احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

50: بَابُ: تَرْكِ السُّجُودِ فِي النَّجْمِ
باب: سورۃ النجم میں سجدہ نہ کرنے کا بیان۔
سنن نسائي حدیث نمبر: 961
اخبرنا علي بن حجر، قال: انبانا إسماعيل وهو ابن جعفر، عن يزيد بن خصيفة، عن يزيد بن عبد الله بن قسيط، عن عطاء بن يسار، انه سال زيد بن ثابت عن القراءة مع الإمام. فقال:"لا قراءة مع الإمام في شيء وزعم انه قرا على رسول الله صلى الله عليه وسلم والنجم إذا هوى فلم يسجد".
عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے ساتھ قرآت کرنے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا: امام کے ساتھ قرآت نہیں ہے ۱؎، اور انہوں نے کہا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «والنجم اذا ھوی» پڑھ کر سنایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ نہیں کیا ۲؎۔

تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/سجود القرآن 6 (1072، 1073) (بدون قولہ في القرأة)، صحیح مسلم/المساجد 20 (577)، سنن ابی داود/الصلاة 329 (1404) مختصراً، سنن الترمذی/فیہ 287 (576) مختصراً، (تحفة الأشراف: 3733)، ح صحیح مسلم/5/183، 186، سنن الدارمی/الصلاة 164 (1513) (صحیح)

وضاحت: ۱؎: یہ ان کی اپنی سمجھ کے مطابق ان کا فتویٰ ہے، جو مرفوع حدیث کے مخالف ہے، یا مطلب یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ کے علاوہ قرات میں امام کے ساتھ قرات نہیں ہے۔ ۲؎: اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مفصل میں سجدہ نہیں ہے، اور سورۃ النجم کے سجدہ کے سلسلہ میں جو روایتیں وارد ہیں، انہیں یہ لوگ منسوخ کہتے ہیں، کیونکہ یہ مکہ کا واقعہ تھا، لیکن جمہور جو مفصل کے سجدوں کے قائل ہیں، اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ قاری سامع کے لیے امام کا درجہ رکھتا ہے چونکہ زید قاری تھے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سامع تھے، زید نے اپنی کمسنی کی وجہ سے سجدہ نہیں کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی اتباع میں سجدہ نہیں کیا، دوسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ آپ اس وقت باوضو نہیں تھے اس لیے آپ نے بروقت سجدہ نہیں کیا جسے زید نے سمجھا کہ آپ نے سجدہ ہی نہیں کیا ہے، تیسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ سجدہ واجب نہیں ہے، اس لیے آپ نے بیان جواز کے لیے کبھی کبھی انہیں ترک بھی کر دیا ہے۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

Share this: