احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

31: باب مِنْهُ
باب:۔۔۔
سنن ترمذي حدیث نمبر: 2467
حدثنا هناد، حدثنا ابو معاوية، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، قالت: " توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندنا شطر من شعير فاكلنا منه ما شاء الله، ثم قلت للجارية: كيليه فكالته، فلم يلبث ان فني، قالت: فلو كنا تركناه لاكلنا منه اكثر من ذلك " , قال ابو عيسى: هذا حديث صحيح، ومعنى قولها شطر تعني شيئا.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی، اس وقت ہمارے پاس تھوڑی سی جو تھی، پھر جتنی مدت تک اللہ تعالیٰ نے چاہا ہم نے اسی سے کھایا، پھر ہم نے لونڈی کو جو تولنے کے لیے کہا، تو اس نے تولا، پھر بقیہ جو بھی جلد ہی ختم ہو گئے، لیکن اگر ہم اسے چھوڑ دیتے اور نہ تولتے تو اس میں سے اس سے زیادہ مدت تک کھاتے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہاں عائشہ رضی الله عنہا کے قول «شطر» کا معنی قدرے اور تھوڑا ہے۔

تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 17227) (صحیح)

وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں فقر و تنگ دستی کی زندگی گزار نے والوں کے لیے نصیحت ہے کہ وہ اہل دنیا اور ان کو میسر آسائشوں کی طرف نہ دیکھیں، بلکہ رسول اور ازواج مطہرات کی زندگیوں کو سامنے رکھیں، اور فقر و فاقہ کی زندگی کو اپنے لیے باعث سعادت سمجھیں، یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے پینے کی چیزوں کو بلا تولے ناپے استعمال کیا جائے تو اس میں برکت ہوتی ہے، اور جس حدیث میں طعام کے تولنے کے بارے میں ہے کہ تولنے سے برکت ہوتی ہے وہ طعام بیچنے کے موقع سے ہے، کیونکہ اس وقت دو آدمیوں کے اپنے اپنے حقوق کی جانکاری کی بات ہے۔

Share this: