهْيِ عَنْ لُبْسِ الرَّجُلِ الثَّوْبَ الْمُعَصْفَرَ:
باب: کسم کا رنگ مرد کے لیے درست نہیں ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَي ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ ابْنَ مَعْدَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ نُفَيْرٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، قال: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ مِنْ ثِيَابِ الْكُفَّارِ فَلَا تَلْبَسْهَا ".
معاذ بن ہشام نے ہمیں بیان کیا، کہا: مجھے میرے والد نے یحییٰ (بن ابی کثیر) سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے محمد بن ابراہیم بن حارث نے حدیث سنائی کہ ابن معدان نے انہیں بتایا کہ انہیں جبیر بن نفیر نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گیروے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا: ”یہ کافروں کے کپڑے ہیں تم انہیں مت پہنو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5434]
|
|
|
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ .
یزید بن ہارون نے کہا: ہمیں ہشام نے خبر دی وکیع نے علی بن مبارک سے بیان کیا، ہشام اور علی بن مبارک دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، دونوں نے (ابن معدان کے بجائے) خالد بن معدان کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5435]
|
|
|
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَيُّوبَ الْمُوصِلِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قال: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ، فَقَالَ: " أَأُمُّكَ أَمَرَتْكَ بِهَذَا؟ " قُلْتُ: أَغْسِلُهُمَا، قَالَ: " بَلْ أَحْرِقْهُمَا ".
طاوس نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے گیروے رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تمہاری ماں نے تمہیں یہ کپڑے پہننے کا حکم دیا ہے؟“ میں نے عرض کی: میں ان کو دھو ڈالوں؟ آپ نے فرمایا: ”بلکہ ان کو جلا دو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5436]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عن نافع ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمُعَصْفَرِ، وَعَنْ تَخَتُّمِ الذَّهَبِ، وَعَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي الرُّكُوعِ ".
نافع نے ابراہیم بن عبداللہ حنین سے انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قس (علاقے) کے بنے ہوئے (ریشمی کپڑے) اور گیروے رنگ کے کپڑے پہننے سے، سونے کی انگوٹھی پہننے سے اور رکوع میں قرآن مجید پڑھنے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5437]
|
|
|
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، يَقُولُ: " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَاءَةِ وَأَنَا رَاكِعٌ، وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ وَالْمُعَصْفَرِ ".
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے ابراہیم بن عبداللہ بن حنین نے حدیث بیان کی ان کے والد نے انہیں حدیث سنائی کہ انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جب میں رکوع کر رہا ہوں قرآن مجید پڑھنے سے اور (عمومی حالت میں) سونا اور گیروے رنگ کا لباس پہننے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5438]
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قال: " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ، وَعَنْ لِبَاسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ، وَعَنْ لِبَاسِ الْمُعَصْفَرِ ".
معمر نے زہری سے، انہوں نے ابراہیم بن عبداللہ حنین سے انہوں نے اپنے والد حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونے کی انگوٹھی پہننے سے ریشم کے کپڑے پہننے سے رکوع اور سجود میں قرآن مجید پڑھنے سے اور گیروے رنگ کا لباس پہننے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5439]
|
|
|
5: باب فَضْلِ لِبَاسِ ثِيَابِ الْحِبَرَةِ:
باب: یمن کی چادروں کی فضیلت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قال: قُلْنَا لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَوْ أَعْجَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَال: الْحِبَرَةُ ".
ہمام نے کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس قسم کا لباس زیادہ محبوب تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ اچھا لگتا تھا؟ انہوں نے کہا: دھاری دار (یمنی) چادر۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5440]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: " كَانَ أَحَبَّ الثِّيَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِبَرَةُ ".
ہشام نے قتادہ سے انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کپڑوں میں سب سے زیادہ پسند دھاری دار (یمنی) چادر تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5441]
|
|
|
6: باب التَّوَاضُعِ فِي اللِّبَاسِ وَالاِقْتِصَارِ عَلَى الْغَلِيظِ مِنْهُ وَالْيَسِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَالْفِرَاشِ وَغَيْرِهِمَا وَجَوَازِ لُبْسِ الثَّوْبِ الشَّعَرِ وَمَا فِيهِ أَعْلاَمٌ:
باب: لباس میں تواضع اختیار کرنے اور سادہ اور موٹا کپڑا پہننے کے بیان میں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قال: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْنَا إِزَارًا غَلِيظًا مِمَّا يُصْنَعُ بِالْيَمَنِ وَكِسَاءً مِنَ الَّتِي يُسَمُّونَهَا الْمُلَبَّدَةَ، قَالَ: " فَأَقْسَمَتْ بِاللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فِي هَذَيْنِ الثَّوْبَيْنِ ".
سلیمان بن مغیرہ نے کہا: ہمیں حمید نے ابوبردہ سے حدیث سنائی، کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ایک موٹا تہبند جو یمن میں بنایا جاتا ہے اور ایک اوپر کی چادر (موٹی سخت اور پیوند لگے ہونے کی وجہ سے) جسے مُلبَدہ کہا جاتا ہے نکال کر دکھائی، کہا: انہوں نے اللہ کی قسم کھائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی دو کپڑوں میں داعی اجل کو لبیک کہا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5442]
|
|
|
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قال: " أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ إِزَارًا وَكِسَاءً مُلَبَّدًا، فَقَالَتْ: فِي هَذَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: فِي حَدِيثِهِ إِزَارًا غَلِيظًا ".
علی بن حجر سعدی محمد بن حاتم اور یعقوب بن ابراہیم نے (اسماعیل) ابن علیہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے ایوب سے، انہوں نے حمید بن ہلال سے، انہوں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک تہبند اور ایک پیوند لگی ہوئی موٹی چادر نکال کر دکھا اور فرمایا: ”انہی دو کپڑوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی۔“ ابن حاتم نے اپنی حدیث میں کہا: موٹا تہبند۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5443]
|
|
|
وحدثني مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: إِزَارًا غَلِيظًا.
معمر نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور کہا: موٹا تہبند۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5444]
|
|
|
وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ . ح وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ ".
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایک صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح باہر نکلے کہ آپ کے جسم پر ایک موٹی مربع لکیروں والی کالے بالوں سے بنی ہوئی چادر تھی۔ (عام سی کھردری اور کم قیمت چادر۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5445]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ وِسَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَتَّكِئُ عَلَيْهَا مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ".
عبدہ بن سلیمان نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تکیہ جس کے ساتھ آپ ٹیک لگاتے تھے چمڑے کا بنا ہوا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5446]
|
|
|
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " إِنَّمَا كَانَ فِرَاشُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يَنَامُ عَلَيْهِ أَدَمًا حَشْوُهُ لِيفٌ ".
علی بن مسہر نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر (گدا) جس پر آپ سوتے تھے، چمڑے کا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5447]
|
|
|
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَا: ضِجَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ يَنَامُ عَلَيْهِ.
ابن نمیر اور ابومعاویہ دونوں نے ہمیں ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا استراحت کا بچھونا۔ اور ابومعاویہ کی حدیث میں ہے: جس پر آپ سوتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5448]
|
|
|
7: باب جَوَازِ اتِّخَاذِ الأَنْمَاطِ:
باب: قالین یا سوزینوں کے جواز کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وإسحاق بن إبراهيم، واللفظ لعمرو وَقَالَ عَمْرٌو وَقُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا، وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا تَزَوَّجْتُ اتَّخَذْتَ أَنْمَاطًا؟ "، قُلْتُ: وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ، قَالَ: " أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ ".
قتیبہ بن سعید، عمرو ناقد اور اسحٰق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں سفیان نے ابن منکدر سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے بچھونوں کے غلاف بنائے ہیں؟“ میں نے عرض کی: ہمارے پاس غلاف کہاں سے آئے؟ آپ نے فرمایا: ”اب عنقریب ہوں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5449]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: لَمَّا تَزَوَّجْتُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اتَّخَذْتَ أَنْمَاطًا؟ "، قُلْتُ: وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ، قَالَ: " أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ "، قَالَ جَابِرٌ: وَعِنْدَ امْرَأَتِي نَمَطٌ، فَأَنَا أَقُولُ نَحِّيهِ عَنِّي، وَتَقُولُ قَدْ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ.
وکیع نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے محمد بن منکدر سے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: جب میں نے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تم نے بچھونوں کے غلاف بنائے ہیں؟“ میں نے عرض کی: ہمارے پاس غلاف کہاں سے آئے؟ آپ نے فرمایا: ”اب عنقریب ہو جائیں گے۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہما نے کہا: میری بیوی کے پاس ایک غلاف تھا میں اس سے کہتا تھا: اسے مجھ سے دور رکھو، اور وہ کہتی تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”عنقریب غلاف ہوا کریں گے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5450]
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فَأَدَعُهَا.
عبدالرحمن نے کہا: ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا: تو میں اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیتا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5451]
|
|
|
8: باب كَرَاهَةِ مَا زَادَ عَلَى الْحَاجَةِ مِنَ الْفِرَاشِ وَاللِّبَاسِ:
باب: حاجت سے زیادہ بچھونے اور لباس بنانا مکروہ ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَقُولُ: عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَهُ فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ، وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ، وَالثَّالِثُ لِلضَّيْفِ، وَالرَّابِعُ لِلشَّيْطَانِ ".
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ایک بستر مرد کے لیے ہے ایک اس کی بیوی کے لیے تیسرا بستر مہمان کے لیے اور چوتھا بستر شیطان کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5452]
|
|
|
9: باب تَحْرِيمِ جَرِّ الثَّوْبِ خُيَلاَءَ وَبَيَانِ حَدِّ مَا يَجُوزُ إِرْخَاؤُهُ إِلَيْهِ وَمَا يُسْتَحَبُّ:
باب: غرور سے (ٹخنوں سے نیچے) کپڑا لٹکانے کی حرمت کے بیان میں اور اس کا بیان کہ کہاں تک کپڑا لٹکانا مستحب ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ كلهم يخبره، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ ".
امام مالک نے نافع عبداللہ بن دینار اور زید بن اسلم سے روایت کی، ان سب نے انہیں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کر چلے اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں کرے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5453]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قالا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ كلهم، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُكِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحدثنا هَارُونُ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ كُلُّ هَؤُلَاءِ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بمثل حديث مَالِكٍ وَزَادُوا فِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
عبید اللہ ایوب لیث بن سعد اور اسامہ ان سب نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی اور یہ اضافہ کیا: قیامت کے دن (نظر نہیں کرے گا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5454]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَنَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثِيَابَةُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
عمر بن محمد نے اپنے والد سالم بن عبداللہ اور نافع سے روایت کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تکبر سے کپڑا گھسیٹ کر چلتا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر نہیں فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5455]
|
|
|
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، وَجَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ.
