احادیث کے تمام کتب میں حدیث تلاش کیجئیے

116: . بَابُ: مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا اخْتَلَطَ عَلَيْهَا الدَّمُ فَلَمْ تَقِفْ عَلَى أَيَّامِ حَيْضِهَا
باب: حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق نہ کر سکنے والی اور اپنے حیض کے دن کا علم نہ رکھنے والی مستحاضہ کا بیان۔
سنن ابن ماجه حدیث نمبر: 626
حدثنا محمد بن يحيى ، حدثنا ابو المغيرة ، حدثنا الاوزاعي ، عن الزهري ، عن عروة بن الزبير ، وعمرة بنت عبد الرحمن ، ان عائشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت: استحيضت ام حبيبة بنت جحش وهي تحت عبد الرحمن بن عوف سبع سنين، فشكت ذلك إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:"إن هذه ليست بالحيضة، وإنما هو عرق، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغتسلي وصلي"، قالت عائشة: فكانت تغتسل لكل صلاة، ثم تصلي، وكانت تقعد في مركن لاختها زينب بنت جحش، حتى إن حمرة الدم لتعلو الماء.
عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھی، جو سات برس تک استحاضہ میں مبتلا رہیں، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حیض نہیں ہے، بلکہ ایک رگ کا خون ہے، جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو غسل کرو، اور نماز پڑھو۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتیں پھر نماز پڑھتی تھیں، اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ایک ٹب میں بیٹھا کرتی تھیں یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آ جاتی ۱؎۔

تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض 27 (327)، صحیح مسلم/الحیض 14 (334)، سنن ابی داود/الطہارة 110 (285)، 111 (288)، سنن النسائی/الطہارة 134 (203)، الحیض 4 (357)، (تحفة الأشراف: 16516، 17922)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/83، 141، 187)، سنن الدارمی/الطہارة 84 (801) (صحیح)

وضاحت: ۱؎: ہر نماز کے لئے وضو کرنا ہی صحیح ترین طریقہ ہے، اور اگر کسی میں طاقت ہے، اور اس کے لئے سہولت ہے تو ہر نماز کے لئے غسل بھی کر سکتی ہے، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنے طور پر ہر نماز کے لئے غسل کرتی تھیں۔

قال الشيخ الألباني: صحيح

Share this: