صحيح مسلم حدیث نمبر: 5533
🌍 ترقیم فواد عبد الباقی: 2107.13
Sahih Muslim 5533
کتاب #37: لباس اور زینت کے احکام
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قرأت على مالك ، عن نافع ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفْتُ أَوْ فَعُرِفَتْ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَمَاذَا أَذْنَبْتُ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ؟ "، فَقَالَتْ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ "، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ ".
امام مالک رحمہ اللہ نے نافع سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ایک (چھوٹا سا بیٹھنے کے لیے) گدا خریدا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (گدے) کو دیکھا تو آپ دروازے پر ٹھہر گئے اور اندر داخل نہ ہوئے، میں نے آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس کیے، (یا کہا:) آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار محسوس ہوئے، تو انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں (سچے دل سے) اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے توبہ کرتی ہوں۔ میں نے کیا گناہ کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ گدا کیسا ہے؟“ انہوں نے کہا: میں نے یہ آپ کے لیے خریدا ہے تا کہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان تصویروں (کے بنانے) والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا: تم نے جو (صورتیں) تخلیق کی ہیں، ان کو زندہ کرو۔“ پھر فرمایا: ”جس گھر میں تصویریں ہوں ان میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ [صحيح مسلم/حدیث: 5533]