محارب بن دثار اور جبلہ بن سحیم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5456]
|
|
|
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ ، قال: سَمِعْتُ سَالِمًا ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں حنظلہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے سالم سے انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی: کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے تکبر سے کپڑا گھسیٹا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر تک نہیں فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5457]
|
|
|
وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يقول: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثِيَابَهُ.
اسحق بن سلیمان نے کہا: ہمیں حنظلہ بن ابی سفیان نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے سالم سے سنا، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے اسی کے مانند مگر انہوں نے (کپڑا گھسیٹا کے بجائے) (کپڑے گھسیٹے) کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5458]
|
|
|
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَنَّاقَ ، يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ فَانْتَسَبَ لَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثٍ فَعَرَفَهُ ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ، يَقُولُ: " مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ لَا يُرِيدُ بِذَلِكَ إِلَّا الْمَخِيلَةَ، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
شعبہ نے کہا: میں نے مسلم بن یناق سے سنا، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہوئے دیکھا انہوں نے اس سے پوچھا: تم کس قبیلے سے ہو؟ اس نے نسب بتایا وہ شخص بنو لیث سے تھا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو پہچان لیا اور کہا: میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ فرما رہے تھے: ”جس شخص نے اپنی ازار (کمر سے نیچے کی چادر وغیرہ) گھسیٹی اس سے اس کا ارادہ تکبر کے سوا اور نہ تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5459]
|
|
|
وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ نَافِعٍ كُلُّهُمْ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي يُونُسَ، عَنْ مُسْلِمٍ أَبِي الْحَسَنِ، وَفِي رِوَايَتِهِمْ جَمِيعًا مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ وَلَمْ يَقُولُوا ثَوْبَهُ.
عبدالملک بن ابی سلیمان ابویونس اور ابراہیم بن نافع ان سب نے مسلم بن یناق سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی مگر ابویونس کی روایت میں ہے: ابوالحسن مسلم روایت ہے اور ان سب کی روایت میں ہے: (جس نے اپنی ازار گھسیٹی) انہوں نے (اپنا کپڑا) نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5460]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ ، وألفاظهم متقاربة، قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قال: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يقول: أَمَرْتُ مُسْلِمَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى نَافِعِ بْنِ عَبْدِ الْحَارِثِ، أَنْ يَسْأَلَ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ وَأَنَا جَالِسٌ بَيْنَهُمَا: أَسَمِعْتَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ شَيْئًا؟، قَالَ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے محمد بن عباد بن جعفر سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے نافع بن عبدالحارث کے غلام مسلم بن یسار سے کہا کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کریں کہا: اور میں ان دونوں کے درمیان بیٹھا تھا (انہوں نے سوال کیا:) کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کوئی بات سنی جو تکبر سے اپنی ازار گھسیٹتا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر تک نہیں فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5461]
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَاقِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: مَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي إِزَارِي اسْتِرْخَاءٌ، فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ: " ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ: زِدْ، فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ أَتَحَرَّاهَا بَعْدُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: إِلَى أَيْنَ؟، فَقَالَ: أَنْصَافِ السَّاقَيْنِ ".
عبداللہ بن واقد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزرا میری کمر کی چادر کسی حد تک لٹک رہی تھی تو آپ نے فرمایا: ”عبداللہ! اپنی چادر اوپر کر لو۔“ میں نے اپنی چادر اوپر کر لی۔ آپ نے فرمایا: ”اور زیادہ کر لو۔“ میں نے اور زیادہ اوپر کی، پھر میں اس کو اوپر کرتا رہا حتی کہ بعض لوگوں نے عرض کی کہاں تک (اوپر کرے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پنڈلیوں کے آدھے حصوں تک۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5462]
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَرَأَى رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَجَعَلَ يَضْرِبُ الْأَرْضَ بِرِجْلِهِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَحْرَيْنِ، وَهُوَ يَقُولُ: جَاءَ الْأَمِيرُ جَاءَ الْأَمِيرُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى مَنْ يَجُرُّ إِزَارَهُ بَطَرًا ".
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، اور انہوں نے ایک شخص کو چادر گھسیٹ کر چلتے ہوئے دیکھا اس شخص نے زمین پر پاؤں مار مار کہنا شروع کر دیا: امیر آ گئے امیر آ گئے۔ وہ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) بحرین کے امیر تھے۔ (یہ دیکھ کر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”جو شخص اتراتے ہوئے زمین پر اپنی ازار گھسیٹتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی طرف نظر تک نہ فرمائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5463]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ شُعْبَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ، كَانَ مَرْوَانُ يَسْتَخْلِفُ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُسْتَخْلَفُ عَلَى الْمَدِينَةِ.
محمد بن بشار نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی۔ اور ابن مثنیٰ نے کہا: ہمیں ابن ابی عدی نے حدیث سنائی، ان دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، ابن جعفر کی روایت میں ہے: مروان ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو اپنی غیر حاضری میں مدینہ کا (قائم مقام) حاکم بنایا کرتا تھا۔ اور ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو (حاکم کی غیر حاضری میں) مدینہ کا حاکم بنایا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5464]
|
|
|
10: باب تَحْرِيمِ التَّبَخْتُرِ فِي الْمَشْيِ مَعَ إِعْجَابِهِ بِثِيَابِهِ:
باب: کپڑوں وغیرہ پر اترانا یا اکڑ کر چلنا حرام ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي قَدْ أَعْجَبَتْهُ جُمَّتُهُ وَبُرْدَاهُ إِذْ خُسِفَ بِهِ الْأَرْضُ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ".
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فرمایا: ”ایک شخص اپنے بالوں اور اپنی چادروں پر اتراتا ہوا چل رہا تھا کہ اچانک اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5465]
|
|
|
وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، قَالُوا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا.
شعبہ نے ہمیں محمد بن زیاد سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5466]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ يَمْشِي فِي بُرْدَيْهِ قَدْ أَعْجَبَتْهُ نَفْسُهُ، فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ".
عرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص اکڑتا ہوا اپنی دو چادروں میں چلا جا رہا تھا اپنے آپ پر اترا رہا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5467]
|
|
|
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قال: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عن رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَمَا رَجُلٌ يَتَبَخْتَرُ فِي بُرْدَيْنِ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ.
معمر نے ہمام بن منبہ سے خبر دی کہا: یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں سنائیں، پھر انہوں نے کچھ احادیث سنائیں، ان میں سے (ایک) یہ تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص دو چادروں میں اتراتا ہوا جا رہا تھا۔“ پھر اسی کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5468]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَتَبَخْتَرُ فِي حُلَّةٍ ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِهِمْ.
ابورفع نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”تم سے پہلے کی ایک امت میں ایک شخص چادروں کے ایک جوڑے میں اتراتا ہوا جا رہا تھا۔“ پھر ان سب کی حدیث کے مانند ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5469]
|
|
|
11: بَابُ تَحْرِيمِ خَاتَمِ الذَّهَبِ عَلَي الرِّجَالِ ، وَنَسْخِ مَا كَانَ مِنْ إبَاحَتِهِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ
باب: سونے کی انگوٹھی مرد کو حرام ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ ".
عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا: ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے نضر بن انس سے، انہوں نے بشیر نہیک سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے سونے کی انگوٹھی (پہننے، استعمال کرنے) سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5470]
|
|
|
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ الْمُثَنَّى، قال: سَمِعْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ.
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی۔ اور ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے، کہا: میں نے نضر بن انس سے سنا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5471]
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِ رَجُلٍ، فَنَزَعَهُ فَطَرَحَهُ، وَقَالَ: " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَيَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ "، فَقِيلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُذْ خَاتِمَكَ انْتَفِعْ بِهِ، قَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا آخُذُهُ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ (کی انگلی) میں سونے کی انگوٹھی دیکھی، آپ نے اس کو اتار کر پھینک دیا اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص آگ کا انگارہ اٹھاتا ہے اور اسے اپنے ہاتھ میں ڈال لیتا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا: اپنی انگوٹھی لے لو اور اس سے کوئی فائدہ اٹھا لو۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے کبھی نہیں اٹھاؤں گا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5472]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْح ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ إِذَا لَبِسَهُ، فَصَنَعَ النَّاسُ، ثُمَّ إِنَّهُ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَعَهُ، فَقَالَ: " إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ وَأَجْعَلُ فَصَّهُ مِنْ دَاخِلٍ فَرَمَى بِهِ، ثُمَّ قَالَ: " وَاللَّهِ لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا "، فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِيَحْيَى.
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی محمد بن رمح اور قتیبہ نے کہا: ہمیں لیث نے نافع سے خبر دی، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی آپ اسے پہنتے تو اس کا نگینہ ہتھیلی کے اندر کی طرف کر لیا کرتے تھے تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ اس انگوٹھی کو اتار دیا اور فرمایا: ”میں اس انگوٹھی کو پہنتا تھا تو نگینے کو اندر کی طرف کر لیتا تھا۔“ پھر آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اس کو کبھی نہیں پہنوں گا۔“ پھر لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ (حدیث کے الفاظ یحییٰ کے بیان کردہ ہیں۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5473]
|
|
|
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحدثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ خَالِدٍ، وَجَعَلَهُ فِي يَدِهِ الْيُمْنَى.
محمد بن بشر یحییٰ بن سعید خالد بن حارث اور عقبہ بن خالد سب نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کی انگوٹھی کے بارے میں حدیث روایت کی، عقبہ بن خالد کی روایت میں (عبید اللہ نے) یہ اضافہ کیا: اور آپ نے اسے دائیں ہاتھ میں پہنا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5474]
|
|
|
وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيَّبِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ . ح وحدثنا هَارُونُ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ أُسَامَةَ جَمَاعَتُهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاتَمِ الذَّهَبِ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
ایوب موسیٰ بن عقبہ اور اسامہ سب نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سونے کی انگوٹھی کے بارے میں لیث کی حدیث کی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5475]
|
|
|
12: باب لُبْسِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَلُبْسِ الْخُلَفَاءِ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چاندی کی انگوٹھی پہننے کا بیان جس میں محمد رسول اللہ نقش تھا۔ اور بعد میں خلفاء کے انگوٹھی پہننے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: " اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، فَكَانَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ كَانَ فِي يَدِ عُثْمَانَ حَتَّى وَقَعَ مِنْهُ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَتَّى وَقَعَ فِي بِئْرِ وَلَمْ يَقُلْ مِنْهُ ".
عبداللہ بن نمیر نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، پہلے وہ آپ کے ہاتھ میں تھی پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی یہاں تک کہ وہ ان (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ) سے اریس کے کنویں میں گر گئی، اس (انگوٹھی) پر محمد رسول اللہ نقش تھا۔ ابن نمیر کی روایت میں ہے: یہاں تک کہ وہ ایک کنویں میں گر گئی، انہوں نے یہ نہیں کہا: (ان سے گر گئی۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5476]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: " اتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ ثُمَّ أَلْقَاهُ، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، وَقَالَ: " لَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِ خَاتَمِي هَذَا "، وَكَانَ إِذَا لَبِسَهُ جَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ، وَهُوَ الَّذِي سَقَطَ مِنْ مُعَيْقِيبٍ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ.
