احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

22: بَابٌ في أَيِّ الأَيَّامِ يَحْتَجِمُ
باب: کن دنوں میں پچھنا لگوایا جائے؟
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 3487
حدثنا سويد بن سعيد , حدثنا عثمان بن مطر , عن الحسن بن ابي جعفر , عن محمد بن جحادة , عن نافع , عن ابن عمر , قال: يا نافع , قد تبيغ بي الدم , فالتمس لي حجاما واجعله رفيقا إن استطعت , ولا تجعله شيخا كبيرا ولا صبيا صغيرا , فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم , يقول:"الحجامة على الريق امثل , وفيه شفاء وبركة , وتزيد في العقل وفي الحفظ , فاحتجموا على بركة الله يوم الخميس , واجتنبوا الحجامة يوم الاربعاء , والجمعة والسبت , ويوم الاحد تحريا , واحتجموا يوم الاثنين والثلاثاء , فإنه اليوم الذي عافى الله فيه ايوب من البلاء , وضربه بالبلاء يوم الاربعاء , فإنه لا يبدو جذام ولا برص , إلا يوم الاربعاء او ليلة الاربعاء".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے (اپنے غلام) نافع سے کہا: نافع! میرے خون میں جوش ہے، لہٰذا کسی پچھنا لگانے والے کو میرے لیے تلاش کرو، اور اگر ہو سکے تو کسی نرم مزاج کو لاؤ، زیادہ بوڑھا اور کم سن بچہ نہ ہو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: پچھنا نہار منہ لگانا بہتر ہے، اس میں شفاء اور برکت ہے، اس سے عقل بڑھتی ہے اور قوت حافظہ تیز ہوتی ہے، تو جمعرات کو پچھنا لگواؤ، اللہ برکت دے گا، البتہ بدھ، جمعہ، سنیچر اور اتوار کو پچھنا لگوانے سے بچو، اور ان دنوں کا قصد نہ کرو، پھر سوموار (دوشنبہ) اور منگل کے دن پچھنا لگواؤ، اس لیے کہ منگل وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کو بیماری سے نجات دی، اور بدھ کے دن آپ کو اس بیماری میں مبتلا کیا تھا، چنانچہ جذام (کوڑھ) اور برص (سفید داغ) کی بیماریاں (عام طور سے) بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں پیدا ہوتی ہیں۔

تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8421، ومصباح الزجاجة: 1215) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: 474)

قال الشيخ الألباني: حسن

قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
ضعيف ¤ الحسن بن أبي جعفر : ضعيف (ت 334) وعثمان بن مطر : ضعيف (تقدم:3486) وللحديث شواهد ضعيفة

Share this: