صحيح مسلم حدیث نمبر: 5578
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2127
Sahih Muslim 5578
کتاب #37: لباس اور زینت کے احکام
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ، وَيَقُولُ: " إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے، انہوں نے حمید بن عبدالرحمان بن عوف سے روایت کی، انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے، جس سال انہوں نے حج کیا، سنا، وہ منبر پر تھے، انہوں نے بالوں کی کٹی ہوئی ایک لٹ پکڑی جو ایک محافظ کے ہاتھ میں تھی (جسے عورتیں بالوں سے جوڑتی تھیں) اور کہہ رہے تھے: مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ ان (لٹوں وغیرہ) سے منع فرماتے تھے اور فرما رہے تھے: ”جب بنی اسرائیل کی عورتوں نے ان کو اپنانا شروع کیا تو وہ ہلاک ہو گئیں۔“ (جب جھوٹ کی بنیادوں پر تعمیر عیش و تنعم کا یہ مرحلہ آگیا تو زوال بھی آگیا۔) [صحيح مسلم/حدیث: 5578]