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی، پھر آپ نے اس کو پھینک دیا، اس کے بعد آپ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں یہ نقش کرایا: محمد رسول اللہ اور فرمایا: ”کوئی شخص میری اس انگوٹھی کے نقش کے مطابق نقش نہ بنوائے۔“ جب آپ اس انگوٹھی کو پہنتے تو انگوٹھی کے نگینے (موٹے چوڑے حصے) کو ہتھیلی کے اندر کی طرف کر لیا کرتے تھے اور یہی وہ انگوٹھی تھی جو معیقیب (کے ہاتھ) سے چاہ اریس میں گر گئی تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5477]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ حَمَّادٍ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَقَالَ: " لِلنَّاسِ إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، وَنَقَشْتُ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ ".
حماد نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے خبر دی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، اس میں محمد رسول اللہ نقش کرایا اور لوگوں سے فرمایا: ”میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنائی ہے اور اس میں محمد رسول اللہ نقش کرایا ہے، سو کوئی شخص اس نقش کے مطابق نقش کندہ نہ کرائے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5478]
|
|
|
وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ.
اسماعیل (ابن علیہ) نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور اس میں محمد رسول اللہ (نقش کرانے) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5479]
|
|
|
13: باب فِي اتِّخَاذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انگوٹھی بنانے کا بیان، جب عجمیوں کو خطوط لکھنے کا ارادہ کیا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ، قَالَ: قَالُوا: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا، قَالَ: فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ".
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: میں نے قتادہ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روم (کے بادشاہ) کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ نے عرض کی: وہ لوگ کوئی ایسا خط نہیں پڑھتے جس پر مہر نہ لگائی گئی ہو، کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی، ایسا لگتا ہے کہ میں اب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں اس کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں، اس پر محمد رسول اللہ نقش ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5480]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْعَجَمِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ الْعَجَمَ لَا يَقْبَلُونَ إِلَّا كِتَابًا عَلَيْهِ خَاتَمٌ، فَاصْطَنَعَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ ".
معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عجم کی طرف خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہو، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ کہا: مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں (اب بھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس (انگوٹھی) کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5481]
|
|
|
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ أَخِيهِ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ : " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَر وَالنَّجَاشِيِّ، فَقِيلَ: إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ، فَصَاغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا حَلْقَتُهُ فِضَّةً، وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ".
خالد بن قیس نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ، قیصر اور نجاشی کی طرف خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کی گئی کہ وہ لوگ صرف اس خط کو قبول کرتے ہیں جس پر مہر لگی ہو، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہر ڈھلوائی، وہ چاندی کی انگوٹھی تھی اور اس میں محمد رسول اللہ نقش کرایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5482]
|
|
|
14: باب فِي طَرْحِ الْخَوَاتِمِ:
باب: انگوٹھیاں پھینکنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَبْصَرَ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا، قَالَ: " فَصَنَعَ النَّاسُ الْخَوَاتِمَ مِنْ وَرِقٍ فَلَبِسُوهُ، فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِمَهُمْ ".
ابراہیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، پھر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوائیں اور پہن لیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5483]
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ: " رَأَى فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اضْطَرَبُوا الْخَوَاتِمَ مِنْ وَرِقٍ فَلَبِسُوهَا، فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِمَهُمْ " ,
روح نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا: مجھے زیاد نے بتایا کہ ابن شہاب نے انہیں خبر دی، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، پھر سب لوگوں نے چاندی کی انگوٹھیاں ڈھلوائیں اور پہن لیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5484]
|
|
|
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابوعاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5485]
|
|
|
15: باب فِي خَاتَمِ الْوَرِقِ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کا بیان اس کا نگینہ حبشی تھا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قال: " كَانَ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرِقٍ وَكَانَ فَصُّهُ حَبَشِيًّا ".
عبداللہ بن وہب مصری نے کہا: مجھے یونس بن یزید نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبش کا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5486]
|
|
|
وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، قالا: حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَي َهُوَ الْأَنْصَارِيُّ ثم الزرقي ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : " أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ خَاتَمَ فِضَّةٍ فِي يَمِينِهِ فِيهِ فَصٌّ حَبَشِيٌّ، كَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ ".
طلحہ بن یحییٰ انصاری نے یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی پہنی، اس میں حبش کا نگینہ تھا، آپ اس کے نگینے کو ہتھیلی کی طرف رکھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5487]
|
|
|
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَي.
سلیمان بن بلال نے یونس بن یزید سے اسی سند کے ساتھ طلحہ بن یحییٰ کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5488]
|
|
|
16: باب فِي لُبْسِ الْخَاتَمِ فِي الْخِنْصَرِ مِنَ الْيَدِ:
باب: بائیں ہاتھ کی چھنگلیا میں انگوٹھی پہننے کا بیان۔
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: " كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ وَأَشَارَ إِلَى الْخِنْصِرِ مِنْ يَدِهِ الْيُسْرَى ".
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی اس انگلی میں تھی، یہ کہہ کر انہوں نے بائیں ہاتھ کی چھنگلی کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5489]
|
|
|
17: باب النَّهْيِ عَنِ التَّخَتُّمِ فِي الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا:
باب: بڑی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی میں انگوٹھی پہننے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: " نَهَانِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَجْعَلَ خَاتَمِي فِي هَذِهِ أَوِ الَّتِي تَلِيهَا، لَمْ يَدْرِ عَاصِمٌ فِي أَيِّ الثِّنْتَيْنِ "، " وَنَهَانِي عَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ، وَعَنْ جُلُوسٍ عَلَى الْمَيَاثِرِ "، قَالَ: فَأَمَّا الْقَسِّيِّ فَثِيَابٌ مُضَلَّعَةٌ يُؤْتَى بِهَا مِنْ مِصْرَ وَالشَّامِ فِيهَا شِبْهُ كَذَا، وَأَمَّا الْمَيَاثِرُ فَشَيْءٌ كَانَتْ تَجْعَلُهُ النِّسَاءُ لِبُعُولَتِهِنَّ عَلَى الرَّحْلِ كَالْقَطَائِفِ الْأُرْجُوَانِ.
ابن ادریس نے کہا: میں نے عاصم بن کلیب سے سنا، انہوں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: آپ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس انگلی یا اس کے پاس والی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع فرمایا۔ عاصم کو یہ یاد نہیں رہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کون سی دو انگلیوں میں (پہننے سے منع کیا تھا)۔ اور آپ نے مجھے قس کے ریشمی کپڑے پہننے اور ریشمی گدوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ انہوں نے (حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے کہا قَسَي (ریشمی) دھاریوں والا کپڑا مصر اور شام سے آتا تھا، اس میں کچھ شبیہیں (تصویروں جیسے نقش و نگار) ہوتی ہیں۔ اور میاثر اس کہتے ہیں جو عورتیں اپنے خاوندوں کی خاطر زین پر رکھنے کے لیے بناتی تھیں، جس طرح ارغوانی رنگ کے گدے ہوں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5490]
|
|
|
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ ابْنٍ لَأَبِي مُوسَى ، قال: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ.
سفیان نے عاصم بن کلیب سے، انہوں نے ابوموسیٰ (اشعری رضی اللہ عنہ) کے ایک بیٹے سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مطابق روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5491]
|
|
|
وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ ، قال: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، قال: نَهَى أَوْ نَهَانِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
شعبہ نے عاصم بن کلیب سے روایت کی، کہا: میں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: منع فرمایا، یا مجھے منع فرمایا، ان کی مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی (اس کے بعد) اسی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5492]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قال: قَالَ عَلِيٌّ : " نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَتَخَتَّمَ فِي إِصْبَعِي هَذِهِ أَوْ هَذِهِ، قَالَ: فَأَوْمَأَ إِلَى الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا ".
ابواحوص نے عاصم بن کلیب سے، انہوں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا کہ میں ان دونوں میں سے کسی انگلی میں انگوٹھی پہنوں، پھر انہوں نے درمیانی اور (انگوٹھے کی طرف سے) اس کے ساتھ والی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5493]
|
|
|
18: بَابُ اسْتِحُبَابِ لُبْسِ النَّعَالِ وَمَا فِي مَعْنَاهَا
باب: جوتا پہننے کے مستحب ہونے کے بیان میں۔
|
|
|
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَوْنَاهَا: " اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: میں نے ایک غزوے کے دوران میں، جو ہم نے لڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”کثرت سے (اکثر اوقات) جوتے پہنا کرو، کیونکہ آدمی جب تک جوتے پہن کر رکھتا ہے سوار ہوتا ہے۔ (اس کے پاؤں اسی طرح محفوظ رہتے ہیں جس طرح سوار کے اور وہ سوار ہی کی طرح تیزی سے چل سکتا ہے۔)“ [صحيح مسلم/حدیث: 5494]
|
|
|
19: بَابُ اسْتِحُبَابِ لُبْسِ النَّعْلِ فَي الْيُمْنٰي أَوَّلْا ، وَّالْخَلْعِ مِنَ الْيُسْرٰي أَوَّلٓا ، وَّكَرَاهَةِ الْمَشْيِ فَي نَعْلٍ وَّاحِدَةٍ
باب: پہلے داہنا جوتا پہننے اور پہلے بایاں اتارے اور صرف ایک جوتا پہن کر چلنا مکروہ ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَبْدَأْ بِالْيُمْنَى، وَإِذَا خَلَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ، وَلْيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا ".
محمد بن زیاد نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہنے تو دائیں (پاؤں) سے ابتدا کرے اور جب جوتا اتارے تو بائیں (پاؤں) سے ابتدا کرے اور دونوں جوتے پہنے یا دونوں جوتے اتار دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5495]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَمْشِ أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا أَوْ لِيَخْلَعْهُمَا جَمِيعًا ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایک جوتے میں نہ چلے، دونوں جوتے پہنے یا دونوں جوتے اتار دے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5496]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، قال: خَرَجَ إِلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى جَبْهَتِهِ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّكُمْ تَحَدَّثُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتَهْتَدُوا وَأَضِلَّ أَلَا، وَإِنِّي أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ، فَلَا يَمْشِ فِي الْأُخْرَى حَتَّى يُصْلِحَهَا ".
ابن ادریس نے اعمش سے، انہوں نے ابورزین سے روایت کی، کہا: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے، انہوں نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مار کر فرمایا: سنو! کیا تم اس طرح کی باتیں کرتے ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف باتیں منسوب کرتا ہوں تاکہ تم ہدایت پا جاؤ اور میں خود گمراہ ہو جاؤں، سن لو! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ اس کو ٹھیک کرنے سے پہلے دوسرے (جوتے) میں نہ چلے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5497]
|
|
|
وحدثينيه عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ وَأَبِي صَالِح ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى.
علی بن مسہر نے کہا: ہمیں اعمش نے ابورزین اور ابوصالح سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم معنی روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5498]
|
|
|
20: باب النَّهْيِ عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالاِحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ:
باب: ایک ہی کپڑا سارے بدن پر اوڑھنے اور ایک ہی کپڑے میں احتباء سے ممانعت۔
|
|
|
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَمْشِيَ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، وَأَنْ يَشْتَمِلَ الصَّمَّاءَ، وَأَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ ".
مالک بن انس نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ آدمی اپنے بائیں ہاتھ سے کھائے، یا ایک جوتا پہن کر چلے اور ایسا کپڑا پہنے جس میں باہر نکالنے والے اعضاء (سر، ہاتھ، پاؤں) کے لیے سوراخ نہ ہوں اور ایک ہی کپڑا اس طرح کمر اور گھٹنوں کے گرد باندھے کہ اس کی شرمگاہ ظاہر ہو۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5499]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . ح وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ أَوْ مَنِ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ، فَلَا يَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ، وَلَا يَمْشِ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ، وَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَحْتَبِي بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ، وَلَا يَلْتَحِفْ الصَّمَّاءَ ".
ابوخیثمہ (زہیر) نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (یا انہوں نے کہا:) میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کسی کا تسمہ ٹوٹ جائے یا (فرمایا) جس شخص کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ایک (ہی) جوتے میں نہ چلے یہاں تک کہ اپنا تسمہ ٹھیک کر لے، ایک موزے میں بھی نہ چلے، اپنے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے، نہ (اکڑوں بیٹھ کر) اکلوتے کپڑے کو کمر اور گھٹنوں کے گرد باندھے، نہ ہاتھ پاؤں بند کر دینے والا لباس پہنے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5500]
|
|
|
21: باب فِي مَنْعِ الاِسْتِلْقَاءِ عَلَى الظَّهْرِ وَوَضْعِ إِحْدَى الرِّجْلَيْنِ عَلَى الأُخْرَى:
باب: چت لیٹنے اور چت لیٹ کر ایک پاؤں دوسرے پر رکھنے سے منع کرنے کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ ".
لیث نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ پاؤں وغیرہ کو بند کر دینے والا لباس پہننے، ایک کپڑے سے کمر اور گھٹنوں کو باندھنے اور چت لیٹ کر ایک پاؤں کو دوسرے کے اوپر (رکھتے ہوئے اس کو) اٹھانے سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5501]
|
|
|
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ حَاتِمٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدٍ، وَلَا تَحْتَبِ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ، وَلَا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ، وَلَا تَشْتَمِلِ الصَّمَّاءَ، وَلَا تَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْكَ عَلَى الْأُخْرَى إِذَا اسْتَلْقَيْتَ ".
ابن جریج نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک جوتا پہن کر نہ چلو اور ایک چادر (ہو تو اس) کو گھٹنے کھڑے کر کے ان کے اور کمر کے گرد نہ باندھو، بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ، ہاتھ پاؤں بند کر دینے والا کپڑا نہ پہنو اور جب چت لیٹے ہو تو ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ (کھڑی کر کے اس) پر نہ رکھو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5502]
|
|
|
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي الْأَخْنَسِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَسْتَلْقِيَنَّ أَحَدُكُمْ ثُمَّ يَضَعُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ".
عبیداللہ بن اخنس نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص چت لیٹ کر اپنی ٹانگ کو دوسری ٹانگ (کھڑی کر کے اس) پر نہ رکھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5503]
|
|
|
22: باب فِي إِبَاحَةِ الاِسْتِلْقَاءِ وَوَضْعِ إِحْدَى الرِّجْلَيْنِ عَلَى الأُخْرَى:
باب: چت لیٹ کر ایک ٹانگ کو دوسری ٹانگ پر رکھنے کی اجازت کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، " أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى ".
مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے اپنے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں اس حالت میں چت لیٹے ہوئے دیکھا کہ آپ نے (دونوں ٹانگیں زمین پر بچھائے ہوئے) ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5504]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ كُلُّهُمْ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قالا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّبِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ابن عیینہ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5505]
|
|
|
23: باب النَّهْيِ عَنِ التَّزَعْفُرِ لِلرِّجَالِ:
باب: مرد کو زعفران لگانا منع ہے یا زعفران میں رنگا ہوا کپڑا پہننا۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي، وَأَبُو الرَّبِيعِ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ التَّزَعْفُرِ "، قَالَ قُتَيْبَةُ: قَالَ حَمَّادٌ: يَعْنِي لِلرِّجَالِ.
یحییٰ بن یحییٰ، ابوربیع اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی۔ یحییٰ نے کہا: ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفرانی رنگ (سے رنگے کپڑے پہننے) سے منع فرمایا۔ قتیبہ نے کہا کہ حماد نے کہا: یعنی مردوں کو (منع فرمایا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5506]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ ".
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عبدالعزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو زعفرانی رنگ (پہننے) سے منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5507]
|
|
|
24: باب اسْتِحْبَابِ خِضَابِ الشَّيْبِ بِصُفْرَةٍ أَوْ حُمْرَةٍ وَتَحْرِيمِهِ بِالسَّوَادِ
باب: بڑھاپے میں بالوں پر زرد رنگ یا سرخ رنگ کے ساتھ خضاب کرنے کے استحباب اور سیاہ رنگ کے خضاب کی حرمت کے بیان میں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: " أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ أَوْ جَاءَ عَامَ الْفَتْحِ أَوْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ مِثْلُ الثَّغَامِ أَوِ الثَّغَامَةِ، فَأَمَرَ أَوْ فَأُمِرَ بِهِ إِلَى نِسَائِهِ، قَالَ: غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ ".
ابوخیثمہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: فتح مکہ کے سال یا فتح مکہ کے دن حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا، وہ آئے اور ان کے سر اور داڑھی کے بال ثغام یا ثغامہ (کے سفید پھولوں) کی طرح تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر کی عورتوں کو حکم دیا، یا ان کے بارے میں (ان کے گھر کی عورتوں کو) حکم دیا گیا، فرمایا: ”اس (سفیدی) کو کسی چیز (اور رنگ) سے بدل دیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5508]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: " أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ ".
ابن جریج نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، کہا: فتح مکہ کے دن حضرت ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو لایا گیا، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفیدی میں ثغامہ (کے سفید پھولوں) کی طرح تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (سفیدی) کو کسی چیز سے تبدیل کر دو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5509]
|
|
|
25: باب فِي مُخَالَفَةِ الْيَهُودِ فِي الصَّبْغِ:
باب: رنگنے میں یہود کی مخالفت کرنے کے بیان میں۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود اور نصاریٰ (بالوں کو) رنگ نہیں لگاتے تم ان کی مخالفت کرو (بالوں کو رنگ لگاؤ۔)“ [صحيح مسلم/حدیث: 5510]
|
|
|
26: باب تَحْرِيمِ تَصْوِيرِ صُورَةِ الْحَيَوَانِ وَتَحْرِيمِ اتِّخَاذِ مَا فِيهِ صُورَةٌ غَيْرُ مُمْتَهَنَةٍ بِالْفَرْشِ وَنَحْوِهِ وَأَنَّ الْمَلَائِكَةَ عَلَيْهِمْ السَّلَام لَا يَدْخُلُونَ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ
باب: جانور کی تصویر بنانا حرام ہے اور فرشتوں کا اس گھر میں داخل نہ ہونا جس گھر میں کتا اور تصویر ہو اس کا بیان۔
|
|
|
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا، قَالَتْ: وَاعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فِي سَاعَةٍ يَأْتِيهِ فِيهَا، فَجَاءَتْ تِلْكَ السَّاعَةُ وَلَمْ يَأْتِهِ، وَفِي يَدِهِ عَصًا، فَأَلْقَاهَا مِنْ يَدِهِ، وَقَالَ: " مَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَا رُسُلُهُ " ثُمَّ الْتَفَتَ فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ سَرِيرِهِ، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ: " مَتَى دَخَلَ هَذَا الْكَلْبُ هَاهُنَا؟ "، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاعَدْتَنِي فَجَلَسْتُ لَكَ فَلَمْ تَأْتِ "، فَقَالَ: " مَنَعَنِي الْكَلْبُ الَّذِي كَانَ فِي بَيْتِكَ إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
عبدالعزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا کہ وہ ایک خاص گھڑی میں ان کے پاس آئیں گے، چنانچہ وہ گھڑی آ گئی لیکن جبریل علیہ السلام نہ آئے۔ (اس وقت) آپ کے دست مبارک میں ایک عصا تھی۔ آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے (نیچے) پھینکا اور فرمایا: ”نہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی کرتا ہے نہ رسول (خلاف ورزی کرتے ہیں۔)“ (جبریل امین علیہ السلام بھی وحی لے کر انبیاء علیہم السلام کی طرف آنے والے اللہ کے رسول تھے) پھر آپ نے دھیان دیا تو ایک چارپائی کے نیچے کتے کا ایک پلا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”عائشہ! یہ کتا یہاں کب گھسا؟“ انہوں نے کہا: واللہ! مجھے بالکل پتا نہیں چلا۔ آپ نے حکم دیا تو اس (پلے) کو نکال دیا گیا، پھر جبریل علیہ السلام تشریف لے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا میں آپ کی خاطر بیٹھا رہا لیکن آپ نہیں آئے۔“ انہوں نے کہا آپ کے گھر میں جو کتا تھا، مجھے اس نے روک لیا ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس میں جہاں تصویر ہو۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5511]
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ جِبْرِيلَ وَعَدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتِيَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يُطَوِّلْهُ كَتَطْوِيلِ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ.
ہمیں وہب نے اسی سند کے ساتھ ابوحازم سے حدیث سنائی کہ جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ آپ کے پاس آئیں گے پھر حدیث بیان کی اور ابوحازم کے بیٹے کی طرح لمبی تفصیل نہیں بتائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5512]
|
|
|
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ السَّبَّاقِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، قال: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، فَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي أَمَ وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي "، قَالَ: فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً، فَنَضَحَ مَكَانَهُ فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ لَهُ: " قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ؟ "، قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّهُ يَأْمُرُ بِقَتْلِ كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ، وَيَتْرُكُ كَلْبَ الْحَائِطِ الْكَبِيرِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بتایا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فکرمندی کی حالت میں صبح کی۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آج دن (کے آغاز) سے آپ کی حالت معمول کے خلاف دیکھ رہی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج رات مجھ سے ملیں گے لیکن وہ نہیں ملے۔ بات یہ ہے کہ انہوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلافی نہیں کی۔“ کہا: تو اس روز پورا دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت یہی رہی پھر ان کے دل میں کتے کے ایک پلے کا خیال بیٹھ گیا جو ہمارے (ایک بستر کے نیچے بن جانے والے) ایک خیمہ (نما حصے) میں تھا۔ آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے نکال دیا گیا، پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے پانی لیا اور اس جگہ پر چھڑک دیا۔ جب شام ہوئی تو جبریل علیہ السلام آ کر آپ سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے کل رات ملیں گے؟ انہوں نے کہا ہاں بالکل لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو۔ پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (آوارہ یا بے کار) کتوں کو مارنے دینے کا حکم دیا، یہاں تک کہ آپ باغ یا کھیت کے چھوٹے کتے کو بھی (جو رکھوالی نہیں کر سکتا) مارنے کا حکم دے رہے تھے اور باغ کھیت کے بڑے کتے کو چھوڑ رہے تھے۔ (ایسے کتے گھروں سے باہر ہی رہتے ہیں اور واقعی رکھوالی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5513]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ يَحْيَى وَإِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقال الآخران: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عبید اللہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس گھر میں جس میں) کوئی تصویر ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5514]
|
|
|
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ ".
یونس نے مجھے ابن شہاب سے، خبر دی انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ فرما رہے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس گھر میں جس میں) کوئی تصویر ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5515]
|
|
|
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ، وَذِكْرِهِ الْأَخْبَارَ فِي الْإِسْنَادِ.
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس کی حدیث کے مانند اور سند میں خبر دینے کی صراحت کرتے ہوئے روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5516]
|
|
|
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ "، قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى زَيْدٌ بَعْدُ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ فِيهِ صُورَةٌ، قَالَ: فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ رَبِيبِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا زَيْد عَنِ الصُّوَرِ يَوْمَ الْأَوَّلِ، فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ حِينَ، قَالَ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ.
لیث نے ہمیں بکیر سے حدیث سنائی انہوں نے بسر بن سعید سے، انہوں نے زید بن خالد سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر ہو۔“ بسر نے کہا: پھر اس کے بعد حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے۔ ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو (دیکھا) ان کے دروازے پر ایک پردہ تھا جس میں تصویر (بنی ہوئی) تھی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے لے پالک عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا حضرت زید نے پہلے دن (جب ملاقات ہوئی تھی) ہمیں تصویر (کی ممانعت) کے بارے میں خبر (حدیث) بیان نہیں کی تھی؟ تو عبید اللہ نے کہا: جب انہوں نے (کپڑے پر بنے ہوئے نقش کے سوا) کے الفاظ کہے تھے تو کیا تم نے نہیں سنے تھے؟ [صحيح مسلم/حدیث: 5517]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ الْأَشَجّ حَدَّثَهُ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ، وَمَعَ بُسْرٍ عُبَيْدُ اللَّهِ الْخَوْلَانِيُّ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ "، قَالَ بُسْرٌ: فَمَرِضَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا نَحْنُ فِي بَيْتِهِ بِسِتْرٍ فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ: أَلَمْ يُحَدِّثْنَا فِي التَّصَاوِيرِ، قَالَ، إِنَّهُ قَالَ: إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ أَلَمْ تَسْمَعْهُ؟، قُلْتُ: لَا: قَالَ: بَلَى قَدْ ذَكَرَ ذَلِكَ.
مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ انہیں بکیر بن اشج نے حدیث سنائی، انہیں بسر بن سعید نے حدیث سنائی کہ زید بن خالد جہنی نے انہیں حدیث سنائی اور (اس وقت) بسر کے ساتھ عبید اللہ خولانی تھے۔ (کہا) حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو۔“ بسر نے کہا: پھر حضرت زید بن خالد بیمار ہو گئے، ہم ان کی عیادت کے لیے گئے تو ہم نے ان کے گھر میں ایک پردہ دیکھا جس میں تصویریں تھیں میں نے عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا (حضرت زید بن خالد نے) ہمیں تصاویر کے متعلق حدیث بیان نہیں کی تھی؟ (عبید اللہ نے) کہا: انہوں نے (ساتھ ہی یہ) کہا تھا: (سوائے کپڑے کے نقش کے) کیا آپ نے نہیں سنا تھا؟ میں نے کہا: نہیں انہوں نے کہا: کیوں نہیں! انہوں نے اس کا ذکر کیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5518]
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِح ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، قال: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ "،
بنو نجار کے آزاد کردہ غلام ابوحباب سعید بن یسار نے حضرت زید بن خالد جہنی سے، انہوں نے حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو، نہ (اس میں جہاں) مجسمے ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5519]
|
|
|
قَالَ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ ، فَقُلْتُ: إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ "، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ؟، فَقَالَتْ: لَا، وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ، فَعَلَ رَأَيْتُهُ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ، فَأَخَذْتُ نَمَطًا، فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْبَابِ، فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ، فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ أَوْ قَطَعَهُ، وَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ "، قَالَتْ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ، وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ.
(سعید بن یسار نے) کہا: (یہ حدیث سن کر) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور کہا: انہوں (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ) نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو نہ (اس میں جہاں کسی طرح کی تصویریں ہوں۔)“ کیا آپ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی جو انہوں نے بیان کی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں (میں نے اس طرح یہ الفاظ نہیں سنے) لیکن میں تمہیں بتاتی ہوں جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنے غزوے میں تشریف لے گئے تو میں نے نیچے بچھانے کا ایک موٹا سا کپڑا لیا اور دروازے پر اس کا پردہ بنا دیا جب آپ آئے اور آپ نے وہ کپڑا دیکھا تو میں نے آپ کے چہرہ انور پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے، پھر آپ نے اسے پکڑ کر کھینچا اور اسے پھاڑ دیا اس کے (دو ٹکڑے کر دیے اور فرمایا: ”اللہ نے ہمیں پتھروں اور مٹی کو کپڑے پہنانے کا حکم نہیں دیا۔“) (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: پھر ہم نے اس کپڑے میں سے دو تکیے (بنانے کے لیے دو ٹکڑے) کاٹ لیے اور میں نے ان دونوں کے اندر کھجوروں کی چھال بھر دی۔ آپ نے اس کے سبب سے مجھ پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5520]
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ لَنَا سِتْرٌ فِيهِ تِمْثَالُ طَائِرٍ، وَكَانَ الدَّاخِلُ إِذَا دَخَلَ اسْتَقْبَلَهُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَوِّلِي هَذَا، فَإِنِّي كُلَّمَا دَخَلْتُ فَرَأَيْتُهُ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا "، قَالَتْ: وَكَانَتْ لَنَا قَطِيفَةٌ كُنَّا نَقُولُ عَلَمُهَا حَرِيرٌ فَكُنَّا نَلْبَسُهَا.
اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے، انہوں نے عزرہ سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان سے، انہوں نے سعد بن ہشام سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ہمارے ہاں ایک پردہ تھا جس میں پرندے کی تصویر تھی، جب کوئی شخص اندر آتا یہ تصویر اس کے سامنے آ جاتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”اس پردے کو ہٹا دو کیونکہ میں جب بھی اندر آتا ہوں اور اس پردے کو دیکھتا ہوں تو دنیا کو یاد کرتا ہوں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہمارے پاس ایک چادر تھی، ہم کہتے تھے کہ اس کے کناروں پر سلا ہوا کپڑا ریشم ہے، ہم اس چادر کو پہنتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5521]
|
|
|
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَزَادَ فِيهِ يُرِيدُ عَبْدَ الْأَعْلَى، فَلَمْ يَأْمُرْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِهِ.
محمد بن مثنیٰ نے کہا: ہمیں ابن ابی عدی اور عبدالاعلیٰ نے اسی سند کے ساتھ (داود سے) حدیث بیان کی، ابن مثنیٰ نے کہا: اور اس میں انہوں نے۔۔۔ ان کی مراد عبدالاعلیٰ سے ہے۔ یہ اضافہ کیا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس چادر کو کاٹنے کا حکم نہیں دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5522]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، وَقَدْ سَتَّرْتُ عَلَى بَابِي دُرْنُوكًا فِيهِ الْخَيْلُ ذَوَاتُ الْأَجْنِحَةِ، فَأَمَرَنِي فَنَزَعْتُهُ ".
ابواسامہ نے ہشام (بن عروہ) سے، انہوںژه اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر سے واپس آئے، میں نے روئیں دار کپڑا دروازے کا پردہ بنایا ہوا تھا جس پر پروں والے گھوڑوں کی تصویریں تھیں تو آپ نے مجھے (اتارنے کا) حکم دیا تو میں نے اس کو اتار دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5523]
|
|
|
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ عَبْدَةَ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ.
عبدہ اور وکیع نے اسی سند کے ساتھ ہمیں (ہشام بن عروہ سے) حدیث بیان کی، عبدہ کی حدیث میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے) کے الفاظ نہیں ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5524]
|
|
|
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مُتَسَتِّرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ صُورَةٌ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ ثُمَّ تَنَاوَلَ السِّتْرَ فَهَتَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ ".
ابراہیم بن سعد نے زہری سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے ایک موٹے سے کپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا، اس پر تصویر تھی تو آپ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا۔ پھر آپ نے پردہ کو پکڑا اور پھاڑ دیا، پھر فرمایا: ”قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے لوگوں میں سے وہ (بھی) ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی (جاندار) اشیاء کے جیسی (مشابہ) بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5525]
|
|
|
وحدثني حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: ثُمَّ أَهْوَى إِلَى الْقِرَامِ فَهَتَكَهُ بِيَدِهِ.
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے، (آگے اسی طرح) جس طرح ابراہیم بن سعد کی حدیث ہے، البتہ انہوں نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس (پردے) کی طرف لپکے اور اپنے ہاتھ سے اس کو پھاڑ دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5526]
|
|
|
وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِهِمَا إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا لَمْ يَذْكُرَا مِنْ.
سفیان بن عیینہ اور معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، ان دونوں کی حدیث میں ہے: (لوگوں میں سے شدید ترین عذاب میں پڑے ہوئے وہ لوگ ہوں گے) انہوں نے (میں سے) کے الفاظ بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5527]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ سَتَرْتُ سَهْوَةً لِي بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَلَمَّا رَآهُ هَتَكَهُ وَتَلَوَّنَ وَجْهُهُ، وَقَالَ يَا عَائِشَةُ: " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُضَاهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَطَعْنَاهُ، فَجَعَلْنَا مِنْهُ وِسَادَةً أَوْ وِسَادَتَيْنِ.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہہ رہی تھیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور میں نے اپنے طاق پر موٹا سا کپڑے کا پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں تھیں۔ جب آپ نے اس کے پردے کو دیکھا تو اس کو پھاڑ ڈالا آپ کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا: ”عائشہ! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے شدید عذاب کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی مشابہت کریں گے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہم نے اس پردے کو کاٹ دیا اور اس سے ایک یا دو تکیے بنا لیے (ایک یا دو کے بارے میں شک راوی کی طرف سے ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5528]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهُ كَانَ لَهَا ثَوْبٌ فِيهِ تَصَاوِيرُ مَمْدُودٌ إِلَى سَهْوَةٍ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَيْهِ، فَقَالَ: " أَخِّرِيهِ عَنِّي "، قَالَتْ: فَأَخَّرْتُهُ فَجَعَلْتُهُ وَسَائِدَ.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے قاسم سے سنا، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ ان کے پاس ایک کپڑا تھا جس میں تصویریں تھیں، وہ طاق پر لٹکا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو مجھ سے ہٹا دو۔“ تو میں نے اس کو ہٹا دیا اور اس کے تکیے بنا لیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5529]
|
|
|
وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ . ح وحدثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ جَمِيعًا، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
سعید بن عامر اور ابوعامر عقدی نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5530]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ وَقَدْ سَتَرْتُ نَمَطًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَنَحَّاهُ فَاتَّخَذْتُ مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ ".
وکیع نے سفیان سے، انہوں نے عبدالرحمان بن قاسم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، اور میں نے ایک بچھانے والے کپڑے کا پردہ بنایا ہوا تھا، اس میں تصویریں تھیں، آپ نے اس کو ہٹوا دیا اور میں نے اس سے دو تکیے بنا لیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5531]
|
|
|
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَعَهُ، قَالَتْ: فَقَطَعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ "، فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ حِينَئِذٍ يُقَالُ لَهُ رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ: أَفَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْكُرُ أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا، قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ: لَا، قَالَ: لَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ.
بکیر نے کہا: عبدالرحمان بن قاسم نے انہیں حدیث بیان کی، انہیں ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ایک پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصاویر تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے تو آپ نے اس پردے کو اتار دیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس کو کاٹ کر دو تکیے بنا لیے، (جب یہ حدیث بیان کی جا رہی تھی) تو اس مجلس میں ایک شخص نے، جو ربیعہ بن عطاء کہلاتے تھے، بنو زہری کے مولیٰ تھے، کہا: کیا آپ نے ابومحمد (قاسم بن محمد) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں (تکیوں) کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے؟ تو (عبدالرحمان) ابن قاسم نے کہا: نہیں، اس نے کہا: لیکن میں نے یقیناً (ان سے) یہ بات سنی تھی۔ ان کی مراد (ان کے والد) قاسم بن محمد سے تھی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5532]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قرأت على مالك ، عن نافع ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفْتُ أَوْ فَعُرِفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ؟ "، فَقَالَتْ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ایک (چھوٹا سا بیٹھنے کے لیے) گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (گدے) کو دیکھا تو آپ دروازے پر ٹھہر گئے اور اندر داخل نہ ہوئے، میں نے آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے، (یا کہا:) آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس ہوئے، تو انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں (سچے دل سے) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے توبہ کرتی ہوں۔ میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گدا کیسا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے یہ آپ کے لیے خریدا ہے تا کہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان تصویروں (کے بنانے) والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: تم نے جو (صورتیں) تخلیق کی ہیں، ان کو زندہ کرو۔“ پھر فرمایا: ”جس گھر میں تصویریں ہوں ان میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5533]
|
|
|
وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْح ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ . ح وحدثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حدثنا أبى عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَخِي الْمَاجِشُونِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَبَعْضُهُمْ أَتَمُّ حَدِيثًا لَهُ مِنْ بَعْضٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَخِي الْمَاجِشُونِ، قَالَتْ: فَأَخَذْتُهُ فَجَعَلْتُهُ مِرْفَقَتَيْنِ فَكَانَ يَرْتَفِقُ بِهِمَا فِي الْبَيْتِ.
قتیبہ اور ابن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی، اسحاق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں ثقفی نے خبر دی، کہا: ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی، عبدالوارث بن عبدالصمد نے کہا: ہمیں میرے والد نے میرے دادا کے واسطے سے ایوب سے حدیث بیان کی، ہارون بن سعید ایلی نے کہا: ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے اسامہ بن زید نے خبر دی، ابوبکر اسحاق نے کہا: ہمیں ابوسلمہ خزاعی نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ماجثون کے بھتیجے عبدالعزیز نے عبیداللہ بن عمر سے خبر دی، ان سب (لیث بن سعد، ایوب، اسامہ بن زید اور عبیداللہ بن عمر) نے نافع سے، انہوں نے قاسم سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث روایت کی، ان میں سے بعض کی حدیث بعض کی نسبت زیادہ مکمل ہے اور (ابوسلمہ خزاعی نے) ابن ماجثون کے بھتیجے سے روایت کردہ حدیث میں یہ اضافہ کیا: انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: میں نے اس گدے کو لے کر اس کے دو تکیے بنا لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں ان کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5534]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ جميعا، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حدثنا أبى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الَّذِينَ يَصْنَعُونَ الصُّوَرَ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ ".
عبید اللہ نے نافع سے حدیث بیان کی، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگ تصویریں بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا، ان سے کہا جائے گا جن کو تم نے تخلیق کیا (اب ان کو زندہ کرو۔)“ [صحيح مسلم/حدیث: 5535]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قالا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا الثَّقَفِيُّ كُلُّهُمْ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِع، عَن ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ایوب نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، اسی حدیث کے مانند روایت کی، جس طرح عبید اللہ نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5536]
|
|
|
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ "، وَلَمْ يَذْكُرْ الْأَشَجُّ إِنَّ.
عثمان بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی، ابوسعید اشج نے کہا: ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں اعمش نے ابوضحیٰ سے حدیث بیان کی، انہوں نے مسروق سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب میں (گرفتار تصویر بنانے والے ہوں گے۔)“ اشج نے (یقیناً) (کا لفظ) بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5537]
|
|
|
وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ كُلُّهُمْ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ . ح وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي رِوَايَةِ يَحْيَي، وَأَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، إِنَّ مِنْ أَشَدِّ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابًا الْمُصَوِّرُونَ، وَحَدِيثُ سُفْيَانَ كَحَدِيثِ وَكِيعٍ.
یحییٰ بن یحییٰ ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب سب نے ابومعاویہ سے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی، (ابومعاویہ اور سفیان) دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، ابومعاویہ سے یحییٰ اور ابوکریب کی روایت میں ہے: (قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب پانے والوں میں سے تصویر بنانے والے ہیں۔) اور سفیان کی حدیث وکیع کی حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5538]
|
|
|
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، قال: كُنْتُ مَعَ مَسْرُوقٍ فِي بَيْتٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ: هَذَا تَمَاثِيلُ كِسْرَى، فَقُلْتُ: لَا هَذَا تَمَاثِيلُ مَرْيَمَ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ : أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يقول: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُصَوِّرُونَ ".
منصور نے مسلم بن صبیح (ابوضحیٰ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں مسروق کے ساتھ ایک مکان میں تھا جس میں حضرت مریم علیہا السلام کی تصاویر تھیں (یا مجسمے تھے) مسروق نے کہا: یہ کسریٰ کی تصاویر ہیں؟ میں نے کہا: نہیں یہ مریم علیہا السلام کی تصاویر ہیں۔ مسروق نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب تصویریں (یا مجسمے) بنانے والوں کو ہو گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5539]
|
|
|
قَالَ مُسْلِم: قَرَأْتُ عَلَى نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، قال: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ فَأَفْتِنِي فِيهَا؟ فَقَالَ لَهُ: ادْنُ مِنِّي فَدَنَا مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: ادْنُ مِنِّي فَدَنَا حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، قَالَ: أُنَبِّئُكَ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كُلُّ مُصَوِّرٍ فِي النَّارِ يَجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَتُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ "، وقَالَ: إِنْ كُنْتَ لَا بُدَّ فَاعِلًا فَاصْنَعِ الشَّجَرَ، وَمَا لَا نَفْسَ لَهُ فَأَقَرَّ بِهِ نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ.
امام مسلم نے کہا: میں نے نصر بن علی جہضمی کے ساتھ عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ سے حدیث پڑھی کہ ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق نے (حضرت حسن بصری کے بھائی) سعید بن ابی حسن سے روایت بیان کی، کہا: ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اس نے کہا: میں یہ (جانداروں کی) تصویریں بناتا ہوں، آپ مجھے ان کے متعلق فتویٰ دیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے قریب آؤ وہ قریب ہوا انہوں نے پھر فرمایا میرے قریب آؤ وہ (مزید قریب آیا) آپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”میں تم کو وہ بات بتاتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ہر تصویر بنانے والا جہنم میں ہو گا اور اس کی بنائی ہوئی تصویر کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایک جاندار بنائے گا وہ اسے جہنم میں عذاب دے گا۔“ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تم نے ضرور (یہی کام) کرنا ہے تو درختوں کی اور جن چیزوں میں جان نہیں ان کی تصویر بناؤ۔ نصر بن علی نے (جب میں نے ان کے سامنے یہ حدیث پڑھی) اس کا اقرار کیا (کہ انہوں نے عبدالاعلیٰ بن عبدالاعلیٰ سے اسی طرح روایت کی۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5540]
|
|
|
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَعَلَ يُفْتِي، لا يَقُولُ: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ أُصَوِّرُ هَذِهِ الصُّوَرَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: ادْنُهْ فَدَنَا الرَّجُلُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ "
سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے (پوچھنے والوں کے مطالبے پر) فتوے دینے شروع کیے اور یہ نہیں کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا ہے حتیٰ کہ ایک شخص نے ان سے سوال کیا کہ میں یہ تصویریں بناتا ہوں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: قریب آؤ۔ وہ شخص قریب آیا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”جس شخص نے دنیا میں کوئی تصویر بنائی اس کو اس بات کا مکلف بنایا جائے گا کہ وہ قیامت کے دن اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5541]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قالا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حدثنا أبى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرَ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
قتادہ نے نضر بن انس سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا۔ اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5542]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قال: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي دَارِ مَرْوَانَ، فَرَأَى فِيهَا تَصَاوِيرَ، فَقَالَ: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي فَلْيَخْلُقُوا ذَرَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا حَبَّةً أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً ".
ابن فضیل نے عمارہ سے، انہوں نے ابوزرعہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مروان کے گھر گیا انہوں نے اس گھر میں تصویریں دیکھیں تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو میری مخلوق کی طرح مخلوق بنانے چلا ہو۔ وہ ایک ذرہ تو بنائیں یا ایک دانہ تو بنائیں یا ایک جو تو بنائیں!“ [صحيح مسلم/حدیث: 5543]
|
|
|
وحدثينيه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قال: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ دَارًا تُبْنَى بِالْمَدِينَةِ لِسَعِيدٍ أَوْ لِمَرْوَانَ، قَالَ: فَرَأَى مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ فِي الدَّارِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوْ لِيَخْلُقُوا شَعِيرَةً.
جریر نے عمارہ سے، انہوں نے ابوزرعہ سے روایت کی، کہا: میں اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مدینہ میں ایک گھر میں گئے جو سعید (ابن عاص) رضی اللہ عنہ یا مروان (ابن حکم) کے لیے بنایا جا رہا تھا، وہاں انہوں نے ایک مصور کو گھر میں تصویر بناتے ہوئے دیکھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور اسی کے مانند روایت کی اور (جریر نے) (یا ایک جو تو بنائیں) (کے الفاظ) بیان نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5544]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ تَصَاوِيرُ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں مجسمے (بت) یا تصویریں ہوں۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5545]
|
|
|
27: باب كَرَاهَةِ الْكَلْبِ وَالْجَرَسِ فِي السَّفَرِ:
باب: سفر میں گھنٹی اور کتا رکھنے کی کراہت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ، وَلَا جَرَسٌ ".
بشر بن مفضل نے کہا: ہمیں سہیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(رحمت کے) فرشتے (سفر کے) ان رفیقوں کے ساتھ نہیں چلتے جن کے درمیان کتا ہو اور نہ (ان کے ساتھ جن کے پاس) گھنٹی ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5546]
|
|
|
وحدثني زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
جریر اور عبدالعزیز دراوردی دونوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5547]
|
|
|
وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْجَرَسُ مَزَامِيرُ الشَّيْطَانِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھنٹی شیطان کی بانسری ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5548]
|
|
|
28: باب كَرَاهَةِ قِلاَدَةِ الْوَتَرِ فِي رَقَبَةِ الْبَعِيرِ:
باب: تانت کا ہار اونٹ کے گلے میں ڈالنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، أَنَّ أَبَا بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَسُولًا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ: حَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: " وَالنَّاسُ فِي مَبِيتِهِمْ لَا يَبْقَيَنَّ فِي رَقَبَةِ بَعِيرٍ قِلَادَةٌ مِنْ وَتَرٍ أَوْ قِلَادَةٌ إِلَّا قُطِعَتْ "، قَالَ مَالِكٌ: أُرَى ذَلِكَ مِنَ الْعَيْنِ.
امام مالک نے عبداللہ بن ابی بکر سے، انہوں نے عباد بن تمیم سے روایت کی کہ حضرت ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قاصد کو بھیجا۔ عبداللہ بن ابی بکر نے کہا: میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا: لوگ اپنی اپنی سونے کی جگہ میں پہنچ چکے تھے۔ (اور حکم دیا): ”کسی اونٹ کی گردن میں تانت (کمان کے دونوں سرے جوڑنے والی مضبوط باریک چمڑے کی ڈوری) کا ہار یا کوئی بھی ہار نہ چھوڑا جائے مگر اسے کاٹ دیا جائے۔“ امام مالک نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ یہ (ہار) نظر بد سے بچانے کے لیے (گلے میں ڈالے جاتے) تھے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5549]
|
|
|
29: باب النَّهْيِ عَنْ ضَرْبِ الْحَيَوَانِ فِي وَجْهِهِ وَوَسْمِهِ فِيهِ:
باب: جانور کے منہ پر مارنے اور داغ لگانے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ، وَعَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْهِ ".
علی بن مسہر نے ابن جریج سے، انہوں نے ابوزبیر سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ (جانور کو) منہ پر مارا جائے یا منہ پر نشانی ثبت کی جائے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5550]
|
|
|
وحدثني هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ كِلَاهُمَا، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
حجاج بن محمد اور محمد بن بکر دونوں نے ابن جریج سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا: سابقہ حدیث کے مانند۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5551]
|
|
|
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ ".
معقل نے ابوہریرہ سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک گدھا گزرا جس کے منہ پر داغا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اسے (منہ پر) داغا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہو۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5552]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ نَاعِمًا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا مَوْسُومَ الْوَجْهِ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ، قَالَ: " فَوَاللَّهِ لَا أَسِمُهُ إِلَّا فِي أَقْصَى شَيْءٍ مِنَ الْوَجْهِ "، فَأَمَرَ بِحِمَارٍ لَهُ فَكُوِيَ فِي جَاعِرَتَيْهِ فَهُوَ أَوَّلُ مَنْ كَوَى الْجَاعِرَتَيْنِ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ناعم ابوعبداللہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گدھا دیکھا جس کے چہرے کو نشانی لگانے کے لیے داغا گیا تھا آپ نے اس کو بہت برا خیال کیا، انہوں نے (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما) نے کہا: اللہ کی قسم! میں جو حصہ چہرے سے سب سے زیادہ دور ہو اس کے علاوہ کسی جگہ نشانی ثبت نہیں کرتا۔ پھر انہوں نے اپنے گدھے کے بارے میں حکم دیا تو اس کی سرین (کے وہ حصے جہاں دم ہلاتے وقت لگتی ہے) پر نشانی ثبت کی گئی یہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے اس جگہ داغنے کا آغاز کیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5553]
|
|
|
30: باب جَوَازِ وَسْمِ الْحَيَوَانِ غَيْرِ الآدَمِيِّ فِي غَيْرِ الْوَجْهِ وَنَدْبِهِ فِي نَعَمِ الزَّكَاةِ وَالْجِزْيَةِ:
باب: سوائے آدمی کے جانور کو داغ دینا درست ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ لِي: يَا أَنَسُ، انْظُرْ هَذَا الْغُلَامَ فَلَا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ، قَالَ: فَغَدَوْتُ، فَإِذَا هُوَ فِي الْحَائِطِ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ جَوْنِيَةٌ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ ".
محمد (ابن سیرین) نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا: انس! اس بچے کا دھیان رکھو، اس کے منہ میں کوئی چیز نہ جائے یہاں تک کہ صبح تم اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ آپ اسے گھٹی دیں گے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ میں صبح کے وقت آیا، اس وقت آپ باغ میں تھے، آپ کے جسم پر ایک کالے رنگ کی بنوجون کی بنائی ہوئی منقش اونی چادر تھی اور آپ ان سواری کے جانوروں (کے جسم) پر نشان ثبت فرما رہے تھے جو فتح مکہ کے زمانے میں (فتح مکہ کے فوراً بعد جنگ حنین کے موقع پر) آپ کو حاصل ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5554]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ: أَنَّ أُمَّهُ حِينَ وَلَدَتِ انْطَلَقُوا بِالصَّبِيِّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ، قَالَ: فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِرْبَدٍ يَسِمُ غَنَمًا "، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْثَرُ عِلْمِي أَنَّهُ قَالَ فِي آذَانِهَا.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، کہ جب ان کی والدہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو وہ لوگ اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تا کہ آپ اسے گھٹی دیں اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اونٹوں کے ایک باڑے میں تھے اور بکریوں کو نشان لگا رہے تھے شعبہ نے کہا: میرا غالب گمان یہ ہے کہ انہوں نے (حضرت انس رضی اللہ عنہ) نے کہا تھا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) ان (بکریوں) کے کانوں پر نشان لگا رہے تھے۔ (اونٹوں کو لگانے کے بعد بکریوں کو بھی وہیں لا کر نشان لگا رہے تھے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5555]
|
|
|
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا ، يقول: " دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرْبَدًا وَهُوَ يَسِمُ غَنَمًا، قَالَ: أَحْسِبُهُ، قَالَ فِي آذَانِهَا ".
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی، کہا: مجھے ہشام بن زید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اونٹوں کے باڑے میں گئے، اس وقت آپ بکریوں کو نشان لگا رہے تھے (، شعبہ نے) کہا: میرا خیال ہے (ہشام نے) کہا: کہ ان (بکریوں) کے کانوں پر (نشان لگا رہے تھے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5556]
|
|
|
وحدثينيه يَحْيَي بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَيَحْيَي ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ كلهم، عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
خالد بن حارث محمد (ابن جعفر غندر) یحییٰ (بن سعید قطان) اور عبدالرحمان (بن مہدی) سب نے شعبہ سے، اسی سند سے، اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5557]
|
|
|
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قال: " رَأَيْتُ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِيسَمَ، وَهُوَ يَسِمُ إِبِلَ الصَّدَقَةِ ".
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں نشان لگانے والا آلہ دیکھا، آپ صدقے میں آئے ہوئے اونٹوں پر نشان ثبت فرما رہے تھے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5558]
|
|
|
31: باب كَرَاهَةِ الْقَزَعِ:
باب: قزع کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَي يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْقَزَعِ "، قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: وَمَا الْقَزَعُ؟، قَالَ: يُحْلَقُ بَعْضُ رَأْسِ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكُ بَعْضٌ.
یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے روایت کی کہا: مجھے عمر بن نافع نے اپنے والد سے خبر دی۔ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”قزع“ سے منع فرمایا، میں نے نافع سے پوچھا: قزع کیا ہے؟ انہوں نے کہا: بچے کے سر کے کچھ حصے کے بال مونڈ دیے جائیں اور کچھ حصے کو چھوڑ دیا جائے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5559]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أبى قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَجَعَلَ التَّفْسِيرَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ مِنْ قَوْلِ عُبَيْدِ اللَّهِ.
ابواسامہ اور عبداللہ بن نمیر دونوں نے کہا: ہمیں عبید اللہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، اور انہوں نے ابواسامہ کی حدیث میں (قزع کی) تفسیر کو عبید اللہ کا قول قرار دیا ہے۔ (ان کے شاگردوں کے سامنے عبید اللہ نے یہ وضاحت نافع کی طرف منسوب کیے بغیر بیان کی۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5560]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ الْغَطَفَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ نَافِعٍ. ح وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ ، بِإِسْنَادِ عُبَيْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ وَأَلْحَقَا التَّفْسِيرَ فِي الْحَدِيثِ.
عثمان بن عثمان غطفانی اور روح (بن قاسم) نے عمر بن نافع سے عبید اللہ کی سند سے اسی کے مانند حدیث بیان کی اور دونوں نے تفسیر (قزع کی وضاحت) کو حدیث کا لاحقہ بنایا۔ (الگ سے بیان نہیں کیا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5561]
|
|
|
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا أَبُو جَعْفَرٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّرَّاجِ كُلُّهُمْ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.
ایوب اور عبدالرحمن سراج نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5562]
|
|
|
32: باب النَّهْيِ عَنِ الْجُلُوسِ فِي الطُّرُقَاتِ وَإِعْطَاءِ الطَّرِيقِ حَقَّهُ:
باب: راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت اور حقوق کی ادائیگی کے بیان میں۔
|
|
|
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ "، قَالُوا: وَمَا حَقُّهُ؟، قَالَ: " غَضُّ الْبَصَرِ، وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ ".
حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے، انہوں نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔“ لوگوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے اپنی مجلسوں میں بیٹھے بغیر چارہ نہیں وہی ہم ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم بیٹھے بغیر نہیں رہ سکتے تو راستے کا (جہاں مجلس ہے) حق ادا کرو۔“ لوگوں نے پوچھا: راستے کا حق کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نگاہیں جھکا کر رکھنا (چلنے والوں کے لیے) تکلیف کا سبب بننے والی چیزوں کو ہٹانا سلام کا جواب دینا، اچھی بات کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5563]
|
|
|
وحدثنا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ كِلَاهُمَا، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عبدالعزیز بن محمد مدنی اور ہشام بن سعید ان دونوں نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5564]
|
|
|
33: باب تَحْرِيمِ فِعْلِ الْوَاصِلَةِ وَالْمُسْتَوْصِلَةِ وَالْوَاشِمَةِ وَالْمُسْتَوْشِمَةِ وَالنَّامِصَةِ وَالْمُتَنَمِّصَةِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ:
باب: بالوں میں جوڑا لگانا اور لگوانا، گودنا اور گدانا اور منہ کی روئیں نکالنا اور نکلوانا، دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنا حرام ہے۔
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قالت: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيِّسًا أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ؟، فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ".
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے فاطمہ بنت منذر رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری بیٹی دلہن ہے۔ اسے خسرہ (بعض روایات میں چیچک) نکلا تھا تو اس کے بال جھڑ گئے ہیں کیا میں (اس کے بالوں کے ساتھ) دوسرے بال جوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی (دونوں) پر لعنت کی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5565]
|
|
|
حَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي وَعَبْدَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ وَكِيعًا وَشُعْبَةَ فِي حَدِيثِهِمَا فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا.
عبداللہ بن نمیر، عبدہ، وکیع اور شعبہ سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ابومعاویہ کی حدیث کی طرح روایت بیان کی، مگر وکیع اور شعبہ نے اپنی روایت میں (اس کے بال چھدرے ہو گئے ہیں) کے الفاظ کہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5566]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: " إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعَرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَنَهَاهَا ".
منصور کی والدہ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے، اس کے بال جھڑ گئے ہیں، اس کا شوہر اس کو خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے، اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کے بالوں کے ساتھ دوسرے بال جوڑ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرما دیا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5567]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّطَ شَعَرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ، فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ: " فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ ".
عمرو بن مرہ نے کہا: میں نے حسن بن مسلم سے سنا، وہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی، وہ بیمار ہو گئی تھی جس سے اس کے بال جھڑ گئے تھے ان لوگوں نے اس کے بالوں کے ساتھ بال جوڑنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں میں جوڑ لگانے والی اور جوڑ لگوانے والی (دونوں) پر لعنت فرمائی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5568]
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَةً لَهَا، فَاشْتَكَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لُعِنَ الْوَاصِلَاتُ ".
زید بن حباب نے ابراہیم بن نافع سے روایت کی، کہا: مجھے حسن بن مسلم بن یناق نے صفیہ بنت شیبہ سے خبر دی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی، وہ بیمار ہو گئی تو اس کے بال جھڑ گئے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اس کا خاوند اس کی رخصتی چاہتا ہے، کیا میں اس کے بالوں میں جوڑ لگاؤں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5569]
|
|
|
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: لُعِنَ الْمُوصِلَاتُ.
عبدالرحمان بن مہدی نے ابراہیم بن نافع سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا: ”جوڑ لگانے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5570]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ، وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ ".
عبیداللہ نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوڑ لگانے والی، جوڑ لگوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5571]
|
|
|
وحدثينيه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
صخر بن جویریہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5572]
|
|
|
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، واللفظ لإسحاق، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قال: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالنَّامِصَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ "، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، وَكَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَتَتْهُ، فَقَالَتْ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ، فَقَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7 فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: فَإِنِّي أَرَى شَيْئًا مِنْ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ الْآنَ، قَالَ: اذْهَبِي فَانْظُرِي، قَالَ: فَدَخَلَتْ عَلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، فَقَالَ: أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ نُجَامِعْهَا.
جریر نے منصور سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: کہ اللہ تعالیٰ نے لعنت کی گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھیڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں پر اور دانتوں کو خوبصورتی کے لیے کشادہ کرنے والیوں پر (تاکہ خوبصورت و کمسن معلوم ہوں) اور اللہ تعالیٰ کی خلقت (پیدائش) بدلنے والیوں پر۔ پھر یہ خبر بنی اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا اور وہ قرآن کی قاریہ تھی، تو وہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور بولی کہ مجھے کیا خبر پہنچی ہے کہ تم نے گودنے والیوں اور گدوانے والیوں پر اور منہ کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور اکھڑوانے والیوں، اور دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں پر اور اللہ تعالیٰ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت کی ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں جس پر اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اور یہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے؟ وہ عورت بولی کہ میں تو دو جلدوں میں جس قدر قرآن تھا، پڑھ ڈالا لیکن مجھے نہیں ملا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو نے پڑھا ہے تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تجھے ضرور ملا ہو گا کہ ’جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بتلائیں اس کو تھامے رہو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو‘ (الحشر: 7) وہ عورت بولی کہ ان باتوں میں سے تو بعض باتیں تمہاری عورت بھی کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جا دیکھ۔ وہ ان کی عورت کے پاس گئی تو کچھ نہ پایا۔ پھر لوٹ کر آئی اور کہنے لگی کہ ان میں سے کوئی بات میں نے نہیں دیکھی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا تو ہم ان کے ساتھ مل کر نہ رہتے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5573]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهِلٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَفِي حَدِيثِ مُفَضَّلٍ، الْوَاشِمَاتِ وَالْمَوْشُومَاتِ.
سفیان اور مفضل بن مہلہل دونوں نے منصور سے، اسی سند میں جریر کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی مگر سفیان کی حدیث میں: (گودنے والیاں اور گدوانے والیاں) ہے، جبکہ مفضل کی روایت میں (گودنے والیاں اور جن (کے جسم) پر گودا جاتا ہے) کے الفاظ ہیں۔ (مقصود ایک ہی ہے۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5574]
|
|
|
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ الْحَدِيثَ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَرَّدًا عَنْ سَائِرِ الْقِصَّةِ مِنْ ذِكْرِ أُمِّ يَعْقُوبَ.
شعبہ نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، ام یعقوب رضی اللہ عنہا کے پورے واقعے کے بغیر ہی بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5575]
|
|
|
وحدثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.
اعمش نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5576]
|
|
|
وحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قالا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا ".
ابوزبیر نے بتایا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو اپنے سر (کے بالوں) کے ساتھ کسی بھی چیز کو جوڑنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5577]
|
|
|
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَيَقُولُ: " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے روایت کی، انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے، جس سال انہوں نے حج کیا، سنا، وہ منبر پر تھے، انہوں نے بالوں کی کٹی ہوئی ایک لٹ پکڑی جو ایک محافظ کے ہاتھ میں تھی (جسے عورتیں بالوں سے جوڑتی تھیں) اور کہہ رہے تھے: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ ان (لٹوں وغیرہ) سے منع فرماتے تھے اور فرما رہے تھے: ”جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے ان کو اپنانا شروع کیا تو وہ ہلاک ہو گئیں۔“ (جب جھوٹ کی بنیادوں پر تعمیر عیش و تنعم کا یہ مرحلہ آگیا تو زوال بھی آگیا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5578]
|
|
|
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ، إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ.
سفیان بن عیینہ، یونس اور معمر، ان سب نے زہری سے مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا مگر معمر کی حدیث میں: (بنی اسرائیل کو عذاب میں مبتلا کر دیا گیا) کے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5579]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قال: قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا، وَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ، فَقَالَ: " مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ ".
عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی، کہا: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مدینے آئے، ہمیں خطبہ دیا اور بالوں کا ایک گچھہ نکال کر فرمایا: میں نہیں سمجھتا تھا کہ یہود کے علاوہ کوئی اور بھی ایسا کرتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے اس کو جھوٹ (فریب کاری) کا نام دیا تھا۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5580]
|
|
|
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قالا: أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ ، قال: ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّكُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سَوْءٍ، " وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الزُّورِ "، قَالَ: وَجَاءَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَى رَأْسِهَا خِرْقَةٌ، قَالَ مُعَاوِيَةُ: أَلَا وَهَذَا الزُّورُ، قَالَ قَتَادَةُ: يَعْنِي مَا يُكَثِّرُ بِهِ النِّسَاءُ أَشْعَارَهُنَّ مِنَ الْخِرَقِ.
قتادہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ ایک دن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگوں نے ایک بری ہیت نکال لی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ سے منع فرمایا ہے، پھر ایک شخص عصا لیے ہوئے آیا جس کے سرے پر کپڑے کی ایک دھجی (لیر) تھی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سنو! یہ جھوٹ ہے۔ قتادہ نے کہا: اس سے مراد وہ دھجیاں (لیریں) ہیں جن کے ذریعے سے عورتیں اپنے بالوں کو زیادہ کرتی ہیں۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5581]
|
|
|
34: باب النِّسَاءِ الْكَاسِيَاتِ الْعَارِيَاتِ الْمَائِلاَتِ الْمُمِيلاَتِ:
باب: ان عورتوں کا بیان جو پہنتی ہیں لیکن ننگی ہیں۔ آپ سیدھی راہ سے مڑ گئیں خاوند کو بھی موڑ دیتی ہیں۔
|
|
|
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ، وَنِسَاءٌ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ، رُءُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوزخیوں کی دو قسمیں ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا۔ ایک تو وہ لوگ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کے کوڑے ہیں، وہ لوگوں کو اس سے مارتے ہیں دوسرے وہ عورتیں جو پہنتی ہیں مگر ننگی ہیں (یعنی ستر کے لائق لباس نہیں ہیں)، سیدھی راہ سے بہکانے والی، خود بہکنے والی اور ان کے سر بختی (اونٹ کی ایک قسم ہے) اونٹ کی کوہان کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے وہ جنت میں نہ جائیں گی بلکہ اس کی خوشبو بھی ان کو نہ ملے گی حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی دور سے آ رہی ہو گی۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5582]
|
|
|
35: باب النَّهْيِ عَنِ التَّزْوِيرِ فِي اللِّبَاسِ وَغَيْرِهِ وَالتَّشَبُّعِ بِمَا لَمْ يُعْطَ:
باب: فریب کا لباس پہننے کی اور جو نہ ہو اس کا ذکر کرنے کہنے کی ممانعت۔
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً، قالت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقُولُ إِنَّ زَوْجِي أَعْطَانِي مَا لَمْ يُعْطِنِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ ".
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول! (اگر) میں یہ کہوں: مجھے (یہ سب) میرے خاوند نے دیا ہے جو اس نے نہیں دیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو (کھانا) نہیں ملا، خود کو اس سے سیر ظاہر کرنے والا، جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5583]
|
|
|
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ مَالِ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ ".
عبدہ نے کہا: ہمیں ہشام نے فاطمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا: میری ایک سوکن ہے، کیا مجھے اس بات پر گناہ ہو گا کہ میں خود کو اپنے خاوند کے ایسے مال سے سیر ہو جانے والی ظاہر کروں جو اس نے مجھے نہیں دیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نہیں دیا گیا اس (مال یا کھانے) سے خود کو سیر ظاہر کرنے والا جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5584]
|
|
|
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ابواسامہ اور ابومعاویہ، دونوں نے ہشام سے، اس سند کے ساتھ روایت کی۔ [صحيح مسلم/حدیث: 5585]
|